پاکستان میں فٹ بال لیگ شروع ہونے سے پہلے ہی متنازع ہو گئی؟

ایک جانب فیڈریشن فٹ بال لیگ کے انعقاد کی تیاریوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب فیڈریشن آف انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن کی پاکستان میں قائم فیڈریشن کو متحد کرنے کے لیے بنائی گئی نارملائزیشن کمیٹی نے اسے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

نو جولائی2017 کو لاہور میں کھیلے جانے والے ایک دوستانہ میچ میں برازیلین سپر سٹار رونالڈینیو شریک ہیں(اے ایف پی فائل)

پاکستان میں ایک جانب فٹ بال کا کھیل فیڈریشنز کے تنازعات کا شکار ہے تو دوسری جانب پاکستان آئندہ سال میں کرکٹ لیگ کی طرز پر فٹ بال لیگ (پی ایف ایل) کرائے جانے پر بھی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

پاکستان فٹ بال لیگ (پی ایف ایل) کرانے کا اعلان متنازع پاکستان فٹ بال فیڈریشن ( پی ایف ایف) کی جانب سے کیا گیا ہے جس کے لیے فرنچائزز فروخت کرنے اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی اس لیگ میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے جی ایس وی نامی کمپنی کو ٹھیکہ بھی دے دیا گیا ہے۔

ایک جانب فیڈریشن فٹ بال لیگ کے انعقاد کی تیاریوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب فیڈریشن آف انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن کی پاکستان میں قائم فیڈریشن کو متحد کرنے کے لیے بنائی گئی نارملائزیشن کمیٹی نے اسے غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور اس کے انعقاد کو روکنے کے لیے عدالتوں سمیت  دیگر فورمز سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پی ایف ایل کا انعقاد کرانے کی تیاریاں:

فیفا کی جانب سے پاکستان کی متنازعہ قرار دی گئی فٹ بال فیڈریشن کے ایونٹ مینجر محمد اعجاز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فیڈریشن نے اگلے سال مارچ میں کرکٹ لیگ (پی ایس ایل) کی طرز پر پہلی بار فٹ بال لیگ کرانے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لیگ کے انتظامات اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی لیگ میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے جی ایس وی کمپنی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

’ملک بھر سے اس لیگ میں چھ ٹیمیں شریک ہوں گی جو کمپنی فائنل کرے گی، جب فرنچائزز تشکیل پا جائیں گی تو وہ ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کر کے اس لیگ میں میچ کھیلیں گی۔‘

محمد اعجاز کہتے ہیں کہ ’پہلی بار پاکستان میں اس لیول کی فٹ بال لیگ سے نہ صرف پاکستان میں اس کھیل کے فروغ کی کاوشوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے گا بلکہ کھلاڑیوں کو بھی اپنا ٹیلنٹ دکھانے اور پیسہ کمانے کا موقع ملے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ لیگ کراچی میں کرائی جائے گی اور اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت چھ ٹیمیں اس کا حصہ بنیں گی۔

فیفا کمیٹی کی جانب سے پی ایف ایل کی مخالفت کیوں؟

فیفا کی جانب سے پاکستان میں فٹ بال فیڈریشن کے معاملے پر بنائی گئی نارملائزیشن کمیٹی کے رکن شاہد کھوکھر نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن کے تنازعات پر فیفا نے کمیٹی تشکیل دے کر اختیار اس کمیٹی کو سونپ دیا اور دفتر پر ’زبردستی قبضہ‘ کرنے اور کمیٹی کو ’تسلیم نہ‘ کرنے پر فیفا نے پاکستان کی رکنیت بھی معطل کر رکھی ہے۔

ان کے بقول جب پی ایف ایف متنازع ہے اور ان کے پاس اختیار ہی نہیں تو وہ پی ایف ایل کیسے منعقد کر سکتے ہیں؟

’اگر متنازع فیڈریشن نے فیفا کمیٹی کو تسلیم کیے بغیر الیکشن کے بغیر فیڈریشن باڈی تشکیل نہ دی تو اس پی ایف ایل کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔ فیفا کی منظوری کے بغیر منعقدہ لیگ میں کوئی عالمی کھلاڑی شرکت نہیں کر سکتا اور ہم اس اقدام کو روکنے کے لیے عدالتوں سمیت ہر فورم استعمال کریں گے۔‘

ان کے مطابق قانونی طور پر موجودہ فٹ بال فیڈریشن کے عہدیداروں نے فیڈریشن پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب فٹ بال فیڈریشن کے عہدیدار محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ ’فیفا کسی بھی ملک کی نیشنل لیگ میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی، نہ ہی وہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان لیگ میں شرکت سے روک سکتے ہے۔‘

ان کے مطابق فیفا کمیٹی نے دو سال سے پاکستان میں فٹ بال کے ایونٹ روک رکھے ہیں جس سے مقامی کھلاڑی پریشان ہیں۔ ’ہم کھیل کو فروغ دینے کے لیے پہلی بار پی ایف ایل کرانے لگے ہیں تو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

پی ایف ایل سے مالی فائدہ ہو گا؟

محمد اعجاز کے مطابق پی ایف ایل کے انعقاد سے کرکٹ پی ایس ایل کی طرز پر کمرشلائزیشن سے نہ صرف فیڈریشن بلکہ کھلاڑیوں کو بھی کروڑوں کا فائدہ ہوگا جس سے مالی مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب شاہد کھوکھر کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی مارکیٹ کے مطابق پی ایف ایل اگر منعقد ہو بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ 20 کروڑ روپے تک جمع ہوں گے، لیکن ان فنڈز کی کسی کو پرواہ نہیں جو فیفا نے تین سال سے فیڈریشن کے تنازع پر روک رکھے ہیں، وہ 120 کروڑ کے قریب بنتے ہیں اب بتائیں غیر قانونی طور پر فیڈریشن کے عہدوں پر قبضہ کرنے والے مالی طور پر فائدہ کر رہے ہیں یا نقصان؟‘

ان کے بقول اگر نارملائزیشن کمیٹی کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں اور فیڈریشن کی باڈی تشکیل دے کر فیفا میں رکنیت بحال کرائی جائے اور اپنے فنڈز حاصل کیے جائیں تب فٹ بال بحال ہوگی یا اس طرح غیر قانونی طریقہ سے لیگ کرا کے چند کروڑ عارضی طور پر جمع کر کے فائدہ ہو گا۔

’فیفا میں رکنیت دنیا میں صرف پاکستان کی ابھی تک منسوخ رہ گئی باقی جن کی ہوئی تھی انہوں نے تنازعات حل کر کے بحال کرا لی۔‘

محمد اعجاز کے مطابق پی ایف ایل کا انعقاد ہر صورت ہوگا اور فیفا کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ ’ہم نے شروع سے ہی کہا کہ نارملائزیشن کمیٹی انتخابات کرانا ہی نہیں چاہتی اور اپنا اختیار برقرار رکھا ہوا ہے جو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی بھی ہے کیونکہ سپریم کورٹ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے عہدیداروں کو قانونی قرار دے چکی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال