گوادر دھرنا: غفلت سے بلوچوں کو ذرا پھر میں جگا دوں

 ایک عوامی مزاحمتی تحریک کی ابتدا اچانک، فطری اور خالص ہوتی ہے۔ یہ غم و غصے کے اظہار سے پھوٹتی ہے۔ انسان بے بسی کی معراج پہ پہنچ کر جب پیروں کے نیچے زمین کھسکتی محسوس کرتا ہے یہ تب شروع ہوتی ہے۔

12 فروری 2013 کو لی گئی اس تصویر میں گوادر بندرگاہ کا رہائشی علاقہ نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی اپنی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


بلوچستان کی زمین میں محبت اور مزاحمت ساتھ پلتی ہے۔ اہل دل جانتے ہیں جس سے محبت نہ ہو اس کے لیے مزاحمت نہیں کی جاتی اسے بس جانے دیا جاتا ہے۔ بلوچستان کی تاریخ گواہ ہے اس کے سپوت اپنی دھرتی میں جا سوئے مگر مزاحمت کی روایت کو زندہ رکھا۔

دور حاضر میں ہمارے نوجوانوں نے ایسی ایسی جعلی مزاحمتی تحریکوں کو دیکھا ہے کہ جمہور یعنی عوام کی قوت سے ان کا اعتبار اٹھ گیا۔ یہ بعد میں علم ہوا کہ وہ مزاحمتی تحریک نہیں سیاسی دھکم پیل تھی جس کا مقصد صرف اور صرف حکومت حاصل کرنا تھا۔

ایک مولانا کینیڈا سے چلے ڈی چوک پہ آ ٹھہرے، لڑکوں کو ایک رات کفن پہننے کا حکم دیا اور انہیں آفت کی گھڑی میں اذانیں دینے اور پارلیمنٹ کے سامنے قبریں کھودنے کی تاکید کی۔ جوش کا گراف چیک کریں۔ پھر یکدم جعلی مزاحمت کے غبارے میں جنہوں نے ہوا بھری تھی انہوں نے ہی پن چبھو دی۔ مولانا مزاحمت کی قبر پہ پانی کا چھینٹا مار واپس ہولیے۔

جوانوں کو پھر اپنے خون میں ابال محسوس ہوا جب سابق وزیراعظم اسلام آباد سے ’مجھے کیوں نکالا‘ کی تحریک لے کر نکلے۔ ابھی تو جذبے کو کوئی راہ دکھی تھی، ابھی تو ماتھے پہ تھکن کی بوندیں بھی نہیں ابھری تھیں، ابھی تو جی ٹی روڈ پہ نعرے ہی لگا رہے تھے کہ پیچھے مڑ کہ دیکھا تو مزاحمتی قائد محترم لندن نکل لیے۔

حزب اختلاف کی بے جان تحریک میں مزاحمت کا رنگ بھرنے کی ناکام کوشش کرنے والے مولانا بھی ابھی دو سال پہلے کی ہی بات ہے کہ اسلام آباد کی شاہراہ سے ایک اشارے پہ خالی ہاتھ ہی لوٹ گئے۔

مزاحمتی تحریک ’میں میں‘ سے نہیں ’ہم سب‘ سے شروع ہوتی ہے۔ مزاحمتی تحریک فنڈز اکٹھا کرنے، پارٹی کے ترانے ریکارڈ کروانے، تحریک کے زبردستی جانثاروں کو بس بھر بھر کر لانے سے نہیں چل پاتی۔ مزاحمتی تحریک دھکا سٹارٹ نہیں ہوتیں کہ جس کے لیے یہاں وہاں سے خود ساختہ رہنما اکٹھے ہوں، درجنوں ملاقاتیں ہوں اور آخر میں یہ ڈیڈ لاک رہ جائے کہ میں بھی راجا تو بھی راجا کون بجائے گا باجا۔

 ایک عوامی مزاحمتی تحریک کی ابتدا اچانک، فطری اور خالص ہوتی ہے۔ یہ غم و غصے کے اظہار سے پھوٹتی ہے۔ انسان بے بسی کی معراج پہ پہنچ کر جب پیروں کے نیچے زمین کھسکتی محسوس کرتا ہے یہ تب شروع ہوتی ہے۔

ایسی ہی اچانک، فطری، غم و غصے میں بھری ہوئی، جذبات میں بپھری ہوئی ایک تحریک نے گوادر کے ساحل پہ جنم لیا ہے۔ یہ تحریک ہے حق دو بلوچستان کو۔

ہر مزاحمتی تحریک  کا ایک ٹریگر پوائنٹ ہوتا ہے۔ گوادر کی تحریک کا پہلا شعلہ مائی زینی ہے جو اپنی زبان میں بولتی ہے: ’امارا جذبات اے بھوک اے، امارا روزگار چھین لیا، مے ابی خواتین کو آواز دوں یہ سب باہر نکل آئے گی۔‘

ہر تحریک کا اپنا ایک جلوہ ایک روح رواں ہوتا ہے، گوادر کے ماہی گیروں سے شروع اور پھر پورے بلوچستان میں پھیلنے والی تحریک کا چہرہ مولانا ہدایت الرحمن ہیں۔ یہ جماعت اسلامی کے ہیں مگر ان کی تحریک میں پارٹی بازی روز اول سے نہیں رہی۔ ہدایت الرحمن مذہبی شناخت رکھتے ہیں مگر مذہب کا استعمال ان کی تحریک کا خاصا نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزاحمتی تحریکوں کی اپنی گرمی ہوتی ہے، ان تحریکوں کا ایندھن فنڈنگ نہیں نوجوان ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی گوادر سے اٹھنے والی بلوچ تحریک کا لوہا وہ نوجوان ہیں جو رات دن سڑکوں پہ ہیں، جو مزاحمت برائے حصول حقوق کر رہے ہیں، جن کی مزاحمت کو کسی ابرو کے اشارے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کے معروف بلوچ شاعر میر گل خان نصیر نے اپنی شاعری میں مزاحمت، ہمت اور جرات کو الفاظ پہنائے وہ کہتے تھے

اے خالق ِ اکبر مجھے توفیق عطا کر

غفلت سے بلوچوں کو ذرا پھر میں جگا دوں

یہ مجمع جوانوں کا ناچیز ہے لیکن

تیرا ہو کرم میں انہیں کسریٰ سے لڑا دوں

سرداروں کی ہستی نے بلوچوں کو مٹایا

سرداروں کے سرکو میں سرِ دار چڑھا دوں

نصیر آج زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ آج کے بلوچ نوجوان کو مزاحمت کے لیے سرداروں کی ضرورت نہیں، جو سیدھی راہ کو بھی گمشدہ کر دے آج کے بلوچ کو ایسے راہبر کی حاجت نہیں۔

بلوچستان کئی دہائیوں سے اپنے نوجوانوں کو پہاڑوں پہ یہاں وہاں بھٹکتے دیکھ رہا ہے۔ یہ صوبہ اپنے لوگوں کو کبھی ایران پاکستان سرحد پہ خوار ہوتے تو کبھی سمندر کے نیلے پانی میں رزق ٹٹولتے خالی ہاتھ دیکھ رہا ہے۔

بلوچستان مدت ہوئی اپنے بیٹے بیٹیوں کو چیک پوسٹوں پہ کھڑا اور اب سی پیک ترقی کی چکا چوند میں اپنا دامن پھٹا دیکھ رہا ہے۔

یہ پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ لڑکھڑاتے بلوچستان کا ہاتھ گوادر کی ایک زوردار، پُراثر اور سو فیصد مقامی مزاحمتی تحریک نے تھام لیا ہے۔

حکومت کو نئے سرے سے آغاز حقوق بلوچستان شروع کرنے کا نادر موقع ملنا بس قسمت کی یاوری ہے۔ فیصلہ سازوں کو خبر ہو کہ وقت بگڑنے سے پہلے سنبھلنے کا موقع بار بار نہیں دیا کرتا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ