سفید پوشی، خودداری اور یہ مجبوریاں

خود داری بہترین انسانی صفت ہے اور آج تک خوددار انسان کبھی ناکام نہیں ہوا۔

اسلام آباد میں ایک مزدور۔ برے وقت میں اگر ہم کسی کو کچھ دے نہیں سکتے لیکن تسلی کے دو بول تو بول سکتے ہیں(فائل فوٹو: اے ایف پی)

میں جب کسی کو سڑک پہ ٹھیلہ لگائے دھوپ میں کھڑا ’ٹھنڈا شربت پی لو...‘ کی آوازیں لگاتے دیکھتی ہوں یا کوئی اپنے کندھے پہ کسی کا سامان لادے اس کے پیچھے چلتا ہوا نظر آتا ہے تو سوچنے پہ مجبور ہو جاتی ہوں کہ مالک ان کی آزمائش واقعی کٹھن ہے۔

میرا گذشتہ دنوں راولپنڈی کے ایک مشہور ہسپتال جانا ہوا۔ وہاں میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو لگ بھگ 70 سال کے تھے۔ بہت تکلیف میں تھے پر ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ مجھ سے رہا نہیں گیا میں ان کے پاس چلی گئی، پوچھا بابا جی کیا ہوا ہے آپ کو؟

تو کانپتے ہاتھ سے انہوں نے اشارہ کیا کہ سینے میں درد ہے۔

میں ڈاکٹر کو بلا لائی۔ انہوں نے چیک کرنے کے بعد کچھ ٹیسٹ لکھے اور نرس کو انجکشن لگانے کی ہدایت کر کے چلے گئے۔

دل میں طرح طرح سوال تھے کہ ان کے ساتھ کوئی کیوں نہیں۔ یہ کون ہیں کہاں کے ہیں وغیرہ وغیرہ؟ 

میں اسی سوچ میں تھی کہ ان بزرگ نے مجھے آواز دی۔ 

بیٹی آپ کے بیٹے کو کیا ہوا ہے؟

میں نے انہیں بتایا کہ اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو چیک کروانے آئی ہوں۔ اب رپورٹس کا انتظار کر رہی ہوں۔

میں نے پوچھا : بابا جی آپ کہاں سے آئے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تو بولے میں چکوال سے ہوں۔

آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے؟ میں نے پھر سوال کیا۔ تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

بولے میرے ساتھ بس میرا اللہ ہے۔ جوان بیٹا ایک حادثے میں فوت ہوگیا اب اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ان کے لیے میں یہاں آیا ہوں مزدوری کرنے۔

میں نے پوچھا بابا جی کیا کام کرتے ہیں؟

تو بولے ریڑھے پہ سامان لاد کے لے جاتا ہوں اور ایک پھیرے کا 30 روپے مل جاتے ہیں۔ کبھی کبھی طبیعت خراب ہوتی ہے تو لوگوں کی گالیاں بھی سنتا ہوں کیونکہ ان کو کام چاہیے ہوتا ہے۔

جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے میرے لیے کسی دکھ سے کم نہ تھا کہ وہ اس حالت میں۔ اس عمر میں مزدوری کر رہے اور اس عمر میں اب بھی وہ کسی کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔

میں نے بابا جی کو تسلی دی کہ اللہ پاک آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور کچھ مدد کرنی چاہی پر بابا جی نے میرا ہاتھ روک دیا کہ میری بیٹی ہوتی تو آج وہ تمہاری عمر کی ہوتی اور باپ بیٹیوں سے پیسے نہیں لیتے۔

میں نے جب اصرار کیا تو کہنے لگے ’پتر مینوں شرمندہ نہ کر۔‘

ان کی آنکھوں میں خودداری دیکھ کر میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کر دیا۔ بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تھے پھر انہوں نے آہستہ سے آنکھیں بند کردیں۔

وہ دھیمی آواز میں کہنے لگے ’اللہ تمہیں اپنے بچے کی خوشیاں نصیب کرے۔ بچوں کو اللہ ماں باپ کے لیے زندہ رکھے۔ اللہ تمہارے بچے کو زندگی دے۔‘

میری آنکھیں بھیگنے لگیں۔

ان لوگوں کی تکلیف کا احساس کیا اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو ہے؟ ووٹ کی تو بڑی طاقت ہے کیا ان کے ووٹ حاصل کرنے کے بعد ان کو یاد رکھا جاتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب شاید اقتدار میں بیٹھے لوگ ہی دے سکتے پر میں دل سے دعا کر رہی تھی کہ اے اللہ مجھے اتنی طاقت دے کہ میں لوگوں کی زندگی سے ان کی تکلیفیں دور کرسکوں۔ آمین

خود داری بہترین انسانی صفت ہے اور آج تک خوددار انسان کبھی ناکام نہیں ہوا۔ 

ہر انسان خوددار رہنا پسند کرتا ہے اور اپنی خودداری پہ کبھی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتا لیکن بعض اوقات اسے ایسی مجبوریاں جکڑ لیتی ہیں جو اس کی خودداری کو جھکنے پر مجبور کر دیتیں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ