فیس بک کا بچوں کے لیے نئی ایپ کا منصوبہ معطل

انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری نے کہا کہ سوشل میڈیا سروس اپنا کام روک رہی ہے تاکہ وہ خدشات کو سن سکے اور بچوں کے ورژن کی اہمیت ثابت کرنے کے لیے مزید کام کر سکے۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے ایک مال میں 14 فروری 2012 کو سرکاری فیس بک لانچ کے دوران انڈونیشیا کے بچے ’اینگری برڈز‘ کھیلتے ہوئے (اے ایف پی)

فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے بچوں کے لیے اپنی انسٹاگرام ایپ کے منصوبے پر کام معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ قانون سازوں اور دیگر افراد کی جانب سے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر فوٹو شیئرنگ پلیٹ فارم کے اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کرنے کے بعد کیا گیا۔

انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری نے کہا کہ سوشل میڈیا سروس اپنا کام روک رہی ہے تاکہ وہ خدشات کو سن سکے اور بچوں کے ورژن کی اہمیت ثابت کرنے کے لیے مزید کام کر سکے، جو اشتہار سے پاک ہونا تھا اور والدین کو بچوں کی سرگرمی کی نگرانی کرنے کی اجازت دیتا تھا۔

یہ اعلان 44 ریاستی اٹارنی جنرلوں کی تنقید کے بعد کیا گیا ہے جنہوں نے فیس بک سے اس منصوبے کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا، اور ڈیموکریٹک قانون سازوں سے اس منصوبے کے بارے میں مزید تفصیل کے لیے درخواست کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انسٹاگرام ٹیم نے کہا کہ وہ والدین کی اجازت کے بغیر انسٹاگرام تک رسائی حاصل کرنے والے بچوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے یہ ایپ بنا رہی تھی۔ ایڈم موسری نے لکھا: ’ہم نے اپنی انڈسٹری میں نظر آنے والے ایک اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے یہ پروجیکٹ شروع کیا ہے: چھوٹے بچے فون حاصل کر رہے ہیں، اپنی عمر کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں، اور ان ایپس کو ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں جو 13 یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے ہیں۔‘

کمپنی نے بیک وقت تنقید کی وجہ سے اس خیال کو مسترد کردیا۔ موسری نے لکھا: ’انسٹاگرام کڈز‘ کے ناقدین اسے ایک اعتراف کے طور پر دیکھیں گے کہ یہ منصوبہ ایک برا خیال ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے پہلے ہی آن لائن ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ خاص طور پر ان کے لیے ڈیزائن کیے گئے عمر کے مطابق تجربات کے لیے کوئی نظام والدین کے لیے اس سے کہیں بہتر ہے جہاں ہم آج ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیس بک نے کہا کہ یوٹیوب اور ٹک ٹاک دونوں کے پاس 13 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے ان کے ایپس کے ورژن ہیں۔

موسری کے مطابق ’اس ایپ کے استعمال کے لیے والدین کی اجازت درکار ہوگی، اس میں اشتہارات نہیں ہوں گے اور اس میں عمر کے مطابق مواد اور خصوصیات ہوں گی۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فیس بک نے باڈی امیج جیسے مسائل پر کئی نئے اقدامات اٹھائے ہیں، لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ دوسرے موضوعات کو دیکھیں یا اگر وہ منفی مواد پر رہ رہے ہیں تو وقفہ لیں۔

تاہم ارادہ جو بھی ہو اس سے قطع نظر، قانون ساز ایپ کے آئیڈیا کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں کے ایک گروپ نے لکھا: ’فیس بک جو متبادل راستہ اختیار کر رہا ہے - خاص طور پر بچوں کو ایک نئے پلیٹ فارم کے لیے سائن اپ کرنے پر مجبور کرتا ہے جو خود نوجوان صارفین کی پرائیویسی اور فلاح و بہبود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔‘

دنیا بھر میں بچوں اور بڑوں دونوں میں انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے نشے کی صورت اختیار کرنے پر پہلے ہی لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر سائبر بوئلنگ بھی ایک وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس سے انسان کا نہ صرف اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ وہ مختلف نفسیاتی الجھنوں کا شکار بھی ہوتا ہے۔

مکمل پابندی کا مطالبہ

سینیٹر ایڈ مارکی نے ٹویٹ کیا کہ ایک ’وقفہ‘ ناکافی ہے۔ ’فیس بک کو اس منصوبے کو مکمل طور پر ترک کرنا ہوگا۔‘

فیس بک پلیٹ فارمز سے منسلک ممکنہ نقصانات سے متعلق انکشافات کے بعد سینیٹرز مارشا بلیک برن اور رچرڈ بلمن تھل نے آئندہ جمعرات کو ایک سماعت کا اعلان کیا جس میں سوشل میڈیا پر بچوں کے تحفظ کے سوال پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

بلمن تھل نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں لکھا تھا کہ ’یہ سماعت نوجوانوں اور دیگر افراد پر فیس بک اور انسٹاگرام کے زہریلے اثرات کا جائزہ لے گی اور... اس بارے میں سخت سوالات پوچھے گی کہ کیا بگ ٹیک کمپنیاں جان بوجھ کر لوگوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور اس علم کو چھپا رہی ہیں۔‘

فیس بک نے تصدیق کی ہے کہ اینٹیگان ڈیوس، کممنی میں تحفظ کے عالمی سربراہ، اس سماعت میں پیش ہوں گے۔

بچوں کے تحفظ کے لیے سرگرم گروپوں نے بھی اس خبر کا خیر مقدم کیا اور انسٹاگرام سے وابستہ بچوں کے خطرات پر تنقید کی۔ بچوں کے تحفظ کے غیر سرکاری ادارے فیئر پلے نے کہا کہ ’آج کا اعلان... ہر اس شخص کو امید دے گا جو یہ مانتا ہے کہ بچوں کی فلاح و بہبود بگ ٹیک کے منافع سے پہلے ہونی چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل