تاج محل میں سیاحوں اور سموگ کے ڈیرے

بھارت میں ان سیاحوں کو سیاحتی ویزا جاری کیا جا رہا ہے جو چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے 15 اکتوبر کے بعد سے ان ممالک سے آنا چاہتے ہیں جن کے ساتھ بھارت کا باہمی معاہدہ ہے۔ پیر کے روز اس میں مزید نرمی کر دی گئی ہے۔

بھارت نے کرونا کی وجہ سے 20 ماہ کی پابندی کے بعد پیر کو باہمی معاہدوں والے ممالک سے غیر ملکی سیاحوں کے لیے دروازے کھول دیے ہیں۔

تاہم، ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ ٹکٹس کی زیادہ قیمتوں اور برطانیہ، چین اور دیگر ممالک سے آنے والے مسافروں پر باقی ماندہ پابندیوں کی وجہ سے سیاحوں کی آمد کا رجحان کم ہے۔

بھارت کے مشہور سیاحتی مقام تاج محل، صحرائی علاقوں اور شیروں کی پناہ گاہوں کو مارچ 2020 میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے وبا میں شدت آنے کے ساتھ ہی بند کر دیا گیا تھا۔

لیکن تباہ کن اضافے کے بعد رواں برس کووڈ 19 کے انفیکشنز میں کمی آنے کے بعد حکومت پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کر دی تھی۔ بھارت میں شعبہ سیاحت معیشت کے لیے خاصا اہم ہے۔

بھارت میں ان سیاحوں کو سیاحتی ویزا جاری کیا جا رہا ہے جو چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے 15 اکتوبر کے بعد سے ان ممالک سے آنا چاہتے ہیں جن کے ساتھ بھارت کا باہمی معاہدہ ہے۔ پیر کے روز اس میں مزید نرمی کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن برطانیہ، یورپی یونین، چین، برازیل، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک سے آنے والے سیاحوں کو اضافی اقدامات کرنے ہوں گے جن میں آمد پر کووڈ 19 کے ٹیسٹ اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ پانچ لاکھ ویزے مفت جاری کیے گئے ہیں۔

انڈین ایسوسی ایشن آف ٹوؤر آپریٹرز کے صدر راجیو مہرا کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ملک میں آنے والے سیاحوں کی تعداد وبا سے قبل کی تعداد کے مقابلے میں پانچ فیصد تک رہے گی۔

مہرا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم سے لوگ پوچھ رہے ہیں اور ہم انہیں کوٹیشنز دے رہے ہیں لیکن جب وہ مہنگے فضائی ٹکٹس دیکھتے ہیں تو وہ ہمیں کہتے ہیں ہم بعد میں کوشش کریں گے۔‘

’اگر عالمی سطح پر حالات مستحکم رہے تو ہم امید کر رہے ہیں کہ اکتوبر 2022 میں فل ہاؤس رہے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات