ایران سے افغانستان کے لیے کمرشل پروازوں کا آغاز

ایران نے ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد بدھ سے پہلی مرتبہ کمرشل پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔

ماہان ایئر سے مسافر کابل ایئر پورٹ پر اتر رہے ہیں  (اے ایف پی)

ایران نے ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد بدھ سے پہلی مرتبہ کمرشل پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ’آج (بدھ) ماہان ایئر مشہد سے مسافروں کو کابل ایئر پورٹ لے کر گئی ہے۔‘

’اب کابل ایئرپورٹ سے مسافروں کو مشہد لایا جا رہا ہے۔‘

یہ طالبان کے آنے کے بعد سے دونوں ممال کے درمیان پہلی اس قسم کی پرواز ہے۔

ایران کی سول ایوی ایشن ایجنسی نے 16 اگست کو دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پروازوں کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔


 خلیجِ عرب کے ایک سینیئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے افراتفری میں کیے گئے انخلا نے مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کے عرب اتحادیوں کے لیے یہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ وہ اب امریکہ پر انحصار کر سکتے ہیں یا نہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی اتحادیوں کو ڈر ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا اور طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے اس سے دو دہائیوں پہلے نائن الیون حملوں میں ملوث القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے عسکریت پسندوں کو جنگ سے تباہ حال ملک میں قدم جمانے میں مدد ملے گی۔

خلیج عرب عہدیدار نے حالات کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو مزید بتایا: ’افغانستان میں صورت حال ہمارے لیے زلزلہ کی مانند ہے۔ متزلزل حالات پر طویل عرصے تک قابو پانا ممکن نہیں ہو گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ان حالات کا سامنا کرنے کے بعد کیا ہم واقعی اگلے 20 سالوں کے لیے بھی امریکی سکیورٹی پر انحصار کر سکتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایسا کرنا اب بہت مشکل ہے۔‘

عہدیدار نے کہا کہ اگر افغانستان پر جیو پولیٹیکل کی رسہ کشی ہوئی تو یہ ایک طرف چین اور پاکستان اور دوسری جانب روس، ایران اور بھارت کھڑے ہوں گے۔

عرب عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اب اس کھیل کا حصہ نہیں بنے گا۔

’اگر افغانستان پر جیو پولیٹیکل کے لیے مقابلہ ہوتا ہے تو ہم ایک طرف پاکستان اور چین کو اور دوسری طرف بھارت، ایران اور روس کو دیکھیں گے اور مجھے نہیں لگتا کہ امریکی افغانستان پر جیو پولیٹیکل گیم کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔‘


امریکہ میں انٹیلی جنس حکام نے خبردار کیا کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ ایک سے دو سال کے اندر افغانستان میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہے اور تنظیم کے کچھ ارکان پہلے ہی ملک واپس آ چکے ہیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق اس سال کے شروع میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے سینیئر عہدیداروں نے کہا تھا کہ اگر افغانستان میں حکومت ختم ہوتی ہے تو القاعدہ دو سال میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہے جبکہ 15 اگست کو کابل حکومت کے سقوط کے بعد امریکی حکام نے کانگریس کو بتایا تھا کہ القاعدہ دو سال سے پہلے دوبارہ فعال ہوسکتی ہے۔

اگرچہ طالبان نے امریکا کے ساتھ اپنے فروری 2020 کے امن معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسے وعدے کھوکھلے دکھائی دیتے ہیں۔

ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سکاٹ پیریئر نے سالانہ قومی انٹیلی جنس اور سکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکا کو دھمکیوں یا حملوں کے خطرے کا موجودہ اندازہ ایک سے دو سال کے درمیان ہے مگر یہ مدت کم بھی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن نے کہا ہے کہ ’ٹائم لائن کا مشکل حصہ یہ جاننا ہے کہ افغانستان میں موجود القاعدہ یا داعش کی شاخ امریکا پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘

کوہن نے کہا کہ ’سی آئی اے القاعدہ کی افغانستان میں ممکنہ نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔‘ اگرچہ انہوں نے القاعدہ کے مخصوص ارکان کی شناخت نہیں کی جو امریکی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان واپس آئے ہیں، لیکن اسامہ بن لادن کے سابق سکیورٹی چیف امین الحق، جنہوں نے تورہ بورا کی جنگ کے دوران بن لادن کے ساتھ خدمات انجام دیں، کو گذشتہ ماہ افغانستان واپس آتے ہوئے دیکھا گیا۔

کوہن نے کہا کہ ’سی آئی اے کو انٹیلی جنس اکٹھا کرنے پر اپنا انحصار بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایجنسی کو امید ہے کہ وہ اپنا کام کرے گی ، خاص طور پر افغانستان کے قریب انٹیلی جنس عناصر کے نیٹ ورک کو دوبارہ منظم کرنے پر نظر رکھی جائے گی۔‘


امریکہ دل بڑا کرے اور افغانوں پر مزید دباؤ نہ ڈالے: طالبان وزیر خارجہ

 

افغانستان کے نئے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ امریکہ کو ’دل بڑا‘ کرکے افغانوں پر مزید دباؤ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مطابق افغان دارالحکومت کابل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں امیر متقی نے کہا کہ ’امارت اسلامی نے امریکیوں کی مدد کی اور ان کے انخلا کی راہ ہموار کی۔ ہم نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا کہ انخلا اچھی طرح ہوجائے لیکن بدقسمتی سے اس تعاون کو سراہنے کی بجائے امریکہ ہمارے لوگوں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایک بڑا ملک ہے اور انہیں دل بڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان ایک غریب ملک ہے اور اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مثبت اور جامع تعلقات چاہتے ہیں اور ہم ان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ افغان عوام پر مزید دباؤ ڈالنا بند کریں۔ ہم نے گذشتہ بیس سالوں میں دیکھا ہے کہ دباؤ کی پالیسی کے کوئی نتائج نہیں تھے اور نہ ہی مستقبل میں اس کے نتائج ہوں گے۔‘

گذشتہ ماہ مغربی ملکوں کی فوج کے انخلا اور طالبان کے اچانک اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پیسے، طالبان حکومت کو تسلیم کرنے اور انہیں الگ تھلگ کرنے کی دھمکیوں کو دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کیا تاکہ طالبان 1990 کی دہائی والی جابرانہ حکومت کے قیام سے باز رہیں۔

اپنی پریس کانفرنس میں طالبان وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے ملنے والی امداد کو کرپشن کے بغیر افغانوں کی بہبود کے لیے استعمال کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی۔

انہوں نے کہا: ’افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم ان تمام ممالک اور تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس امداد کا وعدہ کیا۔ یقیناً یہ ایک اچھا عمل تھا اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم وعدہ کرتے ہیں کہ امارت اسلامی ضرورت مند لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔‘

’طالبان حکومت عسکریت پسندوں کو حملوں کی اجازت نہیں دے گی‘

وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ طالبان حکومت اپنے عزم پر قائم ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو دیگر ملکوں پر حملوں کے لیے افغان سر زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں امیر متقی کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی فرد یا گروپ کو اپنی سر زمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

تاہم انہوں نے اس بارے میں کچھ بتانے سے انکار کر دیا کہ ملک کے نئے حکمران ایسی حکومت کب قائم کریں گے جس میں تمام فریق شامل ہوں یا وہ ایسا کریں گے بھی یا نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس معاہدے کے تحت جس کے نتیجے میں امریکی فوج کی افغانستان سے انخلا کی راہ ہموار ہوئی، طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ اور دوسرے عسکریت پسند گروپوں سے روابط ختم کر دیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ عسکریت پسند افغان علاقے میں رہ کر کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے۔

امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے طویل عرصے تک طالبان کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ رہنے والے امیر خان متقی نے پریس کانفرنس میں ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ آیا طالبان حکومت عالمی دباؤ کے سامنے جھکے گی یا نہیں۔

اس سوال پر کیا کہ طالبان خواتین یا لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو حکومت میں شامل کریں گے؟ انہوں نے کہا: ’ہم برقت فیصلہ کرلیں گے۔‘ لیکن انہوں نے اس حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت عارضی بنیادوں پر کام کر رہی ہے اور جب مستقل حکومت بن جائے گی تو’ہم اس بات پر غور کریں گے کہ جو لوگ چاہتے ہیں۔‘ تاہم انہوں نے مستقبل میں حکومت کے قیام کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ متقی کے بقول: ’ہم ہر کام مرحلہ وار کر رہے ہیں۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ یہ کابینہ کب تک قائم رہے گی۔‘

طالبان نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ نئی کابینہ میں ان کی حکومت کے صرف مرد حضرات شامل ہوں گے جن میں کئی ایسے لوگ بھی ہیں دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل ہیں۔ اس اعلان پر طالبان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سے پہلے طالبان رہنماؤں نے کابینہ میں وسیع تر نمائندگی کا وعدہ کیا تھا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا