کراچی پولیس: ’کنفیوژن‘ میں راہ چلتے افراد ویکسینیشن کارڈ نہ ہونے پر گرفتار

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے وبائی امراض ایکٹ 2014 سیکشن تین کے تحت حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے مطابق سندھ کے کچھ مخصوص اداروں کے ملازمین کے لیے ویکسینیشن کارڈ ساتھ رکھنا لازمی ہو گا، پولیس کی جانب سے 33 عام شہری گرفتار ہوئے، مقدمہ بھی درج ہو گیا۔

سہراب گوٹھ تھانے کے انویسٹیگیشن افسر انسپکٹر فاروق اعظم پاریو نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی کا حکم ہے کہ اب عام شہریوں کو ویکسینیشن کارڈ نہ ہونے پر گرفتار نہ کیا جائے۔ گرفتار کیے جانے والے افراد کی ایف آئی آر خارج کردی گئی ہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کرده احکامات کے بعد کراچی پولیس نے 33 راه چلتے افراد کے پاس ویکسینیشن کارڈ نہ ہونے کے باعث انہیں گرفتار کیا، ان کی ایف آئی آر درج کی اور انہیں 24 گھنٹوں تک جیل میں بند رکھا۔ بعد ازاں عدالت میں پیش کیا گیا اور پھر رہا کر دیا۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے 22 ستمبر کو آئی جی سندھ پولیس، ڈی جی پاکستان رینجرز سندھ، ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی رینج اور سندھ کے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔

اس حکم نامے میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ سندھ وبائی امراض ایکٹ 2014 کے سیکشن تین کی پہلی شق کے مطابق سندھ کے کچھ مخصوص اداروں کے ملازمین کے لیے ویکسینیشن کارڈ ساتھ رکھنا لازمی ہو گا، اس لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ان افراد کے کارڈ لازمی چیک کیے جائیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس پر کوئی خاص ایکشن نہیں لیا گیا۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چیف سیکرٹری سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعلقہ افراد سے اس معاملے کو ’ٹاپ موسٹ پرائیورٹی‘ دینے کا کہا ہے نیز قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

چیف سیکرٹری سندھ کے پی آر او فرحت امتیاز جانوری کے مطابق محکمہ داخلہ نے اس حکم نامے میں عام شہریوں کے ویکسینیشن کارڈ نہیں بلکہ پبلک ڈیلنگ والے افراد یعنی ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں اور مارکیٹس کے عملے کے پاس ویکسینیشن کارڈ کی موجودگی لازمی قرار دی تھی۔

لیکن اس کے باوجود کراچی پولیس کی جانب سے اب تک کل 33 افراد کو ویکسینین کارڈز نہ ہونے کے باعث گرفتار کیا جاچکا ہے جن میں سے دو عام شہریوں کو گزشتہ روز کراچی سپر ہائی وے کے نزدیک علاقے سہراب گوٹھ کے پولیس تھانے میں گرفتار کرکے 24 گھنٹوں تک زیر حراست رکھا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سہراب گوٹھ تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر زبیر نواز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا گرفتار شدہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔ عدالت نے شہریوں کو رہا کرنے اور مقدمے خارج کرنے کا حکم سنایا تھا۔

اس حوالے سے سہراب گوٹھ تھانے کے انویسٹیگیشن افسر انسپکٹر فاروق اعظم پاریو نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی کا حکم ہے کہ اب عام شہریوں کو ویکسینیشن کارڈ نہ ہونے پر گرفتار نہ کیا جائے۔ گرفتار کیے جانے والے افراد کی ایف آئی آر خارج کردی گئی ہے۔

سندھ محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کے شرط پر بتایا کہ ’دراصل پولیس کنفیوژن کا شکار ہوگئی تھی۔ محکمہ داخلہ کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ پبلک ڈیلنگ والے اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ویکسینیشن کارڈز چیک کرنے ہیں، معلوم نہیں کیوں سہراب گوٹھ تھانے کے افسران نے دو عام شہریوں کو کارڈ نہ ہونے پر گرفتار کرلیا۔‘

این سی او سی کے مطابق کراچی میں اب تک صرف 50 لاکھ افراد کی ویکسین ہوئی ہے۔ مردم شماری کے مطابق اب بھی تقریبا سوا کروڑ افراد کو ویکسین لگنا باقی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان