بدلتے اضطرابوں کا سال

چشم فلک نے 2021 کے دوران تیونس میں صدارتی فرمان اور مراکش میں ووٹ کے ذریعے شمالی افریقہ سے سیاسی اسلام کی بساط لپٹتی دیکھی۔

فلسطینی بیکرز 30 دسمبر، 2021 کو غزہ شہر میں ایک پیسٹری شاپ میں نئے سال سے قبل 2022 کی سجاوٹ کے ساتھ کیک تیار کر رہے ہیں(اے ایف پی)

سال 2021 نے جاتے جاتے ’اومیکرون‘ کی تباہی کا نظارہ بھی کر لیا۔ ذرائع ابلاغ کے درمیان کرونا سے پہنچنے والے نقصان کی خبریں دینے کا مقابلہ پھر شروع ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق اب تک برطانیہ کا ریکارڈ کوئی نہیں توڑ سکا، جہاں ایک دن کے اندر ایک لاکھ بیس ہزار کرونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

بدلتے اضطرابوں کے سال 2021 میں تیل کی قیمت 80 سے 70 ڈالرز ہوئی۔ سال کے خاتمے سے قبل شروع ہونے والے کاروباری ہفتے کے دو دنوں میں عالمی سٹاک مارکیٹس کو ایسے معاشی زلزلے نے اپنی لپیٹ میں لیا، جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ اب شاید نئے سال میں بازار حصص کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑے گی، تاہم تخمینوں کے برعکس سٹاک مارکیٹس دو ہی دنوں میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی۔

کرونا وائرس کی ’ڈیلٹا‘ نامی قسم اس عالمی وبا کے خاتمے کا عنوان بن سکا اور نہ ہی یہ دنیا کے جھمیلوں میں کوئی آخری غم ثابت ہوا۔ یوکرائن کی سرحد پر روس اور مغرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہماری نیندیں اڑانے اور نئے سال کی امنگوں کو گہنانے کے لیے کافی ہے۔

بیتے سال میں افغانوں کی نامعلوم قسمت سے متعلق اطلاعات نے ’بریکنگ نیوز‘ کا پیٹ بھرا۔ دو ہزار اکیس کے وسط میں شہہ سرخیوں کا موضوع رہنے والے افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جانا تو درکنار ان کی عبوری حکومت کے نمائندوں کو او آئی سی کے گروپ فوٹو میں جگہ ملنا بھی محال تھا۔

گذشتہ برس کے آغاز سے ہی کرونا کی نت نئی اقسام سامنے آتی رہیں۔ آج بھی کرونا کی نئے اقسام کا چرچہ آخری لمحوں میں خبری رن ڈاؤن کی اکھاڑ بچھاڑ کا باعث بن رہا ہے جس کے بعد وہ پیش گوئیاں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں جن میں میڈیا کی بساط لپیٹنے کی وارننگ دی جاتی رہی ہے۔

سعودی عرب کو سال 2021 کے آغاز سے ہی اس میں رونما ہونے والے واقعات کے باعث نمایاں مقام حاصل رہا۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے بیانات نے اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم آگے چل کر مملکت کا ’سرسبز مشرق وسطیٰ اقدام‘ ایسا موضوع بحث بنا کہ ساری دنیا اس پر بات کرنے لگی۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کی آڑ میں کئی دہائیوں سے کی جانے والی سیاسی بلیک میلنگ کو ریاض نے گذشتہ برس اپنے پیشگی اقدام سے ناکام بنایا۔ ’سبز اقدام‘ نے خلیج میں سبز رنگ کی بہار متعارف کرا دی، جس سے صحرا میں سبزا لہلانے لگا جس مغربی بلیک میلنگ کے تمام حربے ناکام ہوئے۔

 سن 2021 کے اوائل مہینوں میں سعودی عرب کے تاریخی شہر العُلاء نے علاقائی اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ العُلاء پر طلوع ہونے والے سورج  نے علاقائی اختلافات کو ہوا میں تحلیل ہوتے دیکھا۔ ایک دوسرے کا بائیکاٹ کرنے والوں نے مذاکرات کی میز سجا لی جس کے اختتام پر اعلان العُلاء پر دستخط ہوئے اور اس طرح چار ملکی تنازعہ قدرے ہچکچاہٹ کے ساتھ ختم ہوا۔

بحرین کو کئی حوالوں سے اپنے تحفظات تھے، اس کے باوجود ریاض میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] کے حالیہ سربراہی اجلاس نے مصالحت کی ٹرین کی رفتار برقرار رکھنے میں مدد دی۔

العُلاء سے واشنگٹن تک اور پھر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے 2021 میں کانگریس پر ہلہ بولنے کے مناظر بھی حیران کن تھے۔ ان مناظر نے ثابت کر دیا کہ امریکہ بھی دنیا کے باقی ملکوں کی طرح ایک ملک ہے، جہاں مکافات عمل کا فطری قانون کسی بھی اپنا جوبن دکھا سکتا ہے۔

بائیڈن نے مسند اقتدار پر قدم رکھتے ہی سعودی عرب اور مصر کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ لیکن یہ حقیقت جلد ہی ان کا منہ چڑانے لگی کہ جب دو عرب قوتوں نے دنیا کے منظرنامے پر اپنا لوہا منوایا تو پھر بڑکیں مارنے والے بائیڈن ان سے بات کرنے پر مجبور ہوئے۔

سعودی عرب کو امریکی اسلحہ کی فروخت پر پابندی ختم ہوئی اور مصر کے فوجی رہنما عبدالفتاح السیسی سے جو بائیڈن کو بات کرنا پڑی۔ یوں امریکہ میں ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی کی کہانی کا کلائیمکس جلد ہی سامنے آ گیا۔

افغانستان کی طرف آیئے۔ 2021 کے دوران افغانستان کا بحران انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی توجہ حاصل کر رہا تھا ایسے میں دنیا بھر کی نظر التفات ایک مرتبہ پھر امریکہ کی جانب ہوئی کیونکہ کابل سے عجلت میں انخلا کے وقت فوجی جہازوں سے لٹک کر گرنے والے افغانوں کے لاشے ’طاقتور جمہوریت‘ کا مذاق اڑا رہے تھے۔

وہی طاقت جو بیس سال طالبان سے لڑتی رہی اور پھر ناکام ہو کر غربت کے مارے افغان عوام کو اسی ’عفریت‘ کا سامنا کرنے کے لیے اکیلا چھوڑ کر فرار ہو گئی۔ یہ واقعہ دوسرے واقعات کے جنم لینے پر طاق نسیان پر سجا دیا گیا۔ خون رنگ سیاست غالب آنے لگی اور اس طرح طالبان کی ’واپسی‘ معمول کی بات قرار پائی۔

سن 2021 میں ہی ایتھوپیا کو یہ جرات ہوئی کہ وہ مصر اور سوڈان کو النہضہ ڈیم تعمیر کرنے کی دھمکیاں دے۔ تیگرائے کے قبائل نے ادیس ابابا اور ایتھوپیائی رہنما ابے احمد علی پر چڑھائی کر دی۔

داخلی محاذوں پر درپیش چینلجز کے بعد ابے احمد علی کو جلد ہی دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔  النہضہ ڈیم کی تعمیر کو انہیں اپنے اقتدار کی بقا کی ضمانت ملنے تک موخر کرنا پڑا۔

سوڈانیوں کو بھی ایتھوپیا سے اٹھنے والے انقلابی شرارے نے قسمت آزمائی کہ شہہ دی۔ فریڈم اینڈ چینج فورسز نے انقلاب کی ہوا سے اپنے پھیپھڑے بھر کر سمجھ لیا کہ اب وہ سوڈان میں زیادہ دیر تک پر مار سکتے ہیں جبکہ فوج نے حکمران کونسل کو ساتھ ملا کر اس ہوا کو انقلاب کے جراثیم سے پاک کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انقلابیوں کو فیصلہ سازی کے اداروں تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیا۔

سوڈان، افغانستان اور ایتھوپیا میں رونما ہونے والے واقعات کے جلو میں صدر قیس سعید نے اپنے ملک تیونس میں فرمان جاری کر کے اخوان المسلمون کے اقتدار کا خاتمہ کر ڈالا۔

قیس سعید کے فیصلے کی بازگشت جلد ہی مراکش میں بھی سنائی دینے لگی جہاں انتخابات کے نتیجے میں جسٹس اینڈ ڈیلوپلمنٹ پارٹی کو گھر کی راہ دکھا دی گئی۔

سن 2021 کے دوران چشم فلک نے تیونس میں صدارتی فرمان اور مراکش میں بیلٹ باکس کے ذریعے شمالی افریقہ سے سیاسی اسلام کی بساط لپٹتی دیکھی۔

کالم کی تنگ دامنی سال گذشتہ کے تمام واقعات کے احاطے کی راہ میں مزاحم ہے۔ ان سطور کے ذریعے ہم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ دنیا کی دم گھٹتی معیشت نہر سویز کی بندش کے باعث کیسے مفلوج ہونے کے قریب پہنچی؟

نہ ہی یہ جگہ مینمار، چین اور تائیوان کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانیاں بیان کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالمی وبا کا نشانہ بننے والی دنیا میں یہ مختصر جائزہ سیاست اور معیشت کو لاحق وباؤں کا احاطہ کرنے سے بھی قاصر ہے۔ تالہ بندی اور ہر سو پھیلے ہوئے خوف سے عبارت سال 2021 میں دنیا یہ بھول گئی کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ماخذ چین تھا؟

سال نو کے آغاز پر آج ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ’اومیکرون‘ کا خاتمہ کب اور کیوں کر ہوگا؟ میں سمجھتا ہوں کہ عالمی ادارہ صحت نے دنیا کی تمام وباؤں کو پس پشت ڈال کر اپنے ذمے صرف بےچینی کی وبا کے پھیلاؤ کا فریضہ لے رکھا ہے۔

یہ وائرس پہلے عالمی ادارہ صحت کو لاحق ہوا، جہاں سے اس کا پھیلاؤ دنیا میں ممکن ہوا۔

ہم امید کرتے ہیں کہ نیا سال 2022 اچھی خبروں اور امیدوں کا سال ہو گا اور اس میں عالمی وبا ’اومیکرون‘ کے ساتھ ہمارا پیچھا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے گی۔ سال نو مبارک!


ٹوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا صروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ