ایران میں وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے: طالبان

افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آئندہ بدھ کو ایرانی دارالحکومت تہران میں منعقد ہوگا تاہم افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ اس میں شرکت نہیں کریں گے۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد 21 ستمبر کو کابل میں ایک پریس کانفرنس میں۔ انہوں نے کہا ہے کہ طالبان ایران میں ہونے والی پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے (اے ایف پی)

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران میں منعقد ہونے والے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔

اجلاس آئندہ بدھ کو ایرانی دارالحکومت تہران میں منعقد ہوگا اور طالبان نے اس میں عدم شرکت کی کوئی وجہ ظاہر نہیں کی۔

افغان ’طلوع‘ نیوز نیٹ ورک کے مطابق طالبان کی حکومت میں اطلاعات اور ثقافت کے نائب وزیر ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو کہا کہ طالبان کے نمائندے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

روسی نیوز ایجنسی سپوت نک نے بھی اطلاع دی ہے کہ افغانستان میں برسر اقتدار طالبان حکومت کے نمائندے افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اگلے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

افغان ٹیلی ویژن نے ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے کہا کہ افغانستان کی حکومت کا کوئی بھی نمائندہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شرکت نہیں کرے گا، تاہم طالبان نے اس اجلاس کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ 18 اکتوبر کو ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ تھا ایران، چین، پاکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان پر مشتمل چھ ممالک تہران میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں کہا گیا تھا کہ اس اجلاس میں افغانستان میں جامع حکومت کی تشکیل کے طریقہ کار پر بات کی جائے گی۔ افغانستان کے پڑوسی ممالک کا یہ اجلاس ورچوئل نہیں ہوگا بلکہ وزرا خارجہ اس میں خود شرکت کریں گے۔

طالبان مدعو نہیں

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران، چین، پاکستان، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ چینی وزیر خارجہ اجلاس میں ورچوئل شرکت کریں گے تاہم روس کی طرف سے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ملی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ طالبان کو اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ طالبان کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا۔

افغانستان کے پڑوسی ملکوں کے وزرائے خارجہ کا پہلا اجلاس آٹھ ستمبر کو پاکستان کی صدارت میں منعقد ہوا تھا، اس میں اگلا اجلاس تہران میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اس اجلاس میں اپنے خطاب میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے بین الافغان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ’تمام امکانات‘ فراہم کرنے کے لیے ایران کی طرف سے تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

پہلی ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، چینی وزیر خارجہ وانگ یی، پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ترکمان وزیر خارجہ راشد مرادوف ، تاجک وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین ، اور ازبک وزیر خارجہ عبدالعزیز کاملوف نے شرکت کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا