بھارتی فوج کی فائرنگ سے ’پاکستانی خاتون‘ ہلاک

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب آر ایس پورہ سیکٹر میں بی ایس ایف نے در اندازی کے الزام میں ایک پاکستانی خاتون کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

14 اگست،  2019 کو جموں کے علاقے اخنور میں پاکستان کے ساتھ سرحد پر بی ایس ایف کے اہلکار تعینات ہیں (اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کی رات ایک پاکستانی خاتون کو مبینہ طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

بھارتی سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے اہلکاروں نے ایل او سی کے قریب آر ایس پورہ میں گذشتہ رات ’ایک درانداز خاتون کی مشتبہ نقل و حرکت دیکھی اور انہیں بین الاقوامی سرحد پار کرنے کی کوشش کے دوران نشانہ بنایا گیا۔‘

بی ایس ایف کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ’ایک پاکستانی خاتون کو بھارتی حدود میں دراندازی کی کوشش‘ کرنے کے دوران ہلاک کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا: ’مذکورہ درانداز کو کئی بار خبردار کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی سرحد عبور نہ کریں لیکن وہ جارحانہ طریقے سے بارڈر فینسنگ کی طرف بھاگتے رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’درانداز ایک خاتون ہے جس کی شناخت معلوم کی جا رہی ہے۔ قانونی اور دیگر تقاضے پورے ہونے کے بعد لاش پاکستانی فوج کے حوالے کر دی جائے گی۔‘

جموں میں تعینات بی ایس ایف کے ترجمان ایس پی ایس سندھو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پاکستانی فوج کے انکار کے بعد انہوں نے خاتون کی لاش جموں و کشمیر پولیس کے حوالے کر دی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’پاکستان نے لاش لینے سے انکار کیا جس کے بعد ہم نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔‘

خاتون کی شناخت کے بارے میں پوچھے جانے پر بی ایس ایف ترجمان نے بتایا کہ خاتون کے قبضے سے کوئی ایسی چیز برآمد نہیں ہوئی جس کی بنا پر وہ اس کی شناخت کرتے۔

پولیس تھانہ آر ایس پورہ کے سٹیشن ہاؤس آفیسر جے پال شرما نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں خاتون کی لاش وصول کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’پاکستان کی طرف سے گزارش آتی ہے تو لاش واپس کر دی جائے گی۔‘ 

حکومت پاکستان کا اس واقعے پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انڈپینڈنٹ اردو کا نمائندہ مذکورہ خاتون کے اہل خانہ اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ردعمل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ردعمل آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کر دیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا