داعش سے چھٹکارے کا واحد راستہ طالبان ہی ہیں: عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں طالبان حکومت پر پابندیوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے افغانستان میں انتشار اور ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہوگا۔

افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد سے اب تک امریکی صدر جو بائیڈن کی عمران خان سے بات نہیں ہوئی ہے، یہ تصویر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے موقع پر بنائی گئی تھی (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں طالبان حکومت پر پابندیوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے افغانستان میں انتشار اور ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہوگا۔

مڈل ایسٹ آئی نامی برطانوی ویب سائٹ کے ساتھ ایک تازہ انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے ہم جیسے لوگ نہیں جانتے کے حالات کس طرف جا رہے ہیں۔‘

انٹرویو کے آغاز میں عمران خان سے سوال کیا گیا کہ اب جب کہ امریکہ افغانستان سے نکل گیا ہے تو کیا اس خطے کا جھکاؤ چین کی جانب ہوگا؟

اس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اب جب کہ امریکہ نہیں ہے تو لازمی بات ہے کہ وہاں ایک خلا پیدا ہو گا، اس خلا کو کون پر کرے گا؟ ظاہر ہے چین ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے، لیکن خطے کے دیگر ممالک سے بات کرنے کے بعد سب اسے ایک موقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ افغانستان تمام ممالک کے درمیان تجارتی راہداری ہے۔

’ہم اس موقعے پر یہ چاہیں گے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ امریکی کیمپ میں ہیں یا چینی کیمپ میں، میں سمجھتا ہوں کہ ہونا وہ چاہیے جو اس سارے خطے کے لیے ضروری ہے، اور وہ ہے اقتصادی تعلقات اور روابط۔۔ ہم یہی چاہتے ہیں۔‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران نے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا کہ طالبان کی اپنی صفوں میں سخت گیر عناصر سے بچنے کے لیے افغانستان کے ساتھ تعلقات استوار کیے جائیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ڈر ہے کہ طالبان 20 سال پہلے والی حالت میں چلے جائیں گے۔

’مستحکم طالبان حکومت ہی داعش کا مقابلہ کر سکتی ہے، اور یقین جانیں داعش سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا واحد راستہ طالبان ہی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ پہل نہیں کرتا، ہمیں پریشانی ہے کہ افغانستان میں انتشار پیدا ہوگا اور پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پر عمران خان سے سوال کیا گیا کہ جب آپ نے یہ سب باتیں امریکی صدر جو بائیڈن کے سامنے رکھیں تو ان کا کیا کہنا تھا؟

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’میری صدر بائیڈن سے فی الحال بات نہیں ہوئی ہے۔‘

یہ سن کر صحافی نے حیران ہوتے ہوئے دوبارہ سوال کیا کہ کیا آپ کی اب تک بات ہی نہیں ہوئی؟اس پر عمران خان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ان کی مرضی ہے وہ سپر پاوور ہیں۔‘

عمران خان کا اسی بارے میں مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے سکیورٹی چیف کی بات ہوئی ہے، ہمارے وزیر خارجہ کی امریکی وزیر خارجہ سے روابط ہیںت لیکن میری بات نہیں ہوئی ہے۔‘

’بھارت کو اسرائیل جیسی کھلی چھٹی ملی ہے‘

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنے زیر انتظام کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے وہی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے جو اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حاصل ہے۔

نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی پر الزام لگایا کہ وہ آبادکاروں کو متنازع علاقے میں زمیں لینے کی اجازت دے کر اسرائیلی حکمت عملی کی نقل کر رہے ہیں۔

عمران خان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو کھلی جیل قرار دیا اور بھارت پر الزام لگایا کہ اس نے آئین میں تبدیلی کے ذریعے کشمیر کی خود مختاری ختم کر کے جنیوا کنوشن کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’عالمی سطح پر بھارت کو زیادہ سختی کے ساتھ اس لیے چیلنج نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے مغربی اتحادی اسے چین کے خلاف دفاعی دیوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دہائیوں تک جاری رہنے والی سفارتی کوششوں کے بعد جولائی 2017 میں مودی کے دورہ اسرائیل اور اگلے سال اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے بھارت کے جوابی دورے کے نتیجے میں اس کے ساتھ  قائم ہونے والے سٹریٹیجک اور فوجی تعلقات کو مضبوط بنا کر بھارت نے فائدہ اٹھایا ہے۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا انکار

انڈرویو کے دوران پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے دورہ پاکستان منسوخ کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ پیسہ اس وقت کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈز کے لیے ایک بڑا کھلاڑی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ انڈین کرکٹ بورڈ اس وقت دنیا میں سب سے امیر بورڈ ہے۔ اس لیے عالمی کرکٹ کو بھارت کنٹرول کرتا ہے۔

’وہ وہی کرتے ہیں جو وہ (انڈیا) کہتا ہے، اور کوئی بھی ویسا ہی بھارت کے ساتھ کرنے کی جرت نہیں کرتا۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بھارت زیادہ پیسہ پیدا کرتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس لیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ انگلینڈ نے خود کو نیچے کیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا