سرد اور خشک موسم سے بچاؤ کی پانچ طبی تجاویز

پروفیسر ڈاکٹر حزب اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کا شعبہ ہر 24 گھنٹے میں ایک ’ہائی والیوم ایئر سامپلنگ‘ کرتا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ پشاور کی فضا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ( این او ٹو)، اوزون (او تھری) اور پارٹیکیولیٹ میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔‘

پشاور میں مسافر 20 نومبر 2019 کو اپنی گاڑیاں کہر اور گہری سموگ کی صورتحال میں احتیاط سے چلا رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

ماحولیات اور طب کے ماہرین کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کی فضا آج کل خطرناک حد تک زہریلی گیسز اور گرد کے ذرات سے اٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے عوام کو مختلف جلدی اور جسمانی بیماریوں کا سامنا ہے۔

پشاور یونیورسٹی میں شعبہ ماحولیات (انوائرنمنٹل سائنسز) کے پروفیسر ڈاکٹر حزب اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کا شعبہ ہر 24 گھنٹے میں ایک ’ہائی والیوم ایئر سامپلنگ‘ کرتا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ پشاور کی فضا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ( این او ٹو)، اوزون (او تھری) اور پارٹیکیولیٹ میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔‘

پارٹیکیولیٹ میٹر کیا ہیں؟

پروفیسر ڈاکٹر حزب اللہ خان نے بتایا کہ ’یہ گرد کے ذرات ہوتے ہیں جو مختلف حجم کےہوتے ہیں۔ سب سے بڑا سائز پی ایم 10 ہوتا ہے۔ پشاور کی فضا میں پی ایم 2.5 موجود ہے جو کہ زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ اتنے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں کہ فوراً ناک اور منہ کے ذریعے پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’ماضی میں پشاور کے علاقے میں نومبر اور دسمبر میں خوب بارشیں ہوتی تھیں جو کہ نہ صرف گندم کی فصل کے لیے سود مند ثابت ہوتیں بلکہ فضائی آلودگی سے متعلق مسائل کو بھی بڑھنے سے روک دیتی تھیں۔‘

دوسری جانب پشاور کے سرکاری ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تعینات میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر امیر تاج نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خشک اور سرد موسم کی وجہ سے الرجی، دمہ، شوگر، بلڈپریشر، امراض چشم وجلدی بیماریوں کے مریضوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کریں تو وہ بارش کا انتظار کیے بغیر کسی حد تک ان امراض سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔

1۔ گھر میں ہیومیڈیفائر کا استعمال

ڈاکٹر امیر تاج اور دیگر طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خشک موسم میں ’ہیومیڈیفائر‘ کا استعمال فضا کی نمی کو برقرار رکھتے ہوئے کئی جلدی وجسمانی مسائل سے چھٹکارا دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ آلہ جو کہ مختلف اشکال اور قیمتوں میں اب پاکستان کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں اور آن لائن بھی دستیاب ہے، نہ صرف خشک موسم میں گھر یا دفتر کے فضا کو مرطوب بناتا ہے بلکہ انفیکشنز کے خطرات کو بھی کم کر دیتا ہے۔

تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمپنی کی ہدایات کے مطابق صفائی اور پانی کی تبدیلی بروقت نہ کی جائے تو ہیومیڈیفائر بھی جلد اور سینے کے امراض میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

2۔ نیم گرم پانی سے ہاتھ منہ دھوئیں

ڈاکٹر امیر تاج کی ماہرانہ رائے کے مطابق: ’سرد اور خشک  موسم میں زیادہ گرم پانی کے استعمال سے احتیاط برتنا چاہیے کیوں کہ یہ چمڑے کے نیچے ضروری چربی اور تیل کو ختم کرکے اس کو کھردرا اور بدنما بنادیتا ہے۔ یہ چربی اور تیل جلد کو خوبصورت اور نرم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔‘

ان کے مطابق: ’گرم پانی سے جلد خشک ہوکر اس پر خارش شروع کرتی ہے اور جلد پھٹ جاتی ہے۔ اکثر ایگزیما یا چنبل جس سے جسم پر سرخ داغ یا دانے نکلتے ہیں کی بیماری بھی زیادہ گرم پانی سے غسل کرنے سے بڑھتی ہے۔‘

3۔ میڈیکیٹڈ صابن اور لوشن استعمال کریں

ڈاکٹر تاج نے بتایا کہ ’خشک موسم میں جلد کو نرم ملائم رکھنے کے لیے ایسے صابن اور لوشن کا استعمال کرناچاہیے جو میڈیکیٹڈ ہوں اور جس سے جلد موئسچرائز رہے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ کسی بھی چیز کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال بھی درست نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کرونا کی وجہ سے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال بھی عام ہوگیا ہے۔ چونکہ اس میں اکثر الکوحل شامل ہوتا ہے اس لیے یہ جلد کی خشکی کا سبب بنتا ہے۔‘

انہوں نے تجویز دی کہ ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال صرف اس صورت میں کرنا چاہیے جب پانی اور صابن تک رسائی نہ ہو۔

4۔ جسم کو متحرک رکھیں

ڈاکٹر تاج نے بتایا کہ ’سردیوں کے موسم میں جسم کی رگیں سکڑ جاتی ہیں اور ان میں خون باآسانی نہیں گزرتا جو کہ نہ صرف جلد کی رنگت خراب کرتا ہے بلکہ کئی جسمانی بیماریوں کو بھی دعوت دیتا ہے۔‘

’موسم سرما میں جلد نرم ملائم اور تروتازہ رہنے کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ جسم متحرک رہتا ہے، پانی زیادہ پیا جاتا ہے اور منہ ہاتھ جسم کے درجہ حرارت کے مطابق پانی سے دھویا جاتا ہے۔ لیکن جب فضائی آلودگی زیادہ ہو تو اندرونی سرگرمیوں (ان ڈور) کے ذریعے جسم کو متحرک رکھا جائے۔‘

انہوں نے مشورہ دیا کہ جب ہوا میں آلودگی کا تناسب زیادہ ہوتو غیر ضروری طور پر گھر سے نکلنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

5۔ سانس کی نالیوں کو صاف رکھیں

دنیا کے جن شہروں کو فضائی آلودگی کا سامنا ہے وہاں کے طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سٹیم یعنی بھاپ لی جاتی رہے جو سانس کی نالیوں کو گند کے زہریلے ذرات سے صاف کرکے ان کو کھول دیتی ہے۔

طب کے مسائل سے متعلق ویب سائٹ ویب ایم ڈی کے مطابق بھاپ بلغم کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ الرجی کے موسم میں کھانسی اور زکام سے نجات دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

سینے اور گلے سے بلغم کے اخراج کو دور کرنے کے لیے بعض حکیم پانی میں قدرتی جڑی بوٹیوں جیسے تھائم، پودینہ، سبز چائے، یا لیموں ڈالنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت