’ان سے پوچھیں نا، کرین بھیجی ہے یا نہیں؟‘

تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھتیجے اور ایک بھانجی سمیت اے ایس آئی نوید اقبال پر اس لمحے کیا گزری اس کا شاید ہم اندازہ بھی نہ کر سکیں مگر وہ اس وقت چاہتے کیا تھا یہ انہوں نے خود متعدد بار اس آڈیو پیغام میں بتایا۔

سیاحتی مقام مری اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹے سے سیاح پھنسے ہوئے ہیں جنہیں وہاں سے نکالنے کی کوششیں کی جا رہی  ہیں (سی ٹی پی/ مری)

’18 گھنٹے ہو گئے ہیں بلکہ 20 گھنٹے ہو گئے ہیں ہمیں یہاں انتظار کرتے ہوئے۔ مزید کتنے گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا؟‘

یہ الفاظ ہیں اے ایس آئی نوید اقبال کے جو بظاہر انہوں نے اپنے آخری وائس میسج میں ساتھی پولیس اہلکار سے کہے۔

مختلف ٹی چینلز پر چلنے والے اس وائس میسج میں اے ایس آئی نوید اقبال کی آواز میں پریشانی اور مجبوری کا احساس سنائی دے رہا ہے۔

تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھتیجے اور ایک بھانجی سمیت اے ایس آئی نوید اقبال پر اس لمحے کیا گزری اس کا شاید ہم اندازہ بھی نہ کر سکیں مگر وہ اس وقت چاہتے کیا تھا یہ انہوں نے خود متعدد بار اس آڈیو پیغام میں بتایا۔

اے ایس آئی نوید اقبال اس وقت صرف اور صرف ایک ’امید‘ چاہتے تھے۔

اپنے آڈیو پیغام میں وہ اپنے ساتھی پولیس اہلکار سے اپنے تعلقات کا استعمال کر کے انہیں وہاں سے نکالنے کا نبدوبست کرنے کو کہہ رہے تھے۔

’18 گھنٹے ہو گئے ہیں بلکہ 20 گھنٹے ہو گئے ہیں ہمیں یہاں انتظار کرتے ہوئے۔ مزید کتنے گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا۔‘

’یہاں تو برفباری جاری ہے رک ہی نہیں رہی مری میں شاید رک گئی ہو۔‘

’اللہ کرے کوئی سسٹم بن جائے بہت پریشانی ہے۔۔ آپ کا بھی پتہ لگے گا کہ کتنے پانی میں ہو۔۔ مزہ تو تب آئے کہ ہم صبح تک نکل جائیں۔‘

ان کی آڈیو کو یہاں تک سنیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بس کسی طرح وہاں سے دیگر سیاحوں کی طرح نکلنا چاہتے ہیں مگر ان کے وائس پیغام کا اگلا حصہ کم از کم میرے دماغ میں تو جیسے اٹک سا گیا ہے۔

اور ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اس لمحے وہ صرف کچھ ایسا چاہتے تھے جس سے انہیں ’امید‘ بندھ جائے۔

وہ اپنے ساتھ اہلکار سے آڈیو پیغام میں کہتے ہیں: ’کم از کم کرین کام شروع کر دے نا،  تو بندے کو تھوڑی امید ہو جاتی ہے کہ چلو کوئی نہیں ہو جائے گا۔‘

’ان سے پوچھیں نا کہ کرین بھیجی ہے یا نہیں؟‘

اے ایس آئی نوید اقبال اور ان کے ساتھ گاڑی میں موجود دیگر افراد کی موت بند گاڑی میں مسلسل ہیٹر لگے رہنے کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔

برطانوی ادارے نیشنل ہیلتھھ سروسز (این ایچ ایس) کے مطابق ایسی صورتحال میں زیادہ تر ہلاکتوں کی وجہ گاڑیوں کے ایگزاسٹ پائپ کی بندش ہوتی ہے۔ گاڑیوں میں پھنسے افراد خود کو گرم رکھنے کے لیے گاڑی سٹارٹ رکھتے ہیں جس سے کاربن مونوآکسائڈ نکلتی رہتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایسی بند جگہ میں جہاں ہوا کا آنا جانا نہ ہو کاربن مونوآکسائڈ  صرف 15 سے 20 منٹ میں موت کا باعث بن سکتی ہے۔

مگر ان کی جانب سے بار بار کرین کا ذکر کرنے سے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا انسان کا جسم، اس کا دماغ ’امید‘ ملنے پر یا ایسی کوئی چیز جس کا وہ منتظر ہو سامنے آ جانے پر کیسے کام کرتا ہے اور کیا نوید اقبال کو کرین اگر نظر آ جاتی تو کچھ مختلف ہو سکتا تھا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ جاننے کے لیے میں نے سائیکاٹرسٹ اور دی جینئس کے سی ای او ڈاکٹر شاذب شمیم سے رابطہ کیا اور پہلے تو انہیں پوری صورتحال سے آگاہ کیا اور نوید اقبال کی آڈیو کے بارے میں بتایا۔

چونکہ نوید اقبال اور گاڑی میں موجود دیگر افراد کی موت کی وجہ بند گاڑی اور مسلسل ہیٹر کا چلتے رہنا بتائی جا رہی ہے تو ڈاکٹر شاذب شمیم کا بھی یہی کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی دیگر وجہ نہیں ہو سکتی تھی۔

جب ان سے میں نے یہ پوچھا کہ نوید اقبال بار بار کرین کی بات کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ ’صرف کرین دکھ جائے تو امید ہو جائے گی‘ تو اس پر ڈاکٹر شاذب شمیم نے کہا کہ اگر اس وقت انہیں کرین دکھ جاتی تو ان کا ’فائٹنگ موڈ‘ آن ہو جاتا۔

اس کی تفصیل انہوں نے کچھ یوں بتائی کہ نوید اقبال اس وقت کرین کے منتظر تھے اگر وہ ان کے سامنے آجاتی تو انہیں وہاں سے نکلنے کی امید ہو جاتی اور شاید وہ اس وقت گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے کی کوشش کرتے، گاڑی کا شیشہ اتارتے یا پھر باہر نکل کر امدادی کاموں کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے۔

مگر ایسا نہیں ہوا۔

ہم اکثر کہتے اور سنتے ہیں کہ ’امید پر دنیا قائم ہے۔‘ شاید نوید اقبال کی دنیا بھی اس وقت ’امید‘ پر ہی قائم تھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار کہتے رہے ’ان سے پوچھیں نا کہ کرین بھیجی ہے یا نہیں۔‘

سوشل میڈیا سمیت ذرائع ابلاغ پر اس وقت جتنی بھی ترکیبیں سردی سے بچنے کی بتائی جا رہی ہیں ان میں سرفہرست پیدل چلنا یا دوڑنا ہے۔ عین ممکن ہے وہ کرین دیکھتے اور اپنی ’امید‘ کے تعاقب میں جاگتے رہتے، یا چل پڑتے، بہرحال بچ تو جاتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ