عظیم رفیق: کرکٹ کا وہ ہیرو جو ورلڈ کپ کا حصہ نہیں

یارک شائر سے تعلق رکھنے والے عظیم رفیق نے موسمِ سرما پاکستان میں گزارا جہاں انہوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ وہ اس وقت لنکن شائر کاؤنٹی کے لیے کھیل رہے ہیں۔

2010 میں نیوزی لینڈ میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں عظیم رفیق کی کپتانی میں انگلینڈ کی ٹیم گروپ مرحلے کے تینوں میچ جیتنے کے باوجود اچھے کھیل کا مظاہرہ نہیں کر سکی (تصویر بشکریہ یارک شائر کاؤنٹی کلب)

انگلش کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ ماضی میں کرکٹ میں کم دلچسپی لینے والے شائقین بھی کل سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ کے اختتام پر برطانوی کھلاڑیوں بین سٹوکس اور جو رووٹ کو آسانی سے پہچان پائیں گے۔

14 جولائی کو اختتام پذیر ہونے والے ورلڈ کپ میں جو بھی ہو لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ کوئی کرکٹ کے کھلاڑی عظیم رفیق کو ان کے چہرے یا نام سے پہچان لے۔

ایک وقت تھا کہ کراچی میں پیدا ہونے والے اور یارک شائر سے تعلق رکھنے والے عظیم رفیق کو سب سے زیادہ با صلاحیت کھلاڑی سمجھا جا رہا تھا۔

جمعرات کو اوول سٹیدیم میں جنوبی افریقہ کے مدمقابل ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ کھیلنے والی انگلش کرکٹ ٹیم 2010 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی ٹیم سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ 2010 میں انگلینڈ کی انڈر 19 ٹیم میں جوس بٹلر، بین سٹوکس، جو رووٹ اور جیمز وینس جیسے کھلاڑی  شامل تھے جبکہ کپتانی کی ذمہ داری عظیم رفیق کے کاندھوں پر تھی۔

اب اگرچہ یہی چاروں کھلاڑی انگلینڈ کی طرف سے ورلڈ کپ کی جنگ میں حصہ لیں گے، لیکن عظیم رفیق، عارضی طور پرہی سہی کاؤنٹی کے کھیل سے باہر اپنی زندگی کو معمول پر لانے میں مصروف ہیں۔

’دی انڈپینڈنٹ‘ نے ماہ رمضان میں 28 سالہ کھلاڑی عظیم رفیق سے ملاقات کی۔ اس سال رمضان ایسے موسم میں آیا ہے جس میں صبر، حوصلے اور ایمان کا امتحان ہوتا ہے کیونکہ دن بڑے ہوتے جاتے ہیں۔

گذشتہ 12 ماہ میں عظیم رفیق کو صبر اور ایمان دونوں کی ضرورت رہی ہے۔ اس عرصے میں انہیں اپنے بیٹے کی وفات اور سیزن کے اختتام پر یارک شائر کاؤنٹی ٹیم کی جانب سے چھوڑے جانے سے بھی نمٹنا پڑا ہے۔

عظیم رفیق نے موسمِ سرما پاکستان میں گزارا جہاں انہوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ وہ اس وقت لنکن شائر کاؤنٹی کے لیے کھیل رہے ہیں۔

اگرچہ عظیم رفیق ورلڈ کپ کھیلنے والی انگلش ٹیم میں نہیں ہیں لیکن وہ اگلے چھ ہفتوں کے دوران کرکٹ کی عالمی جنگ پر پوری نظر رکھیں گے۔

اس بارے میں ان کے جذبات ملے جلے ہیں۔ ان کے مطابق وہ سٹوکس، جو رووٹ، وینس اور جوس کے لیے بہت خوش ہیں کیونکہ وہ اعلیٰ درجے کے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹوکس نے آخری سیزن کے اختتام پر ان کے لیے پیغام بھی چھوڑا تھا اور وہ دونوں اب بھی ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہتے ہیں۔

عظیم رفیق نے کہا: ’میں ان کے لیے بہت خوش ہوں بلکہ یہ صرف ایشز یا ورلڈ کپ تک محدود نہیں ہے۔ میں جب بھی انہیں انگلینڈ کے لیے کھیلتے دیکھتا ہوں مجھے حوصلہ ملتا ہے۔ ان کا کھیل میرے لیے پیغام ہے کہ میں اب بھی کھیلنا چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر آپ ان کو کھیلتے ہوا دیکھتے ہوں اور آپ کو یہ محسوس نہ ہو کہ آپ کو بھی وہاں ہونا چاہیے، تب شاید آپ کا کھیل چھوڑنے کا وقت ہو گیا ہے۔ ’میں امید کرتا ہوں کہ انگلینڈ ورلڈ کپ اور ایشز سیریز جیت جائے۔ اس سے ملک میں کرکٹ کا کھیل مزید آگے بڑھے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2010 میں نیوزی لینڈ میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں عظیم رفیق کی کپتانی میں انگلینڈ کی ٹیم گروپ مرحلے کے تینوں میچ جیتنے کے باوجود اچھے کھیل کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ بھارت کے خلاف آخری کوالیفائنگ میچ میں بین سٹوکس نے 80 گیندوں پر سنچری بنائی تھی لیکن انگلینڈ کی ٹیم کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیزسے ہار گئی۔

عظیم رفیق کی رائے میں انگلینڈ کو وہ انڈر 19 ورلڈ کپ ٹورنامنٹ جیتنا چاہییے تھا، لیکن عالمی مقابلوں میں ایسا ہوتا ہے۔ ’آپ کو ہر میچ کے ہر منٹ میں گیند پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔‘

2010 کا انڈر19 ورلڈ کپ آسٹریلیا کی ٹیم نے میچ مارش کی قیادت اور جاش ہیزلوڈ کی شاندار بولنگ کی مدد سے جیتا، لیکن کین رچرڈسن کے علاوہ اس ٹیم کا کوئی بھی فرد آگے جا کر اعلیٰ درجے پر آسٹریلیا کے سکواڈ میں جگہ نہیں بنا سکا۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ با صلاحیت نوجوان کھلاڑی ہونا مستقبل میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ 2009 میں 18 برس کی عمر میں یارک شائر کاؤنٹی سے کھیل کا آغاز کرنے والے عظیم رفیق اس سے باخوبی واقف ہیں۔ وہ 2012 میں کاؤنٹی ٹیم کی کپتانی کرنے والے پہلے ایشیائی کھلاڑی بن گئے۔

اب وہ کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔ شاید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جہاں سے انہوں نے کھیل کا آغاز کیا تھا۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں انہیں یارک شائرکاؤنٹی کے لیے 100 سے زیادہ وکٹیں لینے پرفخر ہے۔

عظیم رفیق کہتے ہیں: ’میں سچن ٹنڈولکر اور مڈل سیکس گلوبل اکیڈمی کے لیے تھوڑی بہت کوچنگ کروں گا۔ میں کلب کرکٹ اور بعض چھوٹی کاؤنٹیوں کے لیے کھیل رہا ہوں لیکن فی الوقت تو کم ازکم کرکٹ میری پہلی ترجیح نہیں ہے۔ مستقبل میں میرے کھیل کی جو بھی صورت ہو اس وقت میں اس حوالے سے مطمئن ہوں اور اپنی کرکٹ سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا کھیل بھی رہا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ