طالب علموں کے سرد موسم میں باہر نماز پڑھنے پر سکول کی معذرت

انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں اولڈہم اکیڈمی نارتھ کے طلبہ کو فٹ پاتھ پر اس وقت جمعے کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا، جب کھانے کے وقفے کے دوران ایک استاد نے انہیں مبینہ طور پر کلاس روم سے باہر نکال دیا تھا۔

ویڈیو میں کم از کم آٹھ  طلبہ اور عملے کے ایک نگران رکن کو  نماز ادا کرتے دیکھا جاسکتا ہے(تصویر: 5پلرز/ فیس بک)

 انگلینڈ کے شہر مانچسٹر کے علاقے اولڈہم کے ایک ہائی سکول نے مسلمان طالب علموں کی سرد موسم میں کھلے آسمان تلے نماز پڑھنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معافی نامہ جاری کیا ہے۔

ویڈیو میں اولڈہم اکیڈمی نارتھ کے طلبہ کو فٹ پاتھ پر اس وقت جمعے کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا، جب دوپہر کو کھانے کے وقفے کے دوران ایک استاد نے انہیں مبینہ طور پر کلاس روم سے باہر نکال دیا تھا۔ ویڈیو میں کم از کم آٹھ طلبہ اور عملے کے ایک نگران رکن کو دیکھا جاسکتا ہے۔

سکول نے ٹوئٹر پر اولڈہم انٹر فیتھ فورم اور کونسل کے ساتھ مشترکہ بیان میں باضابطہ معافی مانگی اور تصدیق کی کہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا: ’اکیڈمی تہہ دل سے معذرت خواہ ہے۔ سکول کو اپنے تنوع پر فخر ہے اور اس نے طلبہ کو کبھی بھی نماز پڑھنے سے نہیں روکا اور نہ ہی انہیں باہر نماز پڑھنے کے لیے کہا اور نہ ہی ایسا کبھی کہے گی۔‘

مزید کہا گیا: ’جوکچھ ہوا اس کی مکمل تحقیقات شروع کریں گے اور اب ان لوگوں کے لیے عبادت کی جگہ دستیاب ہے جو اسے استعمال کرنا چاہتےہیں۔‘

اولڈہم کونسل کی رہنما عروج شاہ نے کہا:’جب ہمیں اولڈہم اکیڈمی نارتھ میں اٹھائے گئے مسائل سے آگاہ کیا گیا تو ہم نے سکول کے ساتھ فوری بات کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا ہوا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’سکول کے رہنماؤں سے بات کرنے کے بعد مجھے خوشی ہے کہ وہ متاثرہ افراد سے معذرت خواہ ہیں اور والدین کو بھی تحریری طور پر وضاحت پیش کریں گے۔‘

اولڈہم مسجد کونسل کے ترقیاتی افسر مفتی ہلال محمود نے کہا: ’ہم اولڈہم اکیڈمی نارتھ کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات نہ ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ اولڈہم میں مختلف برادریوں اور عقائد سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہماری ایک مضبوط تاریخ ہے۔ ہمیں مسائل پیدا ہونے پر اپنے آپ کو تقسیم نہیں ہونے دینا چاہیے بلکہ پُرامن قراردادوں کے ذریعے امن کے حصول کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ