او آئی سی اجلاس: افغانستان کی مدد کے لیے ٹرسٹ فنڈ کے قیام پر اتفاق

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے 17ویں غیرمعمولی اجلاس کے اعلامیے میں نشاندہی کی کہ ’ہمارا افغان انتظامیہ سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ہم نے افغانستان کی تین کروڑ 80 لاکھ آبادی کو نظر انداز نہیں کرنا۔‘

  • پاکستان نے اتوار کو اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے سترہویں غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کی۔
  • اجلاس اسلامی تعاون تنظیم کے چیئرمین سعودی عرب کی دعوت پر طلب کیا گیا تھا۔
  • اجلاس میں خصوصی طور پر افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے پر غور کیا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے 17ویں غیرمعمولی اجلاس کے اعلامیے میں تمام شریک ممالک کے وفود اور مندوبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی تین کروڑ 80 لاکھ آبادی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اجلاس میں 20 ممالک، 70 وفود اور 437 مندوب شامل تھے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس اجلاس کے دوران افغانوں کو سنا گیا ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کی خصوصی کاوش پر شکریہ ادا کیا، نیز ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے بھی شکر گزار ہیں۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق اجلاس میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ ’ہمارا افغان انتظامیہ سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ہم نے افغانستان کی تین کروڑ 80 لاکھ آبادی کو نظر انداز نہیں کرنا۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں افغانستان کے حوالے سے درج ذیل نکات پر اتفاق کیا گیا ہے۔

•    اجلاس انسانی امداد کے لیے ٹرسٹ فنڈ کے قیام پر متفق ہے۔
•    کووڈ 19 کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے او آئی سی کا سیکرٹریٹ عالمی ادارہ صحت سے رابطہ کرکے افغانستان کے لیے ویکسین حاصل کرے گا۔
•    تمام شرکا نے افغانستان کے لیے فوڈ سکیورٹی پروگرام پر اتفاق کیا ہے۔
•    شرکا نے افغانستان کے بینکنگ چینلز کو بحال کرنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔
•    افغانستان کے لیے او آئی سی کے خصوصی نمائندے کی تعیناتی پر اتفاق کیا گیا ہے۔
•    او آئی سی اور اقوام متحدہ کے اداروں کے درمیان افغانستان میں کام کے حوالے سے تعاون کا نظام قائم کیا جائے گا۔
•    اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عالمی پابندیوں کو انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تمام تر خواہش کے باوجود افغانستان کے مسائل پر تنہا قابو نہیں پا سکتا۔ اس کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بھارت میں ہونے والی افغانستان کے موضوع پر کانفرنس پر وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل ترکمانستان کے وزیر خارجہ سے کہا کہ آپ افغان کانفرنس پر دہلی جا رہے ہیں تو بھارت سے کہیں کہ اپنا منفی رویہ ترک کر دیں اور مثبت رویہ اپنائیں۔ بھارت سمجھتا تھا کہ افغانستان گندم بھیجنے کے حوالے سے پاکستان اجازت نہیں دے گا لیکن پاکستان نے س کے برعکس انہیں اجازت دی۔


او آئی سی اجلاس کے اختتام تک افغانستان کی مدد کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے پر امید ہوں: عمران خان

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں جاری او آئی سی اجلاس کے اختتام تک افغانستان کی مدد کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے پر امید ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پر امید ہیں کہ ’او آئی سی کے وزرائے خارجہ آج شام تک افغانستان کی مدد کرنے کی حکمت عملی طے کر لیں گے۔‘

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ’اس حکمت عملی پر صرف او آئی سی ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کو بھی عمل کرنا چاہیے۔‘

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے افغانستان 40 برس پہلے جہاں کھڑا تھا آج بھی وہیں کھڑا ہے۔

عمران خان کے مطابق: ’افغانستان چار دہائیوں سے جنگ کا شکار ہے۔ اس کے حالات کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا۔‘

’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار پاکستانیوں نے جان کی قربانی دی اور 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جتنی مشکلات افغان عوام نے اٹھائیں کسی نے نہیں اٹھائیں۔ دنیا کے کسی ملک نے افغانستان سے زیادہ مسائل نہیں دیکھے۔ کسی ملک کو بھی افغانستان جیسی صورت حال کا سامنا نہیں۔‘

عمران خان کے مطابق افغانستان کی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آ رہی ہے۔ افغانستان کا 75 فیصد بجٹ غیرملکی امداد پر رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مدد کرنا ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ ’دنیا نے اقدامات نہ کیے تو انسانوں کا پیدا کردہ بحران افغانستان میں سب سے بڑا انسانی بحران ہو گا۔‘

انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو افغانستان کی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’افغانستان کے لیے بیرونی امداد بند ہو چکی، افغانستان کی امداد کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے۔‘

انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ کانفرنس میں شریک نمائندے افغانستان کے مسائل سے آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ افغان عوام کا مسئلہ ہے جسے حل کرنے میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی ممالک کو فوری طور پر افغانستان کی مدد کرنی ہو گی۔ ’افغان عوام کو خوراک کی فراہمی اور غذائی تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘

انہوں نے زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے افغان حکام کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کی  قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔


او آئی سی کا ان کیمرہ اجلاس جاری

او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس کا پہلا سیشن ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد ختم ہو گیا۔

اجلاس کا دوسرا ان کیمرہ سیشن 10 منٹ کے وقفے کے بعد شروع ہو چکا، جس میں میڈیا اور مسلم ممالک کے مندوبین کے علاوہ گیلریز میں موجود مہمانوں کو شرکت کی اجازت نہیں۔

ان کمرہ سیشن کے بعد شام ساڑھے پانچ بجے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ پریس کانفرنس میں اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کریں گے۔


افغانستان کی مدد کے لیے پاکستان کی چھ نکاتی تجویز

پاکستان نے افغانستان کو درپیش بحران کے حل کے لیے چھ نکاتی حکمت عملی پر مبنی تجاویز دی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے اجلاس سے افتتاحی خطاب میں افغان عوام کو درپیش مسائل کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو، جن میں ہزاروں بچے شامل ہیں، خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام افغانستان میں خوراک کی قلت کے مسئلے کی نشاندہی کر چکا ہے۔ یہ اجلاس افغانستان کی بقا کے لیے بہت اہم اور افغان شہریوں کے مسائل سے آگاہی کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ 40 سال پہلے بھی پاکستان نے افغانستان کے لیے ایسا ہی اجلاس بلایا تھا۔ ’پاکستان ایک بار پھر افغانستان میں انسانی بحران کے حل کے لیے کوشاں ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کے مطابق افغانستان کے حالات دنیا کی توجہ کے طالب ہیں۔ افغانستان کی بہتری کے لیے جو کچھ ہو سکا کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب سعودی قیادت کا اجلاس بلانا قابل ستائش ہے۔ افغانستان کے لیے ہماری آواز دنیا تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے چھ نکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 

  • او آئی سی کے اندر ہی ایک ایسی راہ نکالی جائے جس سے افغانستان کو مطلوبہ مالی اور انسانی امداد او آئی سی کے ممبرز یا دیگر ڈونرز کی طرف سے با آسانی پہنچائی جا سکے۔
  • دوسرا یہ کہ ہمیں افغانستان کی عوام میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانی ہو گی جیسا کہ افغان نوجوانوں کی تعلیم، صحت اور تکنیکی مہارت بڑھانے کے لیے۔
  • تیسرا یہ کہ ایک گروپ تشکیل دیا جائے جس میں او آئی سی، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ماہرین شامل ہوں اور جو افغانستان کی قانونی بینکنگ سیکٹر تک رسائی ممکن بنائے۔
  • چوتھا یہ کہ ہمیں افغان عوام کے لیے خوراک کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اسلامی تنظیم برائے تحفظ خوراک کو اس عمل کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
  • پانچواں یہ کہ افغان اداروں کی صلاحیت بڑھائی جائے کہ وہ دہشت گردی اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کر سکیں۔
  • آخر میں یہ کہ ہم افغان حکام کے ساتھ رابطہ رکھیں اور ان کی مدد کریں تاکہ وہ بین الاقوامی برادری کی توقعات کو پورا سکیں۔ خاص کر سیاسی اور سماجی امور میں تمام مکاتب فکر کی شمولیت۔ انسانی حقوق خصوصی طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی پاسداری اوردہشت گردی کے خلاف جنگ۔

افغانستان آج دوبارہ ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جو افراتفری کی طرف لے جا سکتا ہے: سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے اجلاس کے دوران خطاب میں کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت افغان عوام مشکلات کا شکار ہیں، وہ مدد کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کشیدہ صورت حال کے خطے اور دنیا پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ’ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔‘

انہوں نے اجلاس میں شرکت پر سیکریٹری جنرل او آئی سی اور دیگر نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں معاشی بحران مزید خراب ہو سکتا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ کے مطابق افغانستان کا معاملہ انسانی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا۔ یہ بے شک ایک غیر معمولی اجلاس ہے جو کہ افغان عوام کی تکالیف کے حل کے لیے بلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی حالات نے افغانستان میں نہ صرف ایک انسانی المیہ کو جنم دیا ہے بلکہ وہ مکمل تباہی کی جانب بھی جا سکتے ہیں۔

’او آئی سی کی چھتری تلے ہم مل کر مشترکہ اقدام کر سکتے ہیں۔‘

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان عوام کا اتحاد ہی ان کے سلامتی اور بیرونی مداخلت کے خاتمے کا حل ہے۔

 

میڈیا کوریج

او آئی سی کے اس اہم اجلاس کی کوریج کے لیے بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے پارلیمنٹ کی پریس گیلری میں موجود ہیں۔ درجنوں ویڈیو کیمرے بھی پریس گیلری میں نظر آ رہے ہیں۔

اس سے قبل میڈیا ایڈوایزری میں کہا گیا تھا کہ کیمرے پریس گیلری میں لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔


او آئی سی اجلاس میں افغانستان پر اہم گفتگو ہو گی: برطانیہ

پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر نے کہا ہے کہ او آئی سی اجلاس میں افغانستان پر اہم گفتگو ہو گی۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اس اجلاس میں برطانیہ کی نمائندگی کرنا ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔



افغانستان پر او آئی سی کا خصوصی اجلاس ’بروقت اور اہم اقدام‘: امریکہ

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے کہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کا خصوصی سربراہی اجلاس ایک ’بروقت اور اہم اقدام‘ ہے۔

ہفتے کو اسلام آباد پہنچنے والے تھامس ویسٹ نے ٹوئٹر پر کہا کہ انہیں اس اجلاس کے لیے اسلام آباد آنے پر خوشی ہوئی۔

’او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے ایک غیر معمولی اجلاس کے لیے اسلام آباد میں آکر خوشی ہوئی، جس میں افغانستان میں انسانی صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی۔‘



او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا افغانستان کی صورت حال پر اجلاس اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی صدارت میں شروع ہوچکا ہے۔

آغاز سے قبل شاہ محمود قریشی نے مہمان وزیر خارجہ اور دیگر مندوبین کا استقبال کیا۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں بھی ان کا خیرمقدم کیا۔


پیغامات

پاکستان کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کانفرنس کے موقعے پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ وزرا خارجہ اور دیگر مہمانوں کی آمد کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں۔

’اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ اور اعلیٰ حکام کا تہہ دل سے مشکور ہیں جنہوں نے غیرمعمولی اجلاس میں شرکت کی درخواست کا مثبت جواب دیا۔

’معزز مہمانان گرامی کی یہاں موجودگی افغانستان کے عوام کے ساتھ مسلم امہ کی یکجہتی کا بہترین اظہار ہے۔

’یہ دیکھ کرانتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ او آئی سی ممالک افغانستان میں بسنے والے بھائیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آج ایک فورم پر اکٹھے ہوئے ہیں۔

’بلاشبہ اس وقت افغان بھائیوں کو بنیادی ضروریات پورا کرنے کے لیے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم نہ صرف افغان عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونے کے پختہ عزم کا عملی مظاہرہ کرے گی بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مدد کے لیے سنجیدگی کے ساتھ ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے گی۔

’افغان عوام درپیش مشکلات میں خود کو تنہا نہ سمجھیں، ہم سب کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں بھرپور امداد فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔‘


وزیراعظم عمران خان کا پیغام

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ غیر معمولی اجلاس افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال بالخصوص انسانیت کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لے گا اور افغان عوام کی مدد کے لیے ایسے ٹھوس اقدامات تجویز کرے گا جنہیں عالمی برادری کی جانب سے حمایت وتعاون کی اشد ضرورت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’افغانستان کو اس وقت انسانی بحران کا سامنا ہے، بروقت امداد نہ پہنچی تو بحران معاشی تباہی کا باعث بن سکتا ہے نتیجتاً سکیورٹی کی صورت حال مزید خراب ہونے سمیت عدم استحکام کے پیدا ہونے کا خطرہ ہے، ان عوامل کے باعث افغانستان سے بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت کا خدشہ ہے۔

’وزیراعظم نے کہا کہ او آئی سی مسلم امہ کی اجتماعی آواز بن کر افغان بھائیوں کی فوری انسانی اور سماجی و اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر سکتی ہے، امید ہے کہ او آئی سی اپنا یہی کردار ضرور ادا کرے گی۔

’پاکستان کی میزبانی میں اس غیر معمولی اجلاس کی بحیثیت چیئرمین او آئی سی طلبی مملکت سعودی عرب کا قابل ستائش فیصلہ ہے، او آئی سی کے وزرا خارجہ، نمائندگان، اعلیٰ حکام، رکن ممالک کے اعلیٰ عہدے داروں اور مبصرین سمیت دیگر ممالک اور علاقائی و عالمی تنظیموں کے خصوصی مندوبین کا بھی تہہ دل سے خیرمقدم کرتے ہیں جو اسلام آباد کا دورہ کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا