مجرم کون ہے؟

بتایا تو جاتا ہے کہ احساس اور عمل کی تبدیلی آ چکی ہے اور اب کسی صورت انتہاپسندی کے عفریت کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا لیکن سوال تو پھر بھی وہی ہے کہ کیا یہ ریاستی پالیسی کی مستقل تبدیلی ہے یا وقتی حالات کے تحت کی مجبوری؟

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکن 23 اکتوبر 2021 کو لاہور سے دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کے موقع پر آنسو گیس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں (اے ایف پی)

انگریزی کا مشہور قول ہے، حماقت ایک ہی عمل کو مسلسل دہرائے جانے اور یہ امید رکھنے کہ نتیجہ ہر بار مختلف آئے گا کا نام ہے۔

اسلام اور پیغمبر کے عشق کے نام پر پاکستان میں مذہبی جنونیت کا جو سلسلہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے، اس میں ریاست کے عملی کردار کو بھی انگریزی کے اِس مشہور مقولے سے بلاجھجھک بعینہ تشبیہہ دی جا سکتی ہے۔

اول، اس امر میں تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم سب مسلمان اللہ اور اس کے رسول کے عاشقان جاں نثار ہیں۔

لیکن ایک لمحے کو ذرا سوچیں تو سہی کہ جس رحمت اللعالمین کے نام لیوا اسلام جیسے امن پسند، انسانیت سے محبت کرنے والے مذہب کے نام پر اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں اور بچوں کی جان و مال اور تحفظ کے درپے ہو جائیں، سڑکوں پر دنگا فساد کرتے پھریں، اللّہ کی مخلوق اور نبی کے دیگر نام لیواؤں کے لیے زندگی تکلیف دہ بنا دیں، کیا ایسے میں دینِ الہی کی خدمت اور پیغمبر اسلام کی اطاعت ہو رہی ہے یا جانے انجانے میں اپنے ہی واسطے گڑھا کھود رہے ہیں؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے یہ کھوج لگانا ازحد ضروری ہے کہ کیا اس سب تماشے کے ذمہ دار صرف وہی ہیں جو سڑکوں پر انارکی پھیلاتے نظر آتے ہیں یا اس کے پیچھے جرم ریاست کا ہے؟

جب تک اس بنیادی سوال کا جواب دیانت داری سے نہیں دیا جائے گا تب تک اس ’فرینکنسٹائن کے عفریت‘ کو عارضی حیلوں بہانوں سے شکست نہیں دیی جا سکتی۔

اس عفریت کے سینکڑوں بازو ہیں۔ ایک کاٹو نیا دوبارہ اگ آتا ہے۔ لیکن یہ تو دیکھا جائے کہ آخر اس عفریت کو ایندھن کون مہیا کر رہا ہے اور کرتا رہا ہے؟ تلخ ہے مگر حقیقت ہے کہ قصہ کوئی دو چار برس کا نہیں دہائیوں کا ہے۔

ریاست کے تمام طاقتی مراکز، بشمول سیاسی جماعتوں اور حکومتوں، نے اس عفریت کو اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے مقاصد کے لیے خفیہ و اعلانیہ ہر طریقے سے بلا خوف و خطر استعمال کیا ہے۔

کتنی حکومتیں، کتنے وزرائےاعظم اس کی بھینٹ چڑھ گئے لیکن اس عفریت کی خون کی پیاس بڑھتی ہی چلی گئی اور اس کے پیدا کرنے والے کبھی ایک تجرباتی فارمولے اور کبھی دوسرے لیب رزلٹ پر انحصار کرتے رہے۔

کبھی ایک نام و نشاں کبھی دوجا، لیکن حاصل صرفزیاں۔ ریاست جب اپنے معاملات کو مذہبی کیموفلاج کی نذر کرتی ہے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان مسلسل بھگت رہا ہے اور جس کی حالیہ شکل گذشتہ چند سالوں میں سڑکوں پر ہوئے احتجاج کی صورت عیاں ہے۔

ہر بار کی حماقت، ہر بارکے ناکام عمل کی دُہرائی اور ہر بار کی توقع کہ نتیجہ مختلف نکلے گا۔

لیکن نہیں، نتیجہ تو ایک ہی ہے، پاکستان میں مستقل بڑھتی انتہاپسندی اور لاقانونیت۔ آج کم از کم احساس تو ہو رہا ہے کہ یہ سب اسلام اور پاکستان کے تشخص کے لیے مثبت نہیں ہے، اسے دشمنانِ دین و ملک کی سازش قرار دیا جا رہا ہے یہاں تک کہ دشمن ملک کی فنڈنگ کے ببانگِ دہل دعوے بھی اچھالے جا رہے ہیں لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ کل تک واپسی کے کرائے کے لیے بڑے نیلے نوٹوں کی مقامی فنڈنگ سے دشمن ملک کی غیرملکی فنڈنگ تک کا راستہ آخر اس قدر جلد کیسے طے پا گیا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سوال کا جواب کون دے گا کہ کل تک عاشقان کہلانے والے آج اچانک معتوب و مذموم کیسے ہو گئے؟ کل کے محبوب آج کے راندۂ درگاہ میں کیسے ڈھل گئے؟ اور کیا ضمانت ہے کہ آنے والے کل میں کسی مختلف حالات کے پیشِ نظر یہ تمام دشنام طرازیاں ایک بار پھر عقیدت کی نوخیز کلیاں بنتے دیر نہ لگائیں گی؟

کسی کو تو یہ سب سوال پوچھنے ہیں۔ کسی کو تو ان سب سوالوں کا جواب دینا ہے۔ جس ناکردہ گناہ کی سزا عوام مملکتِ اسلامی جمہوریہ پاکستان گذشتہ کئی سالوں سے بھگتتے چلے آ رہے ہیں، فیصلہ تو کرنا ہو ہو گا کہ آخر وہ جرم تھا کس کا۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ بظاہر احساسِ زیاں کے باوجود ریاست کا کردار اب بھی مسلسل غلطی پر ہی مبنی ہے۔ اب بھی اس مسئلے کے عارضی حل ہی تلاش کیے جا رہے ہیں نہ کہ مستقل بنیادوں پر اس کا کوئی حل تراشا جائے۔ جس زخم کو سرجری درکار ہے اسے فی الحال میڈیکل بینڈیج لگا کر محض رِسنے سے روکا جا رہا ہے۔

دو دہائیوں سے زائد تک ریاست گہری کنفیوژن کا شکار رہی کہ دہشت گردی کی تعریف کس طرح کی جائے، کون دہشت گرد ہے، کون نہیں، کون اپنا ہے کون پرایا، کون اچھا ہے کون برا، تاوقتیکہ کئی سالوں کے مسلسل زیاں کے بعد احساس ہوا کہ اب تک کے تو سبھی اندازے سبھی حکمتِ عملیاں غلط تھیں۔

تب جا کر ایک نئی پالیسی کی چرخی گھمائی گئی اور یکسوئی کے ساتھ تمام شدت پسندوں کا ملک سے صفایا کیا گیا لیکن تب تک جو نقصانات ملک اور ریاست نے برداشت کیے ان کا ازالہ آج تک جاری ہے۔

بالکل اسی طرح گذشتہ کئی دہائیوں کی انتہاپسندی کے متعلق ریاستی کنفیوژن آج بھی برقرار ہے۔ کس کی انتہاپسندی مہلک ہے اور کس کی مخصوص مفادات کے تحت اکسیرِ خاص قرار دینی ہے، کون اپنا ہے کون پرایا ہے، کون اچھا ہے کون برا ہے، کون محبوب ہے کون معتوب، تاحال ریاست کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے کئی مصلحتوں کا شکار ہے۔

بتایا تو جاتا ہے کہ احساس اور عمل کی تبدیلی آ چکی ہے اور اب کسی صورت انتہاپسندی کے عفریت کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا لیکن سوال تو پھر بھی وہی ہے کہ کیا یہ ریاستی پالیسی کی مستقل تبدیلی ہے یا وقتی حالات کے تحت کی مجبوری؟

اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ مستقبل میں مختلف حالات اور مفادات کے تحت بوتل میں بند کیے جن کو رہائی کا راستہ نہیں دکھایا جائے گا؟

اور یہ انتہا پسندی کے خلاف کیسی عدم برداشت ہے کہ اسے خصوصی طیارے پر خصوصی پروٹوکول کے ساتھ اعلیٰ ایوانوں میں خفیہ مذاکرات کے لیے رسائی فراہم کی جاتی ہے؟

یہ احساس اور سوچ کی کیسی تبدیلی آئی ہے کہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ کبھی کالعدم اور کبھی پابندی نہ لگنے کے جواز مہیا کیے جاتے ہیں؟

یہ پالیسی سازی کا کیسا ریاستی معیار ہے کہ مخصوص مفادات کے تحت اسی انتہاپسندی کو حقِ حکمرانی سے بھی نوازا جاتا ہے اور تصدیق شدہ ٹھپوں والے نشانات بھی الاٹ کروا لیے جاتے ہیں؟

یہی وہ دورُخی ہے جس کی بِنا پر عوام آج بھی اس معاملے پر ریاست کے کردار پر سوال کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن آخرِ کار تمام سوالوں کا جواب اس بنیادی سوال میں ہی مضمر ہے کہ جرم کس کا تھا؟


نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ