پاکستان ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کا بائیکاٹ نہیں کرے گا: پی سی بی

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20 ورلڈ کپ میں 26 اکتوبر کو شارجہ میں میچ کھیلا جائے گا۔

                وسیم خان کا کہنا تھا کہ لاجسٹک مشکلات کی وجہ سے سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے متبادل دورے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں(اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان اگلے ماہ کھیلے جانے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کا بائیکاٹ نہیں کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے یہ بیان نیوزی لینڈ کے پاکستان کا دورہ یک طرفہ طور پر ختم کرنے اور ملک سے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورے کو ایسے چھوڑ کر جانا پاکستان کے لیے ایک مشکل صورت حال ہے جو سال 2009 میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد غیر ملکی ٹیموں کے دورے بحال کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

جمعے کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے پہلے ایک روزہ میچ سے قبل نیوزی لینڈ نے ’سکیورٹی تھریٹ‘ کے پیش نظر راولپنڈی سٹیڈیم میں ہونے والا یہ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے ابھی تک اس کی کوئی تفصیل بھی نہیں جاری کی گئی۔

نیوزی لینڈ کے اس فیصلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور پاکستان سے نیوزی لینڈ کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا لیکن پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کے مطابق ایسا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں ہے۔

وسیم خان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاحال ہمارا نیوزی لینڈ سے نہ کھیلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کرکٹ شائقین کے لیے ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہم وہ ذمہ داری ادا کریں گے۔‘

انہوں نے کھلاڑیوں کی جانب سے بطور احتجاج سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلنے کے امکان کو بھی مسترد کر دیا۔

وسیم خان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس حوالے سے بہت محتاط موقف اپنانا ہو گا۔ ہم کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے جس میں کوئی سیاسی پہلو یا احتجاج ظاہر ہو رہا ہو۔‘

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20 ورلڈ کپ میں 26 اکتوبر کو شارجہ میں میچ کھیلا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو کے مطابق نیوزی لینڈ کی جانب سے دوری کی منسوخی نے پی سی بی اور نیوزی لینڈ کرکٹ کے درمیان ’سیاسی کشیدگی‘ پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ جس انداز میں کیا گیا وہ بہت ’ہتک آمیز‘ تھا۔

وسیم خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دوسرے ممالک کے لیے سب کچھ کیا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں نے نیوزی لینڈ جا کر 14 دن قرنطینہ میں قربان کر دیے۔ ہم مسجد پر حملے کے بعد بھی نیوزی لینڈ گئے تھے۔‘

ان کا اشارہ مارچ 2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہونے والے حملے کی جانب تھا۔

وسیم خان کے مطابق ’پاکستان جیسے ممالک سے اس طرح چلے بغیر کسی وجہ کے، بات کیے بغیر چلے جانا بہت آسان ہے۔ اس کو اب روکنا ہو گا۔‘

وسیم خان کا کہنا تھا کہ لاجسٹک مشکلات کی وجہ سے سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے متبادل دورے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔

یاد رہے رواں سال میں ہی انگلینڈ اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں نے بھی پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ