لوگ تحفے کیوں دیتے ہیں، سائنس کیا کہتی ہے؟

تحائف کا تبادلہ ممکن ہے فضول کی سردردی اور عملی طور پر مشکل چیز لگتی ہو۔ لیکن جیسا کہ سماجی سائنسی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تحفہ دینے کے نقصانات اور فوائد وہ نہیں جو بظاہر نظر آتے ہیں۔

نیورو سائنسدان اس حقیقت پر پہنچے ہیں کہ دماغ میں زیادہ خوشگوار سرگرمی  تحفہ وصول کرنے کے بجائے دینے سے جنم لیتی ہے (پکسابے)

چاہے یہ کسی پرہجوم شاپنگ مال میں پِھرنے کا خوف ہو، موقع کی مناسبت سے موزوں تحائف منتخب کرنے کا چیلنج ہو،  ڈیلیوری میں تاخیر یا پیسوں کی بھاری مقدار خرچ ہونے پر مایوسی طاری ہو بہرحال کسی نہ کسی وجہ سے چھٹیوں کے لیے تحائف کی خریداری ذہنی دباؤ کا باعث ہو سکتی ہے۔

 آخر اس تحفے دینے لینے کے رواج کا مقصد ہے؟ کیا تحفے دینے اور وصول کرنے کی بجائے سال کے آخر میں چھٹیوں کا سیزن محض خاندان، دوستوں اور کھانے پینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے؟ کیا یہ زیادہ اچھا نہیں کہ ہر کوئی اپنی رقم ان چیزوں کی خریداری پر صرف کرے جن کا اسے پتہ ہے کہ اسے کے لیے ضروری ہیں؟

تحائف کا تبادلہ ممکن ہے فضول کی سردردی اور عملی طور پر مشکل چیز لگتی ہو۔ لیکن جیسا کہ سماجی سائنسی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تحفہ دینے کے نقصانات اور فوائد وہ نہیں جو بظاہر نظر آتے ہیں۔

کولا رِنگ

پاپوا نیو گینی میں اپنے فیلڈ ورک کے دوران ماہر بشریات برونسلا ملینووسکی  نے ایک طویل روایت کو دستاویزی شکل دی ہے جو ماسم کے ہاں رائج تھی۔ جزیروں پر زندگی گزارنے والی ان برادریوں نے تحائف کے تبادلے کا ایک پیچیدہ رسمی نظام برقرار رکھا ہوا ہے جو خول کے بنے ہوئے گردن اور بازو بند کے گرد گھومتا تھا۔ ہر تحفہ پہلے ایک ایک فرد اور بعد میں جزیروں کے درمیان ایک دائرے کی صورت سفر کرتا تھا جسے ’کولا رِنگ‘ کہا جاتا تھا۔

ان تحائف کی کوئی عملی افادیت یا تجارتی اہمیت نہیں تھی۔ دراصل رواج کے رو سے انہیں فروخت کرنا سختی سے منع تھا، کیوں کہ یہ اشیا ہمیشہ گردش میں رہتی تھیں اس لیے ان کے مالکان شاید ہی انہیں کبھی پہن پاتے تھے۔

بہرحال ان کے تبادلے کے لیے ماسم کے لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر بحرالکاہل کے سرکش پانیوں کے طویل سفر کرتے۔

 وقت اور وسائل کا بظاہر یہ بالکل بھی درست استعمال نہیں لگتا، لیکن ماہر بشریات کے مطابق انسانی تعلقات کے فروغ میں کولا کا اہم کردار رہا ہے۔

 انفرادی طور پر دراصل یہ تحائف بالکل مفت نہیں تھے بلکہ مستقبل میں ان سے کسی صلے کی توقع جڑی ہوتی تھی۔ لیکن بحیثیت مجموعی انہوں نے باہمی ذمہ داریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جو پوری برادری کو باہمی تعلقات کے ایک دھاگے میں پروئے ہوئے تھا۔

عملی افادیت 

تحائف کے اس طرح سے تبادلے دنیا بھر کے معاشروں میں موجود ہیں۔ ایشیا کے بہت سے حصوں میں تحفہ دینا کارپوریٹ کلچر کا لازمی جزو ہے۔ بالکل جیسے ماسم کے لیے وہ علامتی تحائف کاروباری تعلقات قائم کرنے میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔

مغربی  دنیا کے بیشتر حصوں میں سب سے زیادہ مانوس حوالہ تعطیلات کے دنوں میں تحائف کے تبادلے کا رجحان ہے۔ کرسمس، ہنوکہ (Hanukkah ) یا کوانزا (Kwanzaa) جیسے مواقع پر بہت سے خاندان اپنے پیاروں کے لیے تحائف خریدنے میں کافی وقت، محنت اور پیسہ صرف کرتے ہیں۔

 احساسات سے عاری منطق کی عینک سے دیکھیں تو یہ مشق فضول معلوم ہوتی ہے۔ ہر کسی کو کسی اور کی چیزوں کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ کچھ تحائف استعمال ہوئے بغیر پڑے رہتے ہیں یا واپس پلٹ آتے ہیں۔ اگر کوئی بھی تحفہ نہ دے تو شاید ہر شخص اپنی ضروریات اور خواہشات کے مطابق اپنا پیسہ اور وقت بہتر طریقے سے خرچ کر سکے گا۔

تاہم نفسیاتی تحقیق اس کے برعکس رائے پیش کرتی ہے۔ مختلف جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ خود پر پیسہ خرچ کرنے کی نسبت دوسروں پر صرف کرنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ دراصل نیورو سائنسدان اس حقیقت پر پہنچے ہیں کہ دماغ میں زیادہ خوشگوار سرگرمی تحفہ وصول کرنے کے بجائے دینے سے جنم لیتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید برآں تحفے دینے کی مسرت اسے وصول کرنے کی عارضی خوشی کی نسبت زیادہ دیر قائم رہتی ہے۔

تحائف کے تبادلے سے ہم پورے معاشرے میں دوطرفہ شکر گزاری کے احساسات پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیونکہ خاندان اور دوست ایک دوسرے کے ذوق، ترجیحات اور ضروریات کو جانتے ہیں اس لیے کافی حد تک امکان ہے کہ ایک دوسرے میں قربتیں پیدا کرنے کے اضافی فائدے کے ساتھ آپ سب سے پہلے وہی حاصل کر لیں گے جو آپ کو چاہیے ہوتا ہے۔ 

تعلقات کے تانے  بُننا

رسمی اشتراک نہ صرف خاندان کے اندر بلکہ مختلف خاندانوں کے درمیان بھی ہوتا ہے۔ سالگرہ کی تقریبات،  شادیوں یا بیبی شاورز کو ذہن میں لایے۔ مہمانوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مہنگا سا تحفہ لے کر آئیں گے۔ وہ خود اور ان کے میزبان دونوں ہی اکثر ان تحائف کی مالی قدر و قیمت پر نظر رکھتے ہیں اور وصول کنندگان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں موقع ملنے پر اتنے ہی مہنگے تحفے کے ساتھ بدلہ چکائیں گے۔

تحفوں کے اس تبادلے کے بہت سے فوائد ہوتے ہیں۔ میزبانوں کے لیے یہ مالی معاونت فراہم کرتا ہے بالخصوص وقتی طور پر مشکل لمحات میں جیسے نئے خاندان کی داغ بیل ڈالنا۔ جبکہ مہمانوں کے لیے یہ ایک فنڈ میں رقم جمع کروانے جیسا ہے جو اس وقت کام آتا ہے جب وہ خود میزبان ہوتے ہیں۔ مزید برآں تحائف دینے والوں کے ساتھ ساتھ یہ وصول کنندہ کی سماجی حیثیت بھی علامتی طور پر بلند کرتے ہیں جو مہمانوں کی مکمل یا جزوی مالی امداد سے ایک شاندار قسم کی تقریب سجانے کی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحائف کے یہ تبادلے خاندانوں کے درمیان رسمی بندھن کا سلسلہ پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

اسی طرح کا طرز عمل سیاست کا بھی حصہ ہے جہاں سفارت کار یا  رہنما کسی دوسرے ملک کا دورہ کرتے ہوئے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں۔

فرانسیسی حکام اکثر شراب کی بوتلیں دیتے ہیں جبکہ اطالوی رہنما فیشن ایںل ٹائیاں دینے کے لیے مشہور ہیں۔

دیگر سفارتی تحائف غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔ جب صدر نکلسن نے 1972 میں چین کا دورہ کیا تو چیئرمین ماؤ زے تنگ نے Ling-Ling and Hsing-Hsing کے نام والے دو دیو ہیکل پانڈے واشنگٹن ڈی سی کے قومی چڑیا گھر میں بھیجے۔ امریکہ نے چین کو دو بیل بھیج کر بدلہ چکایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جزائر میں بسنے والے لوگوں کے خول سے بنے ہوئے رِنگز سے لے کر کرسمس کے درختوں کے نیچے رکھے ہوئے کھلونوں اور سویٹروں تک تحفوں کا تبادلہ ہمیشہ بہت سی رسمی روایات کا مرکز رہا ہے۔ یہ بنیادی طور پر تجارت یا اشیا کے بدلے اشیا کے لین دین (barter) جیسی مادی تبادلے کی دیگر شکلوں سے مختلف ہے۔

ماسم کے لیے خول سے بنے بازو یا گلو بند کا تبادلہ مچھلی کے بدلے شکر قندی کے تبادلے جیسا نہیں ہے۔ بالکل جیسے سالگرہ کا تحفہ دینا گروزری خریدنے کے لیے کیشئیر کو رقم ادا کرنے جیسا نہیں ہے۔

اس سے رسمی اعمال کا عمومی اصول سامنے آتا ہے کہ وہ وہ نہیں ہوتے جو بظاہر نظر آتے ہیں۔ عام طرز عمل کے برعکس رسمی اعمال افادیت کے بوجھ سے آزاد ہوتے ہیں۔ یہ افادیت کی واضح کمی ہے جو انہیں خاص بناتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر دا کنورسیشن کی اجازت سے چھاپی جا رہی ہے۔ اس کے مصنف دمیتریس زائگالاٹس ہیں جو امریکہ کی یونیورسٹی آف کنیٹیکٹ میں اینتھروپولوجی اور سائیکالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق