ایشز کے لیے عثمان خواجہ کی ٹیم میں واپسی

ٹی 20 ورلڈ کپ میں میچ جتوانے والا سکور کرنے والے مچل مارش کو کو سکواڈ میں جگہ نہیں ملی حالانکہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ آل راؤنڈر کو ٹیسٹ کی سطح پر کھیلنے کا ایک اور موقع دیا جائے۔

ویڈ کے ڈراپ ہونے کے بعد پانچویں نمبر کے لیے عثمان خواجہ اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان مقابلہ ہو گا(اے ایف پی فائل)

تجربہ کار عثمان خواجہ اور مڈل آرڈر بلے باز ٹریوس ہیڈ کو بدھ کو انگلینڈ کے خلاف ایشزسیریز کے ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں کے لیے آسٹریلیا کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔

دونوں کھلاڑیوں کی ٹیسٹ سیریز میں واپسی ہوئی ہے۔ تاہم میتھیوویڈ کو سکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ ہفتے جیمزپیٹنسن کی اچانک ریٹائرمنٹ کے بعد مائیکل نیسر اور جائے رچرڈسن نے مچل سٹارک، پیٹ کمنز اور جوش ہیزل وڈ کے فاسٹ بولنگ اٹیک میں بیک اپ کے طور آسٹریلیا کے 15 رکنی سکواڈ میں جگہ بنائی ہے۔

انجری کے شکار ول پوکووسکی کی عدم موجودگی میں  توقع کے مطابق اوپنر مارکس ہیرس ڈیوڈ کا ساتھ دیں گے جن کے تازہ کارناموں میں اتوار کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی فتح میں مدد شامل ہے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ میں میچ جتوانے والا سکور کرنے والے مچل مارش کو کو سکواڈ میں جگہ نہیں ملی حالانکہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ آل راؤنڈر کو ٹیسٹ کی سطح پر کھیلنے کا ایک اور موقع دیا جائے۔

آٹھ دسمبر کو برزبین میں ایشز سیریز کے افتتاحی میچ سے قبل آسٹریلیا کے چیف سلیکٹر جارج بیلی کا کہنا تھا کہ ’ہم ایشز سیریز کے بہت سے چیلنجز کے لیے تیار ہیں، یہ گروپ اچھی طرح متوازن ہے۔ یہ تجربہ کار، کارکردگی ثابت کرنے والے کھلاڑیوں اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کا امتزاج ہے۔‘

ایڈیلیڈ میں 16 دسمبر سے دن رات کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے بعد ایشز سیریز میلبرن، سڈنی اور پرتھ منتقل ہو جائے گی۔

سال 2019 میں انگلینڈ میں کھیلے جانی ایشز سیریز ڈرا ہونے کے بعد آسٹریلیا نے ٹائٹل برقرار رکھا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیٹنگ آرڈر میں مارنس لبوشین اور سٹیوسمتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پر کھیلیں گے۔ ویڈ کے ڈراپ ہونے کے بعد پانچویں نمبر کے لیے عثمان خواجہ اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان مقابلہ ہو گا۔

اگرچہ عثمان خواجہ نے 2019 میں انگلینڈ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے بعد سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا لیکن اس سیزن کے ڈومیسٹک شیفیلڈ میں 404 رنز کے سکور کے بعد انہیں نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

 انہوں نے دو سنچریز کے ساتھ 67.33 کی اوسط سے سکور کیا۔ اپنے44 ٹیسٹ میچز میں آٹھ سنچریز بنانے والے 34 سالہ کرکٹر کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ میں بہت پرجوش ہوں۔ آسٹریلیا کے لیے کھیلنا اعزاز کی بات ہے۔‘

گذشتہ موسم گرما میں انڈیا کے خلاف سیریز کے دوران ہی ٹریوس ہیڈ کو الگ کر دیا گیا تھا لیکن انہیں سیزن کے شروع میں اچھی فارم کے بعد ایک اور موقع ملا ہے۔

 بیلی کے بقول: ’ٹریوس نے گذشتہ موسم گرما میں شاندار اختتام کیا۔ وہ سکور کرنے میں کیمرون گرین کے بعد دوسرے نمبر پر تھے اور سیزن کا پھر سے اچھا آغاز کیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ