’لاش لینے آئے مگر اب ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں‘

’دو دن پہلے دوستوں اور چچا کے ساتھ مری جانے کا پلان بنایا تاکہ برف باری سے لطف اندوز ہو سکیں مگر۔۔۔۔۔‘

بلال حسین ان کے دوستوں اور چچا نے گذشتہ دنوں مری جانے کا پلان بنایا تھا (تصویر بشکریہ فیصل)

’ایک سال بعد کراچی سے مردان گیا تاکہ اپنے دوستوں کے ساتھ مری جا کر وہاں برف باری سے لطف اندوز ہو سکے لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا اور اپنے دوستوں سمیت اس دنیا سے چلا گیا۔‘

یہ کہنا تھا پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں برف باری کے باعث رش میں پھنس کر مرنے والے سیاحوں میں شامل بلال حسین کے بھائی اقبال حسین کا جو اس وقت اپنے گھر میں چھوٹے بھائی کی لاش کا انتظار کر رہے ہیں۔

پنجاب ریسکیو 1122 کے مطابق بلال حسین کے ساتھ ان کے تین دیگر دوست بھی تھے جو اپنی گاڑی میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

مری اور اس کے ملحقہ علاقوں میں شدید برف باری کے باعث پھنس جانے والے سیاحوں میں سے اب تک کم از کم 21 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور وفاقی حکومت کے مطابق ان سیاحوں کی ہلاکت ممکنہ طور پر دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق جب برف باری میں جب گاڑی کا ایگزاسٹ پائپ (سائلنسر) برف کی وجہ سے بند ہو جائے اور گاڑی میں ہیٹر آن ہو تو کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

اقبال حسین بتاتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر مردان کے ہیں لیکن ان کے خاندان والے کراچی میں رہتے ہے اور وہاں پر ان کا گھر ہے لیکن ’میرا 22 سالہ بھائی بلال حسین کراچی سے مردان اپنے دوستوں کے پاس آیا تھا تاکہ یہاں موسم سے لطف اٹھا سکے۔

’دو دن پہلے انہوں نے اپنے دوستوں اور چچا کے ساتھ مری جانے کا پلان بنایا تاکہ وہاں پر برف باری سے لطف اندوز ہو سکیں لیکن مری جا کر وہاں پر پھنس گئے۔‘

اقبال حسین کے مطابق بلال حسین سے گذشتہ رات 12 بجے تک ان کا رابطہ تھا اور جب انہوں نے بتایا کہ وہ پھنس گئے ہیں اور آگے راستہ بند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رات 12 بجے کے بعد ان کا اپنے بھائی سے رابطہ نہ سکا۔

’آخری کال پر انہوں نے مجھے یہی بتایا تھا کہ راستہ برف باری کی وجہ سے بند ہے اور گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں لیکن انہوں نے کسی ایمرجنسی کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا آپ کے بھائی نے مدد کی اپیل کی تھی؟ جس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’مدد کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں کیا تھا لیکن صرف اتنا بتایا تھا کہ وہ گاڑی میں موجود ہیں اور راستہ بند ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقبال حسین کے گھر والے کراچی سے مردان آگئے ہیں اور اب لاش کا انتظار کر رہے ہیں۔

’دکان میں بیٹھیں میں صبح لیٹ آؤں گا‘

بلال حسین کے ساتھ ان کا ایک دوست اسد بھی مری جانے والوں میں شامل تھا جو ایک ہی گاڑی میں پولیس کے مطابق دم گھٹنے سے جان سے گئے ہے۔

فیصل اسد کا دوست ہے اور اس وقت راولپنڈی میں ان کی لاش لینے کا انتظار کر رہا ہے۔

فیصل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے ہم اسلام آباد میں تھے لیکن ہمیں باقاعدہ طور پر نہیں بتایا جا رہا تھا کہ اسد کی لاش کہاں پر ہے لیکن اب بتایا گیا ہے کہ وہ راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں ہے۔‘

’ایک ہم اور اسد کی فیملی والے غم سے نڈھال ہیں جبکہ دوسری جانب لاش لینے میں دشواری پیش آرہی ہے جو خاندان والوں کے ساتھ ظلم ہے۔‘

اسد خاندان کے واحد کفیل تھے اور اکلوتے بھائی تھے۔ اسد کے والد وفات پا چکے ہیں جبکہ گھر میں ان کی ماں، اہلیہ اور دس ماہ کا بیٹا ہے۔

فیصل نے بتایا کہ اسد ’میرے بچپن کا دوست تھا اور ہم سکول میں بھی ایک ساتھ پڑھتے اور بعد میں ایک ساتھ سریے کا کاروبار شروع کیا۔‘

’آخری بار رات کو اسد سے بات ہوئی تھی اور وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ صبح وہ لیٹ آئے گا، اس لیے فلاں بندوں کو آپ پیسے دیجیے۔‘

فیصل نے بتایا ’اسد نے کسی قسم کے خطرے کی بات نہیں کی تھی اور اس کہ وجہ شاید یہی ہو سکتی ہے کہ اسد اور ان کے دوست یہی سمجھ رہے تھے کہ بس ٹریفک بند ہے اور باقی کوئی مسئلہ نہیں ہے اور گاڑی ہی میں سو گئے جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔‘

انہوں نے حکومت سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں پہلے مری ہسپتال والوں نے بتایا کہ اسد اور ان کے دیگر دوستوں کی لاشیں ضلعی ہسپتال راولپنڈی میں ہیں، لیکن جب وہاں گئے تو بتایا گیا کہ ان کو پنڈی میں ایک اور ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

’ڈی ایچ کیو ہسپتال والوں نے بتایا کہ مردان سے تعلق رکھنے والے افراد کی لاشوں کو پنڈی کے کسی اور ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے لیکن مجھے ان کا درست نام بھی یاد نہیں۔ ہمیں اگر درست طریقے سے گائڈ کیا جاتا تو لاش لینے میں آسانی ہوجاتی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان