فیروز خان جنہیں اندرا گاندھی کی محبت مہنگی پڑی 

فیروز خان مسلمان تھے یا پارسی؟ اور کیا اندرا گاندھی نے فیروز خان سے شادی کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا؟ اس حوالے سے تاریخ میں کئی کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔

1945 کی اس تصویر میں فیروز خان (بائیں ) نے اپنے بیٹے راجیو گاندھی کو اٹھا رکھا ہے۔ ان کے برابر میں ان کی اہلیہ اندرا گاندھی  (درمیان) اور سسر جواہر لال نہرو(دائیں) موجو د ہیں (تصویر: پبلک ڈومین)

بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی جو بعد میں خود بھی تین بار وزیراعظم بنیں ان کی فیروز خان کے ساتھ شادی کیسے ہوئی؟ فیروز خان مسلمان تھے یا پارسی؟ اور کیا اندرا گاندھی نے فیروز خان سے شادی کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا؟

اس حوالے سے تاریخ میں کئی کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ ہندو مؤرخین فیروز خان کو پارسی قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ حلقے فیروز خان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔

فیروز خان جہانگیر فریدون کے بیٹے تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق ایران سے تھا اور وہ مسلمان تھے۔ ان کی شادی ایک پارسی خاتون رتی مائی سے ہوئی تھی جو شادی کے بعد مسلمان ہو گئی تھیں جبکہ دوسرے مؤرخین ان کا نام نواب خان بتاتے ہیں۔

والد کے انتقال کے بعد فیروز خان اپنے خاندان کے ساتھ بمبئی سے الہ آباد منتقل ہو گئے۔ یہاں آ کر انہوں نے تحریک آزادی کے ایک پر جوش کارکن کی حیثیت سے 1930 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔

سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے لال بہادر شاستری جو بعد میں بھارت کے وزیراعظم بنے، ان کے ساتھ جیل بھی کاٹی۔ چونکہ نہرو کی بیگم کمالہ بھی سیاسی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتی تھیں، اس لیے فیروز خان سے ان کی ملاقاتیں تھیں۔ بعد میں جب کمالہ کو ٹی بی ہو گئی تو یہ فیروز خان ہی تھے جو انہیں علاج کے لیے باہر لے گئے جہاں اندرا سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔

سویڈن کے لکھاری اور صحافی برٹل فوک اپنی کتاب ’فیروز خان ۔دی فارگٹن گاندھی‘ میں لکھتے ہیں کہ کمالہ نے اپنے خاوند نہرو سے مرنے سے پہلے کہا تھا کہ وہ اندرا کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں اور اس حق میں قطعی نہیں ہیں کہ وہ فیروز خان سے شادی کرے کیونکہ وہ اندرا کے لائق نہیں ہے۔کمالہ فیروز خان کی جانب سے اندرا کے ساتھ شادی کی تجویز کو رد کر چکی تھیں۔

کمالہ 1936 میں انتقال کر گئیں، مگر تب تک فیروز خان اور اندرا کی  زندگی ایک نیا موڑ لے چکی تھی۔ نہرو کو دونوں کے معاشقے کا پہلے سے علم تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ نوبت شادی تک بھی پہنچے گی۔ دونوں نے لندن کی ایک مسجد میں جا کر شادی کرلی۔ اندرا نے اپنا اسلامی نام میمونہ بیگم رکھ لیا۔

جب نہرو کو شادی کا پتہ چلا تو انہوں نے گاندھی سے رابطہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں کردار ادا کریں۔ نہرو کو فیروز خان پر نہیں ان کے مذہب پر اعتراض تھا۔ بعد میں انہوں نے فیروز خان اور اندرا کو ہندوستان بلا کر 26 مارچ 1942 کو ان کی شادی ہندو طریقے سے کر دی۔

گاندھی کا لاحقہ فیروز خان سے کیسے اندرا کے حصے میں آیا؟

فیروز خان کا خاندانی نام فیروز خان گھندے تھا۔ وہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں مہاتما گاندھی کے کردار سے بہت متاثر تھے اور انہیں اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔گاندھی بھی ان کی بہت قدر کرتے تھے۔

ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر مجھے فیروز خان کی طرح کے سات افراد مل جائیں تو ہندوستان سات روز میں آزاد ہو جائے۔ فیروز خان جو پہلے اپنا خاندانی نام گندھے استعمال کرتے تھے، انہوں نے محبت میں گاندھے کو گاندھی سے بدل دیا۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ نہرو نے ان کی مذہبی شناخت کو چھپانے کے لیے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ لفظ گاندھی لکھیں۔ اس طرح شادی کے بعد اندرا کے نام کے ساتھ بھی لفظ گاندھی آ گیا۔

فیروز خان اور گاندھی کے تعلقات کشیدہ کیسے ہوئے؟

’ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک کے دنوں میں جب دونوں کی شادی کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اگست 1942 میں انہیں گرفتار کرکے ایک سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے دو بیٹے راجیو اور سنجے 1944 اور 1946 میں پیدا ہوئے۔

معروف بھارتی سکالر کے این راؤ اپنی کتاب ’دی نہرو ڈائنسٹی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’راجیو گاندھی کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد اندرا گاندھی کے اپنے شوہر فیروز سے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور دونوں الگ الگ رہنے لگے لیکن باقاعدہ طلاق بھی نہیں ہوئی۔ اس دوران اندرا حاملہ ہوئی اور سنجے پیدا ہوا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

این کے راؤ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ سنجے گاندھی فیروز خان کا بیٹا نہیں تھا بلکہ ایک اور مسلمان یونس خان کا بیٹا تھا، جو پیشے کے لحاظ سے سفارت کار تھے اور جنہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ تعلقات پیدا کرلیے تھے۔ بعد میں وہ اندرا گاندھی کے مشیر بھی رہے۔

بقول این کے راؤ: ’اندرا گاندھی اپنے باپ نہرو کی طرح دل پھینک واقع ہوئی تھیں۔ فیروز خان سے اگرچہ انہوں نے اپنی پسند کی شادی کی تھی اور وہ لندن میں فیروز خان کے ساتھ گزرے اپنے ایام کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتی تھیں تاہم اپنی ذات میں جابرانہ مزاج کی وجہ سے ان کی کسی سے بنتی نہیں تھی۔ فیروز خان نے جب دیکھا کہ ان کی حیثیت ایک نوکر جیسی ہے جبکہ ہندو دھرم میں خاوند کو دیوتا جیسا رتبہ حاصل ہوتا ہے تو وہ خود ہی الگ ہوگئے۔‘

یونس خان نے اپنی کتاب ’پرسنز ، پیشنز اینڈ پالیٹکس‘ میں لکھا ہے کہ ’سنجے کے ختنے ہوئے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ مسلم روایات کا خاصا ہے۔‘

فیروز گاندھی بطور ایک جری سیاستدان

شادی کے بعد فیروز خان، جواہر لال نہرو کے اخبار ’دی نیشنل ہیرالڈ‘ کے ایم ڈی بن گئے۔آزادی کے بعد 1950 سے 1952 کے درمیان وہ صوبائی اسمبلی کے رکن نامزد ہوئے۔ 1952 میں جب بھارت میں پہلے عام انتخابات ہوئے تو وہ رائے بریلی اتر پردیش سے لوک سبھا کے ممبر منتخب ہو گئے۔

اس الیکشن مہم میں اندرا گاندھی نے دہلی سے آکر ان کی الیکشن مہم میں حصہ لیا تھا۔ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اور معروف بینکر رام کشن ڈالمیا کا پردہ چاک کیا۔ 1957 میں جب وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو انہوں نے حکومتی انشورنس کمپنی میں مالی بے ضابطگیوں پر آواز اٹھائی جس کی وجہ سے نہرو حکومت کی شفافیت نہ صرف سوالیہ نشان بن گئی بلکہ ان کے وزیر خزانہ کو مستعفی بھی ہونا پڑا۔یہیں سے ان کی اور نہرو خاندان کے چپقلش کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔

1958 میں فیروز خان کو دل کو دورہ پڑا۔ اندرا گاندھی اس وقت اپنے والد کے ساتھ وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام پذیر تھیں۔ انہیں جب فیروز خان کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنے والد کے ساتھ بھوٹان کے دورے پر تھیں، وہ وہاں سے واپس آئیں اور فیروز خان کو لے کر کشمیر چلی گئیں تاہم 1960 میں انہیں دل کا دورا پڑا اور وہ دہلی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین پارسی طریقے سے کی گئی۔

ان کی وفات کے چھ سال بعد اندرا بھارت کی وزیراعظم بن گئیں۔ رائے بریلی کی وہ سیٹ جس سے وہ الیکشن لڑا کرتے تھے، بعد میں اسی حلقے سے راجیو گاندھی کی بیوی اور ان کی بہو سونیا گاندھی الیکشن لڑتی آرہی ہیں۔ فیروز خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ان کی شادی اندرا سے نہ بھی ہوتی اور زندگی ان کے ساتھ وفا کرتی تو وہ بھارت کے صدر یا وزیراعظم بنتے کیونکہ ان کی صلاحیتوں سے خود نہرو بھی خائف رہتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ