دو الفاظ جن سے جان چھڑانے کے لیے پاکستانیوں نے جان لگا دی

وہ دو الفاظ جن کے خوف میں پاکستانیوں نے ایک عمر گزاری ہے اور ان سے جان چھڑانے کے لیے جان لگا دی ہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے ایک روزہ میچ کے لیے راولپنڈی سٹیڈیم کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے (اے ایف پی)

بات کچھ یوں ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے سے جو 18 سال بعد، 18 سال بعد کا شور سن رہے تھے وہ اچانک سے صرف دو ہی الفاظ پر ختم ہو گیا، وہ الفاظ جو شاید اب پاکستانی بھی بھول چکے ہیں یا کم از کم سننا تو بالکل نہیں چاہتے۔

ان دو الفاظ کے خوف میں پاکستانیوں نے ایک عمر گزاری ہے اور ان سے جان چھڑانے کے لیے جان لگا دی ہے۔

مگر سب کچھ کرنے کے بعد جب خوف ختم ہوتا دکھائی دینے لگا اور چہروں پر مسکراہٹیں بکھرنے لگیں تو یہی دو الفاظ ایک مرتبہ پھر سے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ اور اب کی بار مایوسی کا عالم بالکل ویسا ہے جیسا ایک بچے کو کھلونا دکھا کر واپس لے لیا جائے تو اس کے چہرے پر دکھائی دیتا ہے۔

یہ دو الفاظ کون سے ہیں اور ان کا اثر کیا ہے اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں پہلے آج کی داستان کو شروع سے شروع کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان الفاظ کو جتنا ہو سکے نظر انداز کریں۔

تو ہوا کچھ یوں کہ آج جب میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ون ڈے میچ کی کوریج کے لیے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم پہنچا تو بہت اچھا محسوس کر رہا تھا کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب میں نے سٹیڈیم کے میڈیا باکس میں قدم رکھا۔

اندر داخل ہوتے ہی دائیں بائیں دیکھا تو وہاں موجود صحافیوں کے چہروں پر اطمینان تھا اور وہ ایک دوسرے سے گپ شپ کرنے میں مصروف تھے۔

اتنے میں گھڑی دیکھی تو دن کا ایک بج رہا تھا اور یہی وہ وقت تھا جب خطرے کی پہلی گھنٹی بجی جب باہر سے آنے والے صحافیوں نے بتایا کہ جو افراد سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آنا چاہتے ہیں انہیں موبائل لے جانے سے روکا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چونکہ یہ بات میچ پر اثرانداز نہیں ہو رہی تھی تو تقریباً سب نے ہی سنی ان سنی کر دی اور پھر سے سب اپنے اپنے موبائل فونز اور لیپ ٹاپس میں مصروف ہوگئے۔ 

خطرے کی دوسری گھنٹی تب بجی جب میڈیا باکس میں سوال کیے جانے لگے کہ ’بھائی ٹاس کا وقت ہو گیا ہے مگر ٹیمز کہاں ہیں۔‘

اس بار یہ بات کسی نے سنی ان سنی نہ کی بلکہ اپنے اپنے ذرائع سے رابطے شروع کر دیے گئے۔

بار بار سوال کرنے پر پی سی بی کے ایک اہلکار نے کہا: ’آفیشلی سب ٹھیک ہے۔‘ مگر جس انداز اور آواز میں انہوں نے یہ بات بتائی اس سے اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

بس اس کے بعد منٹوں میں میڈیا باکس کی صورتحال تبدیل ہو گئی اور جو صحافی مسکراتے ہوئے خاموشی سے کاموں میں مگن تھے ان کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔

جب سب بول رہے تھے تب پی سی بی بالکل خاموش تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ یا تو انہیں بھی کچھ معلوم نہیں اور یا پھر انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر بتانا کیسے ہے۔

ایسے میں ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس پر ’سیریز منسوخ ہونے کا خدشہ: ذرائع۔‘ لکھا آنے لگا۔

ابھی یہاں تھوڑا رک جائیں اور کچھ احوال گراؤنڈ کا بھی سن لیں۔

اس سب کے بیچ جب میں نے سٹیڈیم میں جھانک کر دیکھا تو میڈیا باکس کے بالکل نیچے باؤنڈری لائن کے ساتھ ہی دو مائیک لگا دیے گئے تھے جہاں ٹاس ہونا تھا۔

براڈکاسٹرز اپنے کیمرے سیٹ کرچکے تھے اور ایک شخص بار بار جا کر سٹمپ مائک چیک کر رہا تھا۔

جہاں دونوں ٹیمز نے میچ سے قبل پریکٹس کرنی تھی وہاں کے انتظامات بھی مکمل ہو چکے تھے۔

یہ سب دیکھ کر میں جیسے ہی واپس میڈیا باکس کی طرف پلٹا تو یک دم آواز آئی کہ ’سیریز منسوخ ہو گئی ہے۔‘

اس وقت تو کچھ سمجھ نہیں آئی اور جو کچھ سنا اس سے ڈیسک (دفتر) کو آگاہ کر دیا۔

مگر جب چند لمحوں بعد پی سی بی کا بیان ہاتھ آیا اور اس کی پہلی لائن پڑھی تو سب سے پہلے جو الفاظ زبان پر آئے وہ یہ تھے: نہیں یار پھر سے نہیں۔

پی سی بی کے بیان کے بالکل آغاز میں ہی وہ دو الفاظ موجود تھے جن کا پاکستانیوں پر اتنا خوف رہا ہے کہ ابھی بھی انہیں دہرانے کا دل نہیں کر رہا۔

وہ دو الفاظ تھے ’سکیورٹی الرٹ‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ