بلوچستان: پستے کا باغ، پانی کی بچت اور پیداوار کا فارمولا؟

مستونگ میں محکمہ زراعت کی نگرانی میں لگائے گئے پستے کے ایک باغ کے انچارج محمد حنیف کہتے ہیں کہ بلوچستان میں زمینداری کے قدیم طریقے نے پانی کو نقصان پہنچایا ہے، اس لیے اب فصلوں اور باغات کو کم پانی استعمال کرنے والے طریقے کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان میں زمینداری اب بھی پرانے طریقوں سے کرنے کا رواج موجود ہے۔ یہاں باغات بھی اکثر سیب کے ہی ملیں گے، جو زیادہ پانی کا استعمال کرنے والا درخت ہے۔

تاہم ماہرین زراعت اب لوگوں کو سیب کے بجائے لو ڈیلٹا کراپ (کم پانی لینے والی فصلوں) کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

بلوچستان کا ضلع مستونگ کسی زمانے میں اپنے باغات اور پانی کی وافر مقدار کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر اب یہی علاقہ ایک خشک اور بنجر علاقے میں تبدیل ہو رہا ہے۔

یہ علاقہ کاریزوں کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا تھا، جو کبھی 360 کے قریب تھے اور پورے علاقے کی زمینوں کو سیراب کرتے تھے لیکن اب یہ تمام خشک اور معدومی کی طرف جارہے ہیں۔

ایسی ہی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مستونگ میں پستے کا باغ لگایا گیا ہے، جو محکمہ زراعت کی نگرانی میں ہے۔

اس باغ کے انچارج محمد حنیف کہتے ہیں کہ اس وقت بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔

محمد حنیف کہتے ہیں کہ بلوچستان میں زمینداری کے قدیم طریقے نے پانی کو نقصان پہنچایا ہے، جو بعض علاقوں میں اب بھی جاری ہے۔ اس لیے اب فصلوں اور باغات کو کم پانی استعمال کرنے والے طریقے کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مستونگ میں پستے کے درختوں کا یہ فارم قدیم ہے، جو خان آف قلات کے دور میں لگایا گیا اور بعد میں اسے محکمہ زراعت بلوچستان کے حوالے کیا گیا۔

’ہمارے ہاں پستے کے درختوں کے حوالے سے ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ پستے کا درخت 14 سال بعد پیدوار دینا شروع کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اس پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔‘

تاہم محمد حنیف کے مطابق اب یہ سوچ تبدیل ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل لوگوں کو یہ علم نہیں تھا کہ اس درخت کو کس طرح لگاتے ہیں۔ نر مادہ کا تناسب کیا ہے، پیوند کیسے لگاتے ہیں۔ ان سب مسائل کا حل ہم نے اس وقت اس فارم میں تلاش کر لیا ہے۔

’اس وقت جو بھی درخت لگانا چاہے گا، اسے ہم مکمل تربیت بھی دے سکتے ہیں اور یہاں نرسری بھی ہے۔ بیج لگانے سے درخت بننے کے عمل تک کا مرحلہ مکمل کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پہلے ہم  بیج لگاتے ہیں، پولی تھین بیگ میں ایک سال کے بعد اس کو فیڈ پر منتقل کرتے ہیں، جن کو بعد میں پیوند کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ درخت چار سے پانچ سال کے عرصے میں پیدوار دینا شروع کر دیتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مستونگ کے اس پستہ فارم میں 1150 کے قریب درخت ہیں، جن میں سے قدیم درختوں کی پیداوار بہت زیادہ ہے۔

فارم کے منتظم کے مطابق: ’ہمارے پاس ایسے درخت بھی موجود ہیں جو ایک کلو سے پانچ کلو تک پستہ دیتے ہیں۔ درخت کی عمر جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہے، اس کی پیداواری صلاحیت بھی اتنی بڑھتی ہے۔‘

’یہاں کچھ ایسے بھی درخت ہیں، جو سالانہ 20 کلو تک پیدوار دیتے ہیں۔ یہاں کے درختوں پر مختلف اقسام کا پستہ پیدا ہوتا ہے۔‘

فارم کی تاریخ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کی ابتدا خان آف قلات کے دور میں ہوئی جب وہ ایران سے کچھ پودے لائے تھے، جن میں کچھ یہاں اور کچھ کوئٹہ میں لگائے گئے۔

ماہرین زراعت کہتے ہیں کہ پستے کے درخت بلوچستان کے علاقے مستونگ، قلات، پشین، قلعہ سیف اللہ میں لگائے جا سکتے ہیں۔

پستہ فارم کے انچارج محمد حنیف نے بتایا کہ بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، اس لیے اس صورت حال میں دوسری فصلیں نہیں اُگا سکتے۔ ہمیں کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں اور درخت لگانے کی طرف جانا ہوگا۔

’ہم زمینداروں کو بتاتے ہیں کہ وہ پستہ، بادام، انگور اور زیتون کے درخت لگائیں تاکہ پانی بھی کم استعمال ہو اور فصل سے پیدوار بھی مل جائے۔‘

یاد رہے کہ مستونگ  کے علاوہ قلعہ سیف اللہ میں بھی پستے کے درختوں کا ایک فارم ’کامیابی‘ سے چل رہا ہے۔

مستونگ کے پستہ فارم سے درخت بھی حاصل  کیے جا سکتےہیں، جو رعایتی نرخوں پر دیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ درخت لگانے کے لیے رہنمائی بھی دی جاتی ہے۔

اس وقت مارکیٹ میں مستونگ کے پستے کی قیمت آٹھ سو روپے فی کلو ہے جبکہ دوسرے علاقوں جیسے ایران اور دیگر کی قیمت 1600 روپے فی کلو ہے۔

کوئٹہ کی مارکیٹ میں ایران اور افغانستان سے لائے جانے والے پستے فروخت ہوتے ہیں، جن میں سے بعض کو نمکین بنا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اخروٹ، انجیر، کشمش، کاجو اور چلغوزے کے حوالے سے بھی یہاں کی مارکیٹ شہرت رکھتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا