’سویت، طالبان یا امریکی جنگ، نقصان ہمیشہ افغان عوام کا ہوا‘

طویل علالت کے بعد انتقال کرنے والے معروف صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے 40 سال افغان امور کوور کیے اور دنیا میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔

رحیم اللہ یوسفزئی گذشتہ 40 سالوں سے افغانستان کے معاملات پر رپورٹنگ کر رہے تھے اور پوری دنیا میں افغان امور ماہر سمجھے جاتے تھے۔

وہ ان چند صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف اہم افغان سیاسی رہنماؤں بلکہ اسامہ بن لادن اور طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کے بھی انٹرویو کیے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے دو سال پہلے افغانستان میں سوویت جنگ کے 40 سال پورے ہونے پر رحیم اللہ یوسفزئی کا انٹرویو کیا جس میں انہوں نے افغانستان کے اس وقت کے سیاسی حالات، اپنے ذاتی تجربات اور طالبان کی حکومت ختم ہونے کے حوالے سے بات کی تھی۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے اس وقت بتایا تھا کہ افغانستان کا مسئلہ اتنا پیچیدہ ہے کہ وہ حل ہی نہیں ہو رہا ہے کیونکہ اس میں مختلف سٹیک ہولڈرز دخل اندازی کرتے ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ افغانستان کے سیاسی منظر نامے میں افغان عوام خود کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے اور اگر کوئی فیصلہ بھی کریں تو ان کو کوئی نہیں سنتا اور جو عوام چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں یاد ہے کہ اپریل 1978 سے افغانستان کا مسئلہ چلا آرہا ہے جب کمیونسٹ حکومت کو ختم کیا گیا۔  

انہوں نے اس وقت افغانستان کے سابق صدر نجیب اللہ کا انٹرویو بھی کیا تھا اور اس وقت جب وہ طورخم سے کابل جا رہے تھے تو ان کی گاڑی پر حملہ بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد ’افغان مجاہدین ‘ کی حکومت آئی لیکن اس کے بعد بھی افغانستان میں دھڑے آپس میں لڑتے  رہے۔

اس تجربے کے بارے میں انہوں نے بتاتا کہ اس وقت طالبان کے دور حکومت میں مختلف تنظیمیں سرگرم تھی اور قندہار میں انہیں سات ویزے لینے پڑتے تھے کیونکہ اس وقت سات تنظیمیں وہاں پر فعال تھیں اور ہر ایک  تنظیم سے الگ الگ ویزا لینا پڑتا تھا۔

انھوں نے بتایا: ’لیکن اس کے بعد بھی وہ حکومت نہیں چلی اور طالبان کو حکومت سے بے دخل کیا گیا۔ اب بھی عوام کی  امیدیں (اشرف غنی کی) حکومت سے وابستہ ہیں لیکن افغانستان کی سیاست میں لوگوں کے مفادات ہیں اس لیے دیرپا امن قائم نہیں ہوتا۔‘

انہوں نے بتایا کہ کسی بھی دور حکومت میں بس افغان عوام کا ہی نقصان ہوا ہے

’کبھی دھمکی نہیں ملی‘

رحیم اللہ یوسفزئی 40 سال سے زائد عرصہ صحافت سے وابستہ رہے۔ آخری دنوں میں وہ دی نیوز اخبار کے پشاور کے ایڈیٹر تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکثر رحیم اللہ یوسفزئی سے ملاقات ہوتی رہتی تھی اور صحافت کے  موضوع پر زیادہ تر گفتگو ہوتی تھی۔ ایک نشست میں رحیم اللہ یوسفزئی سے ہم نے پوچھا کہ  کیا کبھی کسی سٹوری پر کسی بھی شخص یا ادارے کی جانب سے دھمکی ملی تھی، جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنے صحافتی دور میں کبھی بھی دھکمی نہیں ملی ہے۔‘

ہم نے ان سے وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ’جب تک آپ کی سٹوری بیلنس ہوگی یعنی سٹوری میں دونوں فریقین کے موقف شامل ہوں گے، تو میں نہیں سمجھتا کہ کبھی بھی کوئی شخص آپ کو دھکمی دے گا۔ یہ مشورہ نوجوان صحافیوں کے لیے بھی ہے کہ جب بھی کسی مسئلے پر رپورٹ بناتے ہوں تو ایک طرف کو صرف مت سنیں بلکہ دوسرے فریق کا موقف بھی سٹوری میں شامل کریں اور یہی صحافت کی  بنیادی اصول بھی ہے۔‘

جب اسامہ بن لادن کے انٹرویو کے لیے کال آگئی

رحیم اللہ یوسفزئی دنیا میں ان چند ہی صحافیوں میں شامل ہے جنہوں نے 1998  میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہا کہ 1998 میں ان کو کال آگئی کہ وہ اسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے کے لیے جنوبی افغانستان میں ایک کیمپ میں آجائیں۔ ’چونکہ بارڈر پور موجود سیکورٹی اہلکار ہمیں بارڈر کراس کرنے نہیں دیتے تھے اس لیے جس مذہبی تنظیم نے ہماری لیے انٹرویو کا بندوبست کیا تھا، اسی کی مدد سے ہمیں سمگل کردیا گیا تھا۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی نے اس انٹرویو کا احوال برطانوی اخبار دا گارڈین میں بھی کیا تھا۔

اپنی ایک رپورٹ میں انہوں نے لکھا کہ بالاآخر 25مئی 1998 کو ہم اسامہ بن لادن سے ملے جو نرم گو تھا اور بار بار پانی پیتا تھا لیکن ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ بار بار پانی پینے کی وجہ ان کے گردے کی بیماری تھی۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے بتایا تھا کہ انہیں اس لیے بلایا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن امریکہ اور اسرائیل  کے خلاف ’جہاد‘کے لیے ایک عالمی اسلامی فرنٹ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے تاہم اس وقت طالبان اسامہ بن لادن کے اس ارادے کے خلاف تھے۔

اپنی تحریر میں انہوں نے لکھا کہ افغان طالبان کے سابق سربراہ ملا محمد عمر  اسامہ بن لادن کے اس ارادے پر غصہ تھے اور کہتے تھے کہ ’افغانستان پر حکومت کرنے والا یا ملا عمر ہوگا یا اسامہ بن لادن۔‘

ایک اور آرٹیکل میں انہوں نے لکھا 1998 کے دسمبر میں وہ دوبارہ اسامہ بن لادن سے ون آن ون ملے جب وہ اس بات پر مطمئن ہوگئے کہ افغان طالبان کی جانب سے اب ان کو مسئلہ نہیں ہوگا۔  

رحیم اللہ یوسفزئی نے 1998 میں افغانستان میں اسامہ بن لادن کی کیمپ پر ایک امریکی حملے کے بارے میں لکھا ہے کہ افریقی ملک کینیا میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوا تھا تو اس کا بدلہ لینے کے لیے امریکہ نے افغانستان کے ایک کیمپ پر حملہ کیا تھا۔ حملے کے بعد اس وقت القاعدہ کے سینیئر رہنما اور موجودہ سربراہ ایم الظواہری نے ان کے دفتر فون کیا  اور اسامہ بن لادن ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔

رحیم اللہ کی تحریر کے مطابق فون پر ایمن الظواہری نے انہیں بتایا کہ القاعدہ امریکی سفارت خانے پر دھماکے میں ملوث نہیں تھی تاہم ظواہری نے بتایا کہ وہ حملے سے خوش ضرور ہیں۔ اسی کال کے ایک گھنٹے بعد ظواہری نے دوبارہ کال کی اور کہا کہ ان کے کیمپ پر امریکی حملے میں اسامہ اور وہ بچ گئے اور انہوں نے امریکہ کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا۔

رحیم اللہ یوسفزئی لکھتے ہیں کہ اگلی مرتبہ ان کی اسامہ کے ساتھ ملاقات چار گھنٹے طویل رہی جس میں وہ امریکی سفارت خانے پر حملے میں ملوث نہ ہونے پر بات کرتے رہے۔ رحیم اللہ لکھتے ہیں: ’اسامہ نے مجھے بتایا کہ ان کا کام حملے کرنا نہیں بلکہ مسلمانوں کو امریکہ کے خلاف  کرنا ہے کیونکہ امریکہ بے انصافی کر رہا ہے۔‘

 رحیم اللہ یوسفزئی نے اسامہ بن لادن کا انٹریوز کرنے کے علاوہ افغان طالبان کے سابق سربراہ ملا محمد عمر کا انٹرویو بھی کیا۔ ان کے مطابق وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے ملا عمر کا انٹرویو کیا تھا۔

 ان کا کہنا تھا کہ وہ ملا عمر کے ساتھ 1995 میں  قندہار میں ملے اور ملا عمر نے انہیں اپنے دفتر بلایا۔

رحیم اللہ کے بقول دفتر جانے کے بعد ملا عمر زمین پر بیٹھے تھے اور باقی طالبان جنگجو ان کے آس پاس بیٹھے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ  ملا عمر  اسامہ کے ساتھ 1996  میں ملے اور طالبان نے اسامہ بن لادن کو افغانستان میں ٹھہرنے کی اجازت دی تھی لیکن رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق وہ نہیں سمجھتے تھے کہ اسامہ اور ملا عمر بہت قریبی دوست تھے ۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا