خارجہ پالیسی میں خودداری کا فقدان

ہماری یہ ذہنی پسماندگی ہمیں اس خیراتی دائرے میں گھماتی رہے گی اور ہمیں کبھی بھی معاشی یا دفاعی استحکام نہیں دے سکے گی۔

ہم اگر اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی ترقی کو دیکھیں تو یہ ایک افسوس ناک تصویر دکھائی دیتی ہے (اے ایف پی)

جغرافیائی طور پر چھوٹے اور معاشی طور پر کمزور ممالک آزاد، خودمختار اور خودداری پر مبنی خارجہ پالیسی بنانے سے عموما قاصر ہوتے ہیں۔ ان قدرتی اور ترقیاتی کمزوریوں سے زیادہ ان ممالک کی قیادت کی مدبرانہ اور بہت حد تک ان کی مالی اور اخلاقی کمزوریاں انہیں خودمختار خارجہ پالیسی تیار کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہیں۔

کچھ حد تک اس میں قوموں کی سہل پسندی، خیرات کھانے کی خصلت، محنت سے چوری اور کبھی کبھی ماضی میں زندہ رہنے کی عادت بھی ایک بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ بعض زندہ قومیں مشکل ترین حالات میں بھی عزم و ہمت سے کام لیتے ہوئے ان حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے آزادانہ خارجہ پالیسی بناتی ہیں اور کسی طاقت کے سامنے جھکے بغیر ترقی کا راستہ تلاش کرتی ہیں۔

عاقل ندیم کا یہ کالم آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

ویتنامی ایک ایسی قوم ہیں جنہوں نے پچھلی صدی میں جرات کے ساتھ پہلے ایک نوآبادیاتی طاقت کا مقابلہ کر کے آزادی حاصل کی اور اس کے بعد دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت امریکہ سے 19 سال کی جنگ اور لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر فتح حاصل کی۔ اور جب اس فتح کے کچھ سالوں بعد ان کے ایک ساتھی ہمسایہ ملک نے ان پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی تو اس بہادر قوم نے اس کا بھی مقابلہ کیا اور اس میں بھی کامیابی حاصل کی۔

اس وقت ویتنام ان شدید مشکلات کے باوجود ایک کامیاب معیشت ہے اور بڑی حد تک خودداری پر مبنی خارجہ پالیسی کامیابی سے چلا رہا ہے۔ اس کی آبادی تقریبا ساڑھے نو کروڑ کے قریب ہے اور اس کی برآمدات اس وقت 290 ارب ڈالرز سے بھی زیادہ ہیں۔ ویتنام کی فی کس آمدنی دو ہزار پانچ سو ڈالرز کے قریب ہے۔

اس کے مقابلے میں ہم اگر اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی ترقی کو دیکھیں تو یہ ایک افسوس ناک تصویر دکھائی دیتی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کبھی بھی خود مختاری پر مبنی نہیں رہی۔ یہ نہ تو آزاد تھی اور نہ ہی ہماری قومی خودداری اس میں جھلکتی رہی۔ ہم نےآزادی کے فورا بعد ہی ایک سہل پسندانہ غلامانہ سوچ کو پروان چڑھایا جس میں ہم نے اپنی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے دوسری قوموں کے آگے مختلف حیلے بہانوں کی بنیاد پر ہاتھ پھیلانا شروع کیے۔

یہ روش ابھی تک قائم ہے اور اب تو ہم نے خودداری کے نئے معیار قائم کرتے ہوئے سرکاری دورے کرنے والے چند حکمرانوں اور شہزادوں کے استقبال کے بعد ان کی گاڑیاں تک چلانا شروع کر دی ہیں۔ ہم ایک ایک ڈالر کے لیے عالمی مالیاتی اداروں، مغربی اور متمول مسلمان ممالک کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔

ہم اگر ویتنام سے اپنا مقابلہ کریں تو 1973 میں جس طرح کا تباہ حال ملک امریکہ نے ویتنامی قیادت کے لیے چھوڑا ہمارا ملک 1973 میں اس سے کئی گنا بہتر حالت میں تھا لیکن آج ہماری خارجہ پالیسی اور معیشت کی کیا حالت ہے؟ ہماری اس وقت آبادی تقریبا 22 کروڑ کے قریب ہے اور ہماری برآمدات ویتنام کے مقابلے میں معمولی 25 ارب ڈالرز ہیں اور ہماری فی کس صرف 1388 ڈالرز ہے۔

ہم خودداری سے عاری خارجہ پالیسی اور معاشی پسماندگی کے اس کم درجہ پر کیسے پہنچے؟ کیونکہ ہم نے شروع دن سے فیصلہ کر لیا کہ ہم نے اپنے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے خود انحصاری کی پالیسی نہیں اپنانی ہے بلکہ اس وقت کی دو عالمی قوتوں کی عالمی بالادستی کی دوڑ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بیساکھی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آگے چلنا ہے۔

ہم نے آزادی کے تقریبا فورا بعد ہی امریکہ اور سوویت یونین کی طرف دفاعی اور معاشی بہتری کے لیے دیکھنا شروع کر دیا جب کہ ہمارے اس وقت سلامتی کے کچھ بہت زیادہ سنجیدہ مسائل بھی نہیں تھے۔ سرد جنگ میں ہماری شرکت نے کچھ اداروں اور خاندانوں کو تو فائدہ پہنچایا لیکن ہماری سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کیا جب سوویت یونین نے U-2 پرواز گرائے جانے کے بعد پشاور کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ہماری اس خودداری سے خالی خارجہ پالیسی کی وجہ سے امریکہ ہمارے ہر معاملات میں، چاہے سیاسی، معاشی یا عسکری دخل اندازی کرنے لگا اور ایک وقت میں تو ہنری کسنجر نے ہمارے اس وقت کے سابق وزیر اعظم کو امریکی مفادات کے خلاف جانے پر خطرناک نتائج کی دھمکی دی۔ اور بہت سارے مورخین کے تجزیے کے مطابق ان کی حکومت کے خلاف بغاوت میں امریکی ہاتھ نمایاں تھا۔ امریکہ اپنے اسی اثر کی وجہ سے ہماری اور بھی حکومتیں ختم کروانے اور نئی حکومتیں بنوانے میں کامیاب رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم نے افغان ’جہاد‘ میں شرکت کے لیے باقاعدہ سودے بازی کی اور امریکہ کی شروع کی پیشکش کو مونگ پھلی کا دانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور اسے رقم بڑھانے کے لیے کہا۔ مطلوبہ رقم حاصل ہونے کے بعد ہم نے پورے ملک کو افغان جنگ میں جھونک دیا جس کے اثرات اب تک ہماری سلامتی کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

ہماری قومی خودداری 2001 میں دوبارہ ایک فون کال پر ڈھیر ہوگئی اور اس مرتبہ تو ہم نے اپنے فضائی اڈے تک مالیاتی آقاؤں کے حوالے کر دیے۔ اگر ہم اس وقت کچھ قومی خودداری کا مظاہرہ کرتے تو شاید ہماری تاریخ مختلف ہوتی۔

غرض آزادی کے بعد کے 73 برسوں میں ہم نے حتی الوسع کوشش کی کہ کس طرح ہم خود کوئی محنت کیے بغیر بیرونی امداد کے سہارے چلتے رہیں اور اس کوشش میں ہم نے قومی خود داری کے تمام معیار بالائے طاق رکھے۔ ہم نے کبھی امریکہ، کبھی خلیجی ممالک اور اب اقتصادی ترقی اور امداد کے لیے نظریں چین کی طرف کر لی ہیں۔ بہت محنت کے بعد ایک خوددار وزیر اعظم ہمیں ملے جو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ بھی اب اپنے درجے سے کم امریکی وزیر خارجہ کی فون کال فخر سے سنتے ہیں اور اس کے بارے میں باقاعدہ پریس ریلیز بھی جاری کرتے ہیں۔

ہماری یہ ذہنی پسماندگی ہمیں اس خیراتی دائرے میں گھماتی رہے گی اور ہمیں کبھی بھی معاشی یا دفاعی استحکام نہیں دے سکے گی۔ اس ذہنی پسماندگی کی وجہ سے آج ہم جلد از جلد امیر ہونا چاہتے ہیں اور اس کے لیے غلط ذرائع سے پیسے بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہم نے بحیثیت قوم کوئی ایسا کارنامہ سر انجام نہیں دیا جس سے ہم بین الاقوامی دنیا میں سر فخر سے بلند کر سکیں۔ آج ہمارے تمام ادارے زبوں حالی کی آخری حد تک پہنچے ہوئے ہیں۔ اگر کچھ ادارے بظاہر یا ان کے دعوؤں کے مطابق مضبوط نظر آتے ہیں تو وہ بھی فکری زبوں حالی کا شکار ہیں اور ہماری قومی قوت بڑھانے کی بجائے اس میں شگاف ڈالنے کے ذمہ دار ہیں۔

ہم اگر اس وقت بھی خارجہ پالیسی کے میدان میں اپنی سمت کو درست کر لیں تو ممکن ہے کہ ہم دنیا میں ایک آبرومندانہ مقام حاصل کرسکیں ورنہ اگر اسی ڈگر پر چلتے رہے تو ہم ایک بحران سے دوسرے بحران میں داخل ہوں گے اور ہمارا کمزور وفاق مزید سنگین خطرات میں گھر جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ