سویڈن میں پہلی بار خاتون کا وزیراعظم بننے کا امکان

میگڈالینا اینڈرسن حکمران جماعت سوشل ڈیموکریٹس کی رہنما منتخب ہوچکی ہیں اور وہ ملک کی وزیراعظم بننے والی ہیں۔

 20 ستمبر 2021 کو لی گئی اس تصویر  میں  سویڈن کی وزیر خزانہ میگڈالینا اینڈرسن محکمہ خزانہ سے پارلیمنٹ تک روایتی واک کے دوران ، جہاں انہوں نے سٹاک ہوم میں نائبین کے سامنے 2022 کی بجٹ تجویز پیش کیں(اے ایف پی)

سویڈن کی میگڈالینا اینڈرسن تاریخ رقم کرنے کے قریب ہیں۔ وہ گذشتہ ہفتے حکمران جماعت سویڈش سوشل ڈیموکریٹس پارٹی (سوشل ڈیموکروٹینا) کی رہنما منتخب ہوئیں، جس سے ان کے ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

رہنما بننے کا انتخاب گذشتہ چند دنوں کے دوران گوتھن برگ شہر میں ہوا۔ پارٹی کی 131 سالہ تاریخ میں وہ منتخب ہونے والی صرف دوسری خاتون رہنما ہیں۔ مونا سہلین 2007 میں پارٹی رہنما تھیں لیکن وہ کبھی بھی وزیراعظم کے دفتر تک نہیں پہنچ سکی تھیں۔

اس بار ایسا لگتا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ میگڈالینا اینڈرسن ممکنہ طور پر اس ہفتے کے اختتام تک ملک کی رہنما بن جائیں گی۔

سویڈن کی موجودہ حکومت سوشل ڈیموکروٹینا اور ملجوپارٹیٹ (گرینز) کے درمیان اتحاد ہے، جسے سینٹرپارٹیٹ (مرکز کی جماعت) اور وانسٹرپارٹیٹ (بائیں بازو کی پارٹی) کی حمایت حاصل ہے۔

موجودہ وزیراعظم سٹیفن لوف وین نے، جو جمعرات تک سوشل ڈیموکروٹینا کے رہنما بھی تھے، اگست کے آخر میں اپنے عہدے اور پارٹی قیادت کے کردار سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

یہ اقدام بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنا کیونکہ سویڈن کے اگلے عام انتخابات ستمبر 2022 میں ہونے والے ہیں۔ مسٹر لوف وین نے کہا کہ وہ آئندہ انتخابات سے قبل پارٹی کی قیادت جاری رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور وہ پارٹی کے نئے رہنما کو ’بہت بہترین حالات‘ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

میگڈالینا اینڈرسن 2014 سے سویڈن کی وزیر خزانہ ہیں لیکن اگلی جمعرات کے ساتھ ہی پارلیمنٹ ان کے وزیراعظم بننے والے حکومتی ردوبدل کی منظوری دے سکتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں وہ دیگر حکمران جماعتوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کریں گی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا انہیں ’اتفاق رائے پر مبنی‘ سویڈش سیاسی روایت کے مطابق ووٹ کے قریب پہنچنے سے پہلے ان کی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔

اگرچہ صنفی مساوات کے اعداد و شمار میں سویڈن عالمی چارٹ میں سرفہرست ہے اور اپنی ترقی پسند ساکھ کے باوجود نارڈک خطے کا واحد ملک ہے، جس میں کوئی خاتون وزیراعظم نہیں تھیں۔

آئس لینڈ دنیا کا پہلا ملک تھا، جس نے 1980 میں ایک خاتون صدر منتخب کی اور 2009 میں ایک خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سنا مارین فن لینڈ کی موجودہ وزیراعظم ہیں۔ میٹ فریڈریکسن اس وقت ڈنمارک کی قیادت کر رہے ہیں اور گذشتہ ماہ تک ایرنا سولبرگ ناروے میں رہنما تھیں۔

54 سالہ میگڈالینا اینڈرسن سٹاک ہوم کے شمال میں اپسالا میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے سٹاک ہوم سکول آف اکنامکس میں معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور ہارورڈ میں وقت گزارا۔ 2017 میں سویڈش اخبار ایکسپریسن کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی پارٹی کی رہنما بننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہیں۔

انہوں نے اس ہفتے اپنی پارٹی کانفرنس کو بتایا کہ ان کی ترجیحات ماحول اور معاشرے میں علیحدگی کا مقابلہ کرنا ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح ہر شخص کو معاشرے میں حصہ ڈالنے میں ’اپنا کردار‘ ادا کرنا چاہیے اور فلاحی فوائد کے اہل ہونے کے لیے ہفتے میں مخصوص گھنٹے کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو آپ کے ساتھ ایک فرد کی طرح سلوک کرنا چاہیے کیونکہ سویڈن میں یہ اسی طرح کام کرتا ہے۔

انہوں نے سکولوں اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات میں بڑھتی ہوئی نجکاری کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مضبوط فلاحی ریاست اور عوامی خدمات میں منافع کا پیچھا کرنے والی کمپنیوں سے ’کنٹرول واپس لینے‘ کا مطالبہ کیا۔

یہ ایک ایسے رہنما کی تقریر تھی جسے اپنی پارٹی کے اندر وسیع حمایت حاصل ہے اور اس کا مقصد سوشل ڈیموکروٹینا کے محروم ووٹروں تک پہنچنا ہے، جنہوں نے گذشتہ چند سالوں کے دوران بائیں بازو کی جماعت (وانسٹرپارٹیٹ) یا دائیں بازو کے قوم پرستوں سویڈش ڈیموکریٹس (سویریگیڈیموکرترنا) کو اپنا ووٹ دیا ہے۔

اگرچہ اب بھی انتخابات میں یہ سب سے بڑی جماعت ہے لیکن سوشل ڈیموکریٹس اور دیگر جماعتوں کے درمیان فرق ختم ہو رہا ہے۔ امکان ہے کہ اگلے انتخابات میں مرکزی حزب اختلاف اعتدال پسند دائیں بازو کے عوامیت پسند سویڈن ڈیموکریٹس کے قریب ہو جائیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر