کیا مانچسٹر ٹیسٹ بھارتی دباؤ پر منسوخ کیا گیا؟

عرب امارات کے قوانین کے مطابق انگلینڈ سے آنے والے تمام مسافر وں کو ویکسین اور منفی ٹیسٹ کے باوجود کم ازکم چھ دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔

انگلش بورڈ نے اپنے ابتدائی بیان میں بھارتی ٹیم کی ٹیسٹ سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے سیریز 2-2 سے برابر کی خبر نشر کردی(اے ایف پی)

 انگلینڈ اور بھارت کے درمیان آخری ٹیسٹ جمعہ کو کرونا (کورونا) کے خطرات کے باعث منسوخ کردیا گیا۔

 اس ٹیسٹ کے شروع ہونے سے پہلےہی بھارتی ٹیم کے کچھ ارکان کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی خبریں آئی تھیں۔

 ان متاثرین میں کوچ روی شاستری اور دوسرے معاون کوچز شامل تھے لیکن حیرت انگیز طور پر کھلاڑیوں میں سے کوئی متاثر نہیں تھا۔

مانچسٹر ٹیسٹ جمعہ دس ستمبر سے شروع ہوکر 14 ستمبر تک جاری رہتا، جس کے بعد بھارتی اور کچھ انگلش کھلاڑی آئی پی ایل کےلیے 15 ستمبر کو دبئی روانہ ہوسکتے تھے جہاں آئی پی ایل کے بقیہ میچز 19 ستمبر سے شروع ہورہے ہی۔

عرب امارات کے قوانین کے مطابق انگلینڈ سے آنے والے تمام مسافر وں کو ویکسین اور منفی ٹیسٹ کے باوجود کم ازکم چھ دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ جس سے نصف سے زیادہ بھارتی ٹیم جو آئی پی ایل کی مختلف ٹیموں میں شامل ہے تین سے چار میچ تک غیر حاضرہوتی۔

شاید سپانسرز اور براڈکاسٹ پارٹنرز نے اس غیر حاضری کو ماننے سے انکار کردیا جس کے باعث کھلاڑیوں کے لیے اب ایک ہی ممکنہ صورت تھی کہ 12 ستمبر تک دبئی پہنچ جائیں۔

اگرچہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سی ای او ٹام ہیری سن نے اس بات کی تردید کی ہے کہ آئی پی ایل کے باعث مانچسٹر ٹیسٹ منسوخ ہوا ہے۔ لیکن وہ وضاحت نہیں پیش کرسکے کہ آئی سی سی کے کس قانون کے تحت منسوخی ہوئی ہے

سیریز کے نتیجہ پر کیا اثر ہو گا؟

سیریز میں بھارت اس وقت 1-2 سے جیت رہا ہے اور مانچسٹر ٹیسٹ انگلینڈ کے لیے موقع تھا کہ سیریز برابر کردے۔ لیکن بھارتی بورڈ نے کرونا کے خوف کے باعث ٹیسٹ کو اگلے سال کھلینے کے لیے کہا ہے۔

 اگر انگلینڈ بورڈ ایسا کرتا ہے تو اسے ٹیسٹ کی منسوخی کےباعث 41 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ کیونکہ انشورنس کرونا کے باعث کسی زر تلافی کی پابند نہیں ہے اور بورڈ کو تماشائیوں کے ٹکٹ کی واپسی اور براڈکاسٹ پارٹنر کے زر تلافی کی مد میں ملین پاؤنڈز پڑیں گے۔

اس منسوخی کی کوئی باضابطہ وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ بھارتی ٹیم ٹیسٹ میچ کھلینے سے انکار کرتی ہےتو قانون کے مطابق وہ میچ سے دستبردار کہلائے گی اور نتیجہ انگلینڈ کی جیت پر منتج ہوگا۔ اس صورت میں بورڈ کو انشورنس سےبھی زرتلافی مل سکتا ہے۔

لیکن اس نتیجہ کے لیے آئی سی سی ریفری کو فیصلہ کرنا پڑے گا جو کہ فی الوقت خاموش ہے۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ انگلش بورڈ نے اپنے ابتدائی بیان میں بھارتی ٹیم کی ٹیسٹ سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے سیریز 2-2 سے برابر کی خبر نشر کردی۔

تاہم ایک گھنٹہ بعد اس میں ترمیم کر کے لکھ دیا گیا کہ اس ٹیسٹ کو کسی اور موقع پر کھیلا جائے گا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ بنا کسی بیرونی مداخلت کے ٹیسٹ میچ ایک ٹیم کے نہ کھیلنے پر منسوخ کردیا گیا اور کسی نتیجہ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

 میچ کے نتیجے میں محض کرونا وبا کے باعث منسوخی لکھ دی گئی ہے لیکن ٹیسٹ کھیلنے والے کسی بھی کھلاڑی میں کرونا کی موجودگی ثابت نہیں ہے۔

آئی سی سی کے قوانین کے مطابق کسی بھی میچ کا نتیجہ ہار ،جیت یا ڈرا ہوسکتا ہے لیکن اس میچ کے نتیجہ میں ایسا کچھ نہیں لکھا گیا جس سے ریکارڈ بک ہمیشہ خاموش رہے گی۔

ایک ایسا فیصلہ جس کی نظیر نہیں ملتی

بھارتی بورڈ کے آئی سی سی پر اثر انداز ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ سال آئی پی ایل کو منعقد کرانے کے لیے آسٹریلیا میں ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ بھی قربان کردیا گیا تھا ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیسٹ میچ کے منسوخ ہونے پر انگلش میڈیا اور سابق انگلش کرکٹرز نے سخت تنقید کی ہے اور اس کو کرکٹ کے مداحوں کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔

ان کے خیال میں اتنی شدید صورت حال نہیں تھی کہ میچ منسوخ کیا جاتا کیونکہ یہی کھلاڑی اب چند دن بعد آئی پی ایل میں پوری قوت سے موجود ہوں گے۔ تب کرونا کا خوف کیا ختم ہوجائے گا؟

بھارتی ٹیم اور بورڈ کا جمعہ کو میچ منسوخ کرانا آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور کوئی بھی شخص اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کیونکہ کرونا کا خوف اگر طاری ہوتا تو سب سے پہلے تماشائیوں کے آنے پر پابندی عائد ہوتی چہ جائیکہ بائیو سیکیور ببل میں رہنے والے کھلاڑیوں کو خوف ہوتا۔

ٹیسٹ میچ کی منسوخی کی وجہ کچھ بھی ہو لیکن جس قدر بھونڈے انداز میں اس کو منسوخ کیا گیا ہے اس سے بھارتی بورڈ اور ٹیم کا امیج مزید خراب ہوگیا ہے اور انگلش بورڈ کی خاموشی نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور آئی پی ایل دونوں بورڈز کی ترجیح بن گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ