گاڑی چلاتی دلہن: ’رخصتی روئے بغیر بھی ہو سکتی ہے‘

ہنزہ سے تعلق رکھنے والے اکمل علی اور ثوبیہ کی ایک ویڈیو گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دلہن کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دلہا فرنٹ سیٹ پر ان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

’ہمارا پیغام یہی ہے کہ شادی میں رخصتی کے وقت دلہن کے رونے کے بجائے اس عمل کو نارمل لیا جائے کیونکہ رخصتی روئے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔‘

یہ کہنا تھا ہنزہ سے تعلق رکھنے والے اکمل علی اور ثوبیہ کا، جن کی ایک ویڈیو گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دلہن کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دلہا فرنٹ سیٹ پر ان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

وائرل ویڈیو کے حوالے سے اکمل علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے سے کچھ خاص منصوبہ نہیں بنایا تھا اور مجھے خود بھی شوق تھا کہ میں رخصتی کے وقت گاڑی چلاؤں۔‘

انہوں نے بتایا کہ نکاح کے بعد انہوں نے گاڑی خود چلائی لیکن راستے میں ویڈیو شوٹ کے لیے کیمرہ مین نے دلہن سے کہا کہ وہ اپنا سر گاڑی کے سن روف سے باہر نکال لیں۔

بقول اکمل: ’جب دلہن نے سن روف سے مجھے دیکھا تو انہوں نے اندازہ لگایا کہ میں تھکا ہوا ہوں کیونکہ شادی کے چکر میں تین دن تک سویا نہیں تھا، تو انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ تھک گئے ہیں تو میں گاڑی چلا لوں؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں چلا سکتی اور یوں ڈرائیونگ سیٹ دلہن کے لیےچھوڑ دی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکمل اور ثوبیہ سے جب پوچھا گیا کہ دلہن کی گاڑی چلانے سے کیا پیغام دینا چاہتے تھے تو اس کے جواب میں ثوبیہ کا کہنا تھا کہ اکثر رخصتی کے وقت دلہن کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ہمارا پیغام یہی ہے کہ اس عمل کو نارمل لیا جائے اور رخصتی کے وقت رونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ثوبیہ نے مزید بتایا کہ ہم اس عمل سے خواتین کو گاڑی چلانے کے حوالے سے بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہنزہ میں تو خواتین کے لیے گاڑی چلانا نارمل ہے لیکن جہاں نہیں ہے، وہاں خواتین کے گاڑی چلانے کو بھی نارمل لیا جانا چاہیے۔

بقول ثوبیہ: ’خواتین بھی مردوں کی طرح ہر شعبے میں کام کرتی ہیں اور یہ اچھی بات ہے کہ اگر کوئی خاتون خود گاڑی چلائیں۔ اس سے ان کے گھر کے مرد بھی مطمئن ہوں گے کہ چلو ان کے گھر کی خواتین خودمختار ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین