امریکی سی آئی اے کا چائنا مشن سینٹر کھولنے کا اعلان

سی آئی اے کا کہنا ہے کہ چائنا مشن سینٹر (سی ایم سی) بیجنگ کی جانب سے درپیش عالمی چیلنج سے نمٹے گا لیکن برنس نے فوری طور پر واضح کیا کہ خطرہ چینی حکومت کی طرف سے ہے، چینی عوام کی طرف سے نہیں۔

13 اگست 2008 کو لی جانے والی اس تصویر میں ایک شخص کو ورجینیا میں سی آئی اے کے مرکزی دفتر میں لگی ہوئی سیل پر چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سی آئی اے نے 7 اکتوبر 2021 کو چین سے متعلق چائنا مشن سینٹر کھولنے کا اعلان کیا ہے (تصویر: اے ایف پی فائل)

امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے جمعرات کو اپنے تنظیمی ڈھانچے اور نقطہ نظر میں نئی ’ایڈجسٹمنٹ‘ کا اعلان کیا ہے جس میں دو نئے مشن سینٹرز کھولنا شامل ہیں جن میں سے ایک صرف چین سے متعلق ہوگا۔

امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنس نے ایجنسی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں اس اقدام کا اعلان کیا ہے۔

ایجنسی نے کہا ہے کہ ایڈجسٹمنٹ سی آئی اے کو موجودہ اور مستقبل کی قومی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہترین ’پوزیشن‘ دے گی۔

سی آئی اے کے مطابق: ’یہ تبدیلیاں تزویراتی جائزوں کے نتیجے میں کی گئی  ہیں جو ڈائریکٹر برنس نے گذشتہ موسم بہار میں شروع کیے تھے جن میں چین، ٹیکنالوجی، لوگوں اور شراکت داری پر توجہ دی گئی تھی۔‘

سی آئی اے کا کہنا ہے کہ چائنا مشن سینٹر (سی ایم سی) بیجنگ کی جانب سے درپیش عالمی چیلنج سے نمٹے گا لیکن برنس نے فوری طور پر واضح کیا کہ خطرہ چینی حکومت کی طرف سے ہے، چینی عوام کی طرف سے نہیں۔

امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنس نے کہا کہ ’سی ایم سی 21 ویں صدی میں ہمیں درپیش سب سے اہم جیو پولیٹیکل خطرات سے نمٹنے کے اجتماعی کام کو مزید تقویت دے گا جو کہ ایک انتہائی مخالف چینی حکومت کی جانب سے ہیں۔‘

سی ایم سی پینٹاگون میں سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن کی جانب سے اسی طرز کی ایک ٹاسک فورس بنانے کے بعد وجود میں آئی ہے۔

حالیہ برسوں میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ نے چین کی جانب سے مبینہ غیر منصفانہ مسابقت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو کم کرنے کی کوششوں کو دوگنا کر دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تازہ ترین اقدامات میں ایران اور شمالی کوریا سے متعلق مشنز مراکز کو بند کرنا بھی شامل ہے جسے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے بنایا تھا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق دونوں مراکز کو اب مشرق وسطیٰ اور مشرقی ایشیا کے علاقائی مراکز میں واپس دھکیل دیا جائے گا۔

جمعرات کو سی آئی اے کے بیان میں برنس نے کہا کہ ایجنسی روس، شمالی کوریا اور ایران سمیت دیگر ’اہم خطرات پر تیزی سے توجہ مرکوز‘ کرتی رہے گی۔

سی آئی اے کے ایک اعلی عہدیدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ایران اور شمالی کوریا سے متعلق مشن مراکز کو بند کرنا سی آئی اے کے اس نقطہ نظر کی عکاس نہیں ہے کہ دونوں ممالک سے خطرات کم ہو گئے ہیں۔

برنس کی طرف سے شروع کیا گیا ایک اور مرکز بین الاقوامی اور ٹیکنالوجی مشن سینٹر ہے۔ یہ نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، معاشی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی صحت پر نظر رکھے گا۔

سی آئی اے میں ملازمت کی درخواست دینے کے لیے زیادہ لوگوں کو راغب کرنے کی کوشش کے تحت برنس نے درخواست کے عمل میں تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایک سے دو سال کی مدت کے لیے سی آئی اے میں ’امید افزا ماہرین لانے‘ کی خاطر سی آئی اے ٹیکنالوجی فیلو پروگرام بنایا گیا ہے۔

برنس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’اب طاقت کے لیے بڑی مخاصمت کے نئے دور میں ہمیں سخت ترین جیو پولیٹیکل ٹیسٹ کا سامنا ہے، سی آئی اے اس کوشش میں سب سے آگے ہوگی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پاس ملازمت کے لیے ہنر ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ