میرے لیے تحفہ نہیں لائے؟

تحفہ وہی اچھا جو خوشی سے دیا جائے، زبردستی دی جانے والی شے تحفہ نہیں ہوتی بلکہ خواہ مخواہ کا بوجھ ہوتی ہے۔

(پکسابے)

تحفہ کسی بھی ایسی چیز کو کہتے ہیں جو اپنی خوشی سے دوسروں کو خوش کرنے یا ان سے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ ایسے تحائف انمول ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں کسی ایسے انسان کا ہونا بھی غنیمت ہے جو دل سے سلام کر لے، حال احوال پوچھ لے یا دو گھڑی پاس بیٹھ جائے، اس سب کے ساتھ چھوٹا سا تحفہ بھی دے دے تو کیا کہنے۔

دل سے دیے گئے تحائف دونوں پارٹیوں کے لیے یادگار ہوتے ہیں۔ کسی کو تحفہ دینے کا سوچنا، پھر کیا تحفہ دینا ہے، یہ سوچنا، پھر اس تحفے کو خریدنا اور پیک کرنا اور پھر تحفہ دینا، یہ پورا عمل ہی اپنے آپ میں بہت خوبصورت ہے پر بعض تحائف خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت دیے جاتے ہیں۔ اگر نہ دیے جائیں تو تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ کا ملک سے باہر جانا ہو تو واپسی پر جاننے والوں کے لیے تحائف لانا لازمی ہو جاتا ہے۔ چلو گھر والوں کے لیے تو انسان کچھ نہ کچھ لے ہی لیتا ہے، گھر کے لیے بھی کوئی چیز اٹھا لاتا ہے لیکن رشتے دار، محلے دار اور دوست احباب، ان کا کیا؟ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں وہ تو ہر جاننے والے کے لیے ایک نہیں دو دو چیزیں لا سکتے ہیں، جو نہیں لا سکتے وہ اس رواج کے بوجھ تلے پسے ہی چلے جا رہے ہیں۔

بعض احباب تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو جانے کا سن کر خود آ جاتے ہیں اور اپنے ساتھ ایک چھوٹی سی فرمائشی فہرست بھی لے آتے ہیں۔ ابنِ انشا نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب 'چلتے ہو تو ’چین کو چلیے‘ کا آغاز ہی اپنے دوستوں کی فرمائشی  لسٹ سے کیا تھا۔ افسوس وہ اس لسٹ میں سے صرف کچھ ہی چیزیں لا سکے۔ جن کی چیزیں نہ آ سکیں ان سے ان کے تعلقات پہلے جیسے نہ رہے۔

ہماری ایک دوست باہر کے ملک میں  مقیم ہیں، سال بعد وطن کا چکر لگاتی ہیں۔ پہلے پہل تو شوق شوق میں بہت سی چیزیں لے آئیں، اگلے سال بھی کچھ نہ کچھ اٹھا ہی لائیں، اس سے اگلے سال ایمرجنسی میں آنا پڑا تو بس خود ہی آ سکیں، تحائف نہ آ سکے۔ اس سال کچھ عزیزوں نے ان سے ویسا سلوک نہیں کیا جیسا اس سے پہلے کرتے تھے۔ ان کا دل بہت خراب ہوا۔ اس کے بعد سے ان کا تحائف خریدنے کا دل ہی نہیں کرتا۔ پاکستان آنے سے پہلےقریبی سٹور سے دس کلو چاکلیٹ خریدتی ہیں، اس کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بناتی ہیں، اور پاکستان واپس آ کر یہ پیکٹ ہر جاننے والے کے گھر پہنچا دیتی ہیں۔ اب ان کی زندگی میں سکون ہی سکون ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ لوگ وقت نکال کر قریبی ڈالر شاپ بھی چلے جاتے ہیں۔ جو ہاتھ آتا ہے، اٹھا لیتے ہیں۔ پاکستان پہنچ کر اپنا لایا ہوا سامان دیکھتے ہیں، جس کے لیے جو مناسب لگتا ہے اسے ’خاص آپ کے لیے خریدا ہے‘ کہہ کر تھما دیتے ہیں۔ ہم نے خود ایک بار ایسا ہی کیا تھا۔ چین میں می نی سو بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہمارے ہاں چائنا سٹور۔ سال بعد وطن واپسی کا ارادہ کیا تو تحائف لینے کے لیے می نی سو کا ہی رخ کیا۔ جو نظر آیا اٹھا لیا۔ پرفیوم، میک اپ، چارجر، ہیڈ فون، سپیکر، تکیے، چھتری، پلیٹ، چمچ، اور جانے کیا کیا۔ گھر پہنچ کر سب کو تحفے پکڑا دیے، تھوڑی شرمندگی بھی ہوئی پر دل سخت رکھا اور چہرہ نرم۔ وہ تو اللہ بھلا کرے چینیوں کا کہ انہوں نے وطنِ عزیز کو می نی سو کے قابل سمجھا اور یوں ہمارے دیے تحائف کو برانڈ کا درجہ نصیب ہوا ورنہ ہم آج بھی شرمندہ ہی ہو رہے ہوتے۔

ہمارا تو ایسے تیسے کر کے گزارا ہو ہی جاتا ہے، اصل مسئلہ تو ان کا ہے جنہیں پوری زندگی کی ریاضت کے بعد کچھ دنوں کے لیے اللہ کے گھر جانا نصیب ہوتا ہے۔ ان کے یہ کچھ دن عبادت میں کم اور پیچھے رہ جانے والوں کے لیے تحائف ڈھونڈنے میں زیادہ صرف ہوتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو دن میں وہاں عبادت کرتے تھے اور شام میں خالی بوتلوں میں آبِ زم زم بھر کر سوٹ کیس میں جمع کرتے ہیں تاکہ واپسی پر سب کو آبِ زم زم دیا جا سکے۔ آبِ زم زم کے ساتھ کھجوریں، تسبیح، ٹوپی، جائے نماز اور چادر بھی لازمی دینی ہوتی ہیں۔

کچھ لوگ تو ان اشیا کی تلاش میں وہیں خوار ہوتے ہیں جبکہ کچھ ان کی خریداری پاکستان پہنچ کر کرتے ہیں۔ ایئرپورٹ سے سیدھا بازار جاتے ہیں، درجنوں کے حساب سے چیزیں خریدتے ہیں اور سعودیہ کا کہہ کر عزیزوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ ایسا نہ کریں تو اگلے خود پوچھ لیتے ہیں میرے لیے تحفہ نہیں لائے؟ بس اس سوال سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ انسان کچھ نہ کچھ خرید کر ان کے ہاں پہنچا ہی دے۔

دوستو، تحفہ وہی اچھا جو خوشی سے دیا جائے، زبردستی دی جانے والی شے تحفہ نہیں ہوتی بلکہ خواہ مخواہ کا بوجھ ہوتی ہے اور بوجھ جانوروں پر اچھا لگتا ہے، انسان پر نہیں۔ خود کو اور اپنے عزیزوں کو اس بوجھ سے ہلکا کریں اور مست زندگی گزاریں کہ زندگی کا مقصد بس یہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ