سالوں بعد امریکہ کی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں واپسی

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکہ نے سال 2018 میں اس کونسل سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ امریکہ نے انسانی حقوق کونسل پر منافقانہ رویے اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔

 27 مئی 2021 کی اس تصویر میں اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کی ہائی کمشنر مشیل باشلیٹ انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس سے ویڈیو خطاب کر رہی ہیں(اے ایف پی فائل)

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے اپنی ڈرامائی علیحدگی کے سالوں بعد جمعرات کو امریکہ واپس اس کونسل میں شامل ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں امریکہ کی یہ واپسی ساڑھے تین سال بعد ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی غیر حاضری میں چین نے اس کونسل میں اپنے اثر و نفوذ کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کونسل کے 18 نئے ارکان کو منتخب کیا ہے۔ نئے ارکان کی تین سالہ مدت کا آغاز یکم جنوری سے ہو گا۔

نئے ارکان کو خفیہ رائے شماری سے منتخب کیا ہے گیا ہے لیکن یہ انتخاب بلامقابلہ ہی تھا کیونکہ 18 نشستوں کے لیے 18 ممالک ہی امیدوار تھے۔

منتخب ہونے والے نئے ارکان میں امریکہ کے علاوہ ارجنٹائن، بینن، کیمرون، ارٹیریا، فن لینڈ، گیمبیا، ہونڈراس، بھارت، قزاقستان، لتھونیا، لکسمبرگ، ملائشیا، مونٹی نیگرو، پیراگوائے، قطر، صومالیہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

اس کونسل کی ذمہ داریوں میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کو فروغ دینا اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ کونسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تجاویز دینے اور ان پر غور کرنے کا کام کرتی ہے۔ ارٹیریا کے انتخاب نے کونسل کے ارکان میں ایک سخت گیر حکومت کی موجودگی پر سوال بھی اٹھا دیے ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکہ نے سال 2018 میں اس کونسل سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ امریکہ نے انسانی حقوق کونسل پر منافقانہ رویے اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم امریکی صدر جو بائیڈن کی صدارت کے دوران کونسل میں واپسی پر امریکہ کو ایک بااثر چین کا سامنا کرنا ہو گا جس نے امریکہ کی غیر موجودگی میں اپنا اثر بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ برسوں میں چین اور اس کے اتحادیوں جن میں بیلاروس اور وینزویلا شامل ہیں، نے مشترکہ بیانات میں ہانگ کانگ، سنکیانگ اور تبت میں چینی اقدامات کی حمایت کی ہے جب کہ مغربی ممالک میں ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ کی مذمت کی ہے۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کئی افراد واشنگٹن کی اس کونسل میں واپسی کو امریکی حمایت یافتہ لابی اور چینی حمایت یافتہ لابی میں تقسیم ہوتا دیکھتے ہیں۔

یونیورسل رائٹس گوپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارک لیمون کے مطابق رواں سال میں بطور مبصر اس کونسل میں دوبارہ کردار ادا کرنے سے ’امریکہ صرف ایک چیز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو چین ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’چین پر یہ حملے اور چینی رد عمل انسانی حقوق کونسل کے اہم کاموں میں سے تمام توانائی خرچ کر رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’کئی ممالک اس تمام صورت حال سے تنگ آ چکے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ایک کثیرالجہتی نظام بڑی عالمی طاقتوں کا یرغمال بن جائے۔‘

انہوں نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی سوچ کو وسعت دے جو امریکی غیر موجودگی میں چین کے قریب ہو چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا