کچھ لوگ اچھی سبزی لے کر خراب چھوڑ جاتے ہیں: نابینا سبزی فروش

بصارت سے محروم محمد بشیر ایبٹ آباد کے کامرس چوک پر سڑک کنارے سبزی کی ریڑھی لگاتے ہیں جہاں خریداری کے لیے آنے والے خود ترازو کا استعمال کرکے سبزی لیتے ہیں اور رقم انہیں تھما جاتے ہیں۔ 

’یہاں میرے ساتھ سب نے اچھا ہی کیا ہے۔ برا کسی نے نہیں کیا لیکن بعض لوگ ایسے بھی آتے ہیں جو اچھی اچھی سبزی چن کر لے جاتے ہیں اور بری بری چھوڑ جاتے ہیں، جو پھر مجھے گھر لے جانی پڑتی ہے۔ میرے لیے یہ پریشانی ہے۔ کبھی مال بکتا ہے کبھی نہیں۔‘

بصارت سے محروم محمد بشیر رزق حلال کمانے کے لیے کسی پر بھروسہ نہیں کرتے۔ وہ ایبٹ آباد کے کامرس چوک پر سڑک کنارے سبزی کی ریڑھی لگاتے ہیں جہاں خریداری کے لیے آنے والے خود ترازو کا استعمال کرکے سبزی لیتے ہیں اور رقم انہیں تھما جاتے ہیں۔ 

ان کے ٹھیلے پر ایک بینر موجود ہے، جس پر درج ہے: ’اپنے نابینا بھائی کی مدد کریں۔ سبزی لے کر برائے مہربانی ان کی مدد کریں۔ ترازو کا استعمال خود کریں۔‘

محمد بشیر کی آنکھیں ہمیشہ سے بے نور نہیں تھیں اور وہ پہلے گاڑیوں کا کام کیا کرتے تھے، لیکن پھر اچانک ان کی آنکھوں میں درد ہوا اور آہستہ آہستہ ان کی بینائی جاتی رہی۔ 

محمد بشیر کے مطابق وہ چار سال تک گھر میں بے روزگار بیٹھے رہے اور پھر  ان کے ایک دوست نے انہیں کنٹونمنٹ بورڈ کی اجازت سے سبزی کی ریڑھی لگا دی، جس سے وہ اپنے خاندان والوں کے لیے روزی روٹی کمانے کے قابل ہوئے۔ 

بقول بشیر: ’میں نے کافی علاج کروایا، اِدھر اُدھر پھرا، بہت سے ہسپتالوں میں گیا لیکن کہیں سے بھی علاج نہ ہوسکا۔ بس خاموش ہو کے گھر میں بیٹھ گیا تھا۔ پھر کسی نے مجھے یہ ریڑھی لگا کر دے دی۔ میرے بچوں کا رزق لگا ہوا ہے ورنہ میرے کمانے کاذریعہ کوئی نہیں تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد بشیر کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، جو سب زیر تعلیم ہیں۔ ان کے تین بچے حافظ قرآن ہیں۔

اپنے روزمرہ کے معمولات کے بارے میں انہوں نے بتایا: ’میں صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک یہاں پر ہوتا ہوں۔ میرے دوست مجھے منڈی سے سبزی لا کر دیتے ہیں، جسے میں کلو کے حساب سے بیچتا ہوں۔۔۔کبھی دو سو کبھی تین سو روپے بچ جاتے ہیں، کبھی کچھ نہیں بچتا۔کبھی مال کے بھی پیسے پورے نہیں ہوتے۔‘

سبزی کے ناپ تول سے متعلق سوال کے جواب میں محمد بشیر نے بتایا کہ ’زیادہ تر لوگ آتے ہیں اور خود ہی سبزی تولتے ہیں۔ مجھے بتا دیتے ہیں کہ حافظ صاحب پیسے لے لیں، ہم نے اتنی چیز لی ہے۔ اتنے کلو لی ہے۔ اتنے پیسے لے لیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’کئی اچھے لوگ بھی ہیں، جو سودے کے ساتھ سو دو سوروپے زیادہ دے جاتے ہیں۔ چند لوگ ہیں جو مجھے سپورٹ کرتے رہتے ہیں، مہینے کے مہینے آتے ہیں اور مجھے دو تین ہزار روپے دے جاتے ہیں۔‘

آخر میں محمد بشیر نے سب سے اپیل کی کہ وہ آئیں اور ان سے سبزی لے کر جائیں۔ ’آپ (سبزی) لیں گے تو میرے گھر کا چولہا بھی جلے گا اور آپ کو ثواب بھی ملے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی