حکومت بمقابل الیکشن کمیشن؟

حقائق اور خواہشات میں تفریق کرنا اور پھر سیاست اور پالیسی کو اس کے مطابق ہر شعبے میں ہر معاملے میں آگے چلانا کیا حکومت اپنی بہتری میں سمجھتی ہے۔ یقینا یہ حکومت اور کمیشن کے تعلقات کے تناظر میں ایک اہم سوال ہے۔

پشاور میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت کے اہلکار چیمبر آف کامرس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں بتا رہے ہیں (تصویر: اے پی پی) 

وزیراعظم عمران خان کے بہت سپیشل مشیر ڈاکٹر شہباز گل ہیں۔ حال ہی میں ایک تقریر کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ صاف اور شفاف انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین لازمی ہے اور یہ طے ہو چکا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں بھی ووٹنگ مشین استعمال ہوگی۔

یہ رپورٹ ریڈیو پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری ہوئی۔ اس سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ کے حوالے سے یہ خبر چلی کہ وہ بلدیاتی حکومت کے  الیکشن قوانین میں ای وی ایم مشین کا استعمال لازمی قرار دینے والے ہیں۔ لیکن الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر سینیٹر شبلی فراز نے تو یہ کہا کہ ملک میں بنی ای وی ایم یا جو بین الاقوامی مارکیٹ میں موجود ہے وہ  تکنیکی طور پر بلدیاتی الیکشن کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی۔ صرف ناظم کے انتخاب کے لیے شاید استعمال کی جا سکے۔

 لیکن حقائق اور خواہشات میں تفریق کرنا اور پھر سیاست اور پالیسی کو اس کے مطابق ہر شعبے میں ہر معاملے میں آگے چلانا کیا حکومت اپنی بہتری میں سمجھتی ہے؟ یقیناً یہ اہم سوال ہے اور آج کل جب حکومت اور کمیشن کے تعلقات پر نظر ڈالی جائے تو یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔

آنے والے دنوں میں حکومت کا ٹاکرہ الیکشن کمیشن سے ہی ہونے والا ہے، بلکہ شروع بھی ہو چکا ہے۔ اگر حکومت سمجھ کر معاملات طے نہیں کرتی تو پھر کبھی کسی عدالت میں اور کبھی کسی پریس کانفرنس میں یوں ہی بات آگے بڑھے گی۔ حکومت اگر اپنی بہتری چاہتی ہے اور خاص طور پر الیکشن سے جڑے معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتی ہے تو پھر لڑائی جھگڑا اور تہمت بندی سے اجتناب ہی کرنا پڑے گا۔

حکومت کے سامنے اپنے بنائے ہوئے دو ماڈلز ہیں۔ ایک سواتی۔ فواد چوہدری ماڈل اور دوسرا اٹارنی جنرل ماڈل۔ سواتی۔فواد ماڈل اب تک الیکشن کمیشن کے سامنے معافی، پیشی اور جواب دہی میں الجھا ہوا ہے۔ اگر حکومت سمجھے تو اس کی یقیناً سبکی بھی ہوتی ہے اور حکومت کو کچھ حاصل بھی نہیں ہوتا۔

اٹارنی جنرل ماڈل کے نتیجے اگر منظر عام پر  نہیں بھی آتے تو کم از کم حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم تو ان سے واقف ہیں۔ اٹارنی جنرل اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات کے نتیجے میں اوورسیز ووٹنگ کے معاملات بھی طے پائے ہیں اور ای وی ایم پر کچھ کسی ایک خانے میں سلجھی ہوئی گفتگو جاری ہے۔

لیکن یہ بات عجیب ہے کہ حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ایک ایسا اٹل فیصلہ کیا ہے جس پر کم از کم 2023کے الیکشن میں عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ باقی اعتراض ایک طرف لیکن الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے آپریٹرز کی تربیت اور ملک بھر کے دیہی علاقوں میں ووٹر کو مشین کے استعمال کی آگہی دینا کچھ ناممکن ہی دکھائی دیتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت کا صاف اور شفاف انتخابات کروانے کا فیصلہ بہت اہم ہے لیکن تمام اہم فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے ہر قسم کی تیاری بہت سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔ ان کے تجربے سے سیکھنا بھی لازمی ہوتا ہے اور اسی پہلو کو الیکشن کمیشن نے اپنے 37 نکاتی اعتراضات کی فہرست میں اجاگر کیا۔ ایک طرف بھارت کا تجربہ جہاں الیکشن کمیشن نے آٹھ سال  کے لمبے عرصے میں ووٹنگ مشین کا استعمال عام انتخابات میں کیا۔ آخر پاکستان یہ اگلے 20 ماہ میں کیا کر سکتا ہے؟ اس مشین کے استعمال کے بہت سے پہلو ہیں جن پر بہت سوچ سمجھ کر اور وقت لگا کر الیکشن کمیشن کو آگے بڑھنا ہوگا۔

نومبر 17 کو یقیناً پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی عددی جیت ہوئی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا بل پاس ہو گیا۔ اس بل کا نفاذ اب پیچیدگیوں سے لیس ہے۔ یقیناً قانون بنانا اور جمہوری نظام کو بہتر کرنے کے طریقوں کو اپنانے کا فیصلہ کرنا پارلیمان کا آئینی حق ہے لیکن ان فیصلوں کا نفاذ متعلقہ اداروں کے پاس ہوتا ہے۔ یہی پاکستان کے آئین میں درج ہے۔

متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اداروں کے اختیارات بھی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اب تین کمیشن ترتیب دیئے ہیں جو ای وی ایم کے معاملات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔  معاملہ ان کمیشنز کی سفارشات کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔ حکومت  کی عددی جیت کے نتیجے میں جو بل پاس ہوا اس کی بنیاد پر نہیں۔

 موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کے  آئینی اختیارات  کے دفاع اور استعمال کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ اس کی عکاسی کمیشن سے متعلقہ کئی معاملات پر بھرپور طریقے سے ہو چکی ہے۔ مثلاً جب فواد چوہدری اور اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن اور الیکشن  کمشنر پر  سخت اور غیرمہذب اور بے بنیاد تنقید کی تو الیکشن کمشنر نے معاملات کو ہلکی پھلکی صفائی اور معافی پر ختم نہیں ہونے دیا۔

ان دونوں وزرا نے بھی خوب کیا۔ وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کا فرمانا تھا کہ الیکشن کمیشن کو ملک میں جمہوریت تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس جیسے ادارے کو تو جلا ہی دینا چاہیے۔ فواد چوہدری نے فرمایا کہ الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا ترجمان بننے کا شوق ہے اور ان کو چھوٹی جماعتوں کے ترجمان بننے کی بجائے اپنے ادارے پر توجہ دینی چاہیے۔ وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن کمیشن پر اعتماد نہ ہونے کی بھی بات کی لیکن بے اعتمادی کی وجہ بس الیکشن کمیشن کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراضات کا ہی ذکر کیا۔

الیکشن کمیشن نے دونوں وزرا پر ہتک عزت کا  الزام لگایا۔ وزیر ریلوے الیکشن کمیشن ٹریبیونل کے سامنے پیشی سے انکاری ہیں تاہم اپنا تحریری معافی نامہ وکیل علی ظفر کے ذریعے سے آخری سماعت میں جمع کروایا۔ لیکن ٹریبیونل نے انہیں 22 دسمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

 اسی طرح فیصل واوڈا کے خلاف حقائق چھپانے پر اور غلط حلفیہ بیان دینے پر الیکشن  کمیشن کیس کو آگے بڑھا رہی ہے۔ الیکشن ٹریبیونل نے اس معاملے پر عدالت میں بھی میں پیش ہو کر سماعت کو آگے بڑھانے کی استدعا کی۔

اس سے پہلے ڈسکہ کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے حق میں ضلعی انتظامیہ کی بے قاعدگی پر رپورٹ لکھیں اور اب ضلعی انتظامیہ کے ملوث افسران کے خلاف فوجداری کے مقدمات بھی دائر کیے۔

انگریزی کا استعمال کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا  ’the Election Commission means business‘ حکومت یہ بات جتنی جلدی سمجھے اس کے لیے اتنا ہی اچھا ہے۔ ابھی کچھ ہی دنوں میں بلدیاتی انتخابات بھی شروع ہوجائیں گے اور الیکشن کمیشن نے قواعد اور ضوابط پر ہر قدم پر ہر صوبائی حکومت کی پوچھ گچھ لازمی کرنی ہے۔ یہ معاملہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔

 چاہے آواز جتنی بھی اونچی کر لے حکومت جتنی بھی پریس کانفرنس کر لے اور جتنی بھی بےبنیاد تنقید الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر پر کرے گی، الیکشن کمیشن یہ معاملات عدالت میں اٹھائے گی۔ حکومت کو بھی معاملات کو آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے ہی چلانا  ہوگا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ