بھارت کو شکست اور رضوان: 2021 پاکستان کے لیے کیسا رہا؟

2021 میں پاکستان کرکٹ کی مجموعی کارکردگی عمدہ رہی لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی اس سال زیادہ تر فتوحات کمزور ٹیموں کے خلاف ہیں۔

24 اکتوبر، 2021 کو دبئی میں کھیلے گئے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ جیتنے کے بعد محمد رضوان  بھارتی کپتان وراٹ کوہلی سے مل رہے ہیں (اے ایف پی)

کرونا کی تباہ کاریوں میں گھرا ہوا سال 2021 پاکستان کرکٹ کے لیے بہت خاص نہیں رہا۔

پاکستان کو اس عرصے میں زیادہ کرکٹ نہ مل سکی اور جس قدر ملی وہ زیادہ ترکمزور ٹیموں کے خلاف تھی۔

پاکستان نے اس سال جو سب سے بڑا کارنامہ انجام دیا وہ بھارت کے خلاف کسی بھی ورلڈ کپ میں جیتنا تھا۔

پاکستان نے 46 سال کے بعد بالآخر ورلڈ کپ میں ایک میچ جیت کر وقتی طور پر بھارتی توپیں خاموش کردیں۔

ٹیسٹ کرکٹ

پاکستان نے اس سال نو ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے سات میں فتح  جبکہ دو میں شکست ہوئی۔

پاکستان کا اس سال پہلا میچ نیوزی لینڈ کی سرزمین پر تھا جس میں شکست کا جام پینا پڑا۔

پاکستان نے بقیہ ٹیسٹ زمبابوے، بنگلہ دیش، ساؤتھ افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے۔

زمبابوے اور بنگلہ دیش کمزور ترین حریف ثابت ہوئے جن سے چار ٹیسٹ باآسانی جیت لیے جبکہ ساؤتھ افریقہ بھی پاکستان میں کمزور حریف رہی اور دونوں ٹیسٹ میچ پاکستان نے کسی دقت کے بغیر جیت لیے ۔

ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز میں پاکستان ایک ٹیسٹ ہاری ایک اور ایک میں جیتی۔

ٹیسٹ میچوں میں 695 رنز بنا کر عابد علی سرفہرست رہے۔ تاہم فواد عالم تین سنچریاں بنا کر نمایاں رہے۔

بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی 47 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست رہے لیکن بنگلہ دیش کے خلاف ساجد خان نے ایک میچ میں 12 وکٹیں لے کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔

ون ڈے میچز

پاکستان نے اس سال ون ڈے میچز کی دو سیریز کھیلیں جن میں کل چھ میچ کھیلے گئے۔ پاکستان دو میچ جیت سکا جبکہ چار میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان نے انگلینڈ سے تین میچوں کی سیریز کھیلی جس میں کرونا وبا کے باعث انگلینڈ کی بی ٹیم نے پاکستان کا سامنا کیا اور پاکستان کوتینوں میچوں میں یک طرفہ شکست دی۔

پاکستان کی طرف سے بیٹنگ میں بابر اعظم 405 رنز بنا کر سرفہرست رہے جبکہ بولنگ میں حارث رؤف نے 13 وکٹ حاصل کیے ۔

ٹی ٹوئنٹی میچز

پاکستان کی سب سے نمایاں کارکردگی ٹی ٹوئنٹی میچوں میں رہی۔ پاکستان نے تمام ٹیموں میں سب سے زیادہ 29 میچ کھیلے اور 20 میں فتح حاصل کی جبکہ چھ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے تین میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف موسم کے باعث کھیلے نہیں کھیلے جاسکے۔

پاکستان کی طرف سے محمد رضوان نے سب سے زیادہ 1326 رنز بنائے جس میں ایک سنچری اور 12 نصف سنچری شامل تھیں۔

بولنگ میں حسن علی اور حارث رؤف نے 25 ، 25 وکٹ حاصل کرکے سرفہرست جگہ بنائی۔

سال کا سب سے اہم ایونٹ

متحدہ عرب امارات میں اس سال آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلا گیا۔ پاکستان اس ٹورنامنٹ کے لیے شروع سے فیورٹ تھا۔

پاکستان نے اپنا آغاز روایتی حریف بھارت کے خلاف سے کیا اور پہلی مرتبہ بھارت کو دھول چٹانے میں کامیاب رہا۔

اس میچ کی خاص بات اوپنر بابر اعظم اور محمد رضوان کی ناقابل شکست 152 رنز کی وننگ پارٹنرشپ تھی۔

پاکستان نے اپنے بقیہ میچ نیوزی لینڈ اور افغانستان سے بھی واضح برتری سے جیتے لیکن سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دینے میں ناکام رہا اور یوں فائنل جیتنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔

نیوزی لینڈ کی اچانک واپسی

نیوزی لینڈ کی ٹیم اس سال ستمبر میں پاکستان کے دورے پر آئی لیکن پہلے ایک روزہ میچ کے شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ’سکیورٹی مسائل‘ کو وجہ بنا کر واپس لوٹ گئی۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جب مہمان ٹیم سکیورٹی کی وجہ سے واپس گئی۔ کیویزکا موقف تھا کہ انھیں ایک ای میل ملی ہے جس میں ٹیم بس کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم اس دعویٰ کی کوئی تصدیق نہ ہو سکی۔

پی ایس ایل پر کرونا کے وار

پاکستان کرکٹ بھی اس سال کرونا وبا سے متاثر ہوئی اور پلیئرز میں کچھ مثبت کیس رپورٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اس سیزن کو بیچ میں روکنا پڑا۔

کرونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کو ناکافی قرار دیا گیا اور اس پر پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیکل مستعفی ہوئے۔ پی ایس ایل کے بقیہ میچ جون میں دبئی میں کھیلے گئے اور ملتان سلطانز نے پہلی دفعہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔

پی سی بی میں تبدیلی

اس سال پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے وقت سے پہلے اپنا عہدہ چھوڑ دیا اور یوں سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کمنٹیٹر رمیز راجہ بورڈ کے نئے چیئرمین بنے۔

رمیز راجہ کے ساتھ بورڈ میں کچھ اور تبدیلیاں کی گئیں۔ بورڈ کے ایم ڈی وسیم خان بھی خیر باد کہہ گئے اور آئی سی سی کے سابق خازن فیصل حسنین کو نیا ایم ڈی مقرر کیا گیا۔

قائد اعظم ٹرافی

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ قائد اعظم ٹرافی ایک بار پھر خیبر پختونخوا کے نام رہا جنھوں نے اپنے ٹائٹل کا کامیاب دفاع کیا۔

قائد اعظم ٹرافی میں ناردرن کے محمد ہریرا 986 رنز بنا کر سرفہرست رہے جبکہ بولنگ میں ساؤتھ پنجاب کے علی عثمان نے 43 وکٹیں حاصل کرکے سرفہرست رہنے کا اعزاز حاصل کیا ۔

آئی سی سی ایوارڈ نامزدگی

آئی سی سی نے اس سال بہترین کھلاڑیوں میں بابر اعظم اور محمد رضوان کو نامزد کیا ہے جنھیں دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ ووٹنگ کے ذریعے سال کے بہترین کھلاڑی بننے کا موقع ملے گا۔

توقع ہے کہ محمد رضوان ٹی ٹوئنٹی اور بابر اعظم ون ڈے کے بہترین کھلاڑی کا مقابلہ جیت لیں گے۔

اس سال پاکستان کرکٹ کی مجموعی کارکردگی عمدہ رہی لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی اس سال زیادہ تر فتوحات کمزور ٹیموں کے خلاف ہیں۔

پاکستان نے اس سال انٹرنیشنل کرکٹ کو ملکی گراؤنڈز میں کرانے کی بھرپور جدوجہد کی اورت ین غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ