القاعدہ کی یمن میں اپنے اہم کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق

 صالح بن سالم القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ   اے کیو اے پی کی جانب سے 29 مارچ 2014 کو جاری کی جانے والی ویڈیو  سے  لی گئی تصویر میں  مبینہ طور پر القاعدہ کے جنگجوؤں کو یمن میں کسی نامعلوم مقام پر اپنے رہنما نصیر الوحیشی کی تقریر سنتے دیکھا جا سکتا ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ اے کیو اے پی نے یمن میں امریکی فضائی حملے میں اپنے ایک اہم فوجی کمانڈر کی ہلاکت کا اعلان جمعے کے روز کیا ہے، جس کی اطلاع ایک غیر سرکاری انٹیلی جنس گروپ سائٹ (SITE) نے دی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عسکریت پسند گروپوں کی آن لائن نگرانی کرنے والے گروپ سائٹ کی ڈائریکٹر ریٹا کاٹز نے کہا کہ القاعدہ کی اس علاقائی شاخ نے صالح بن سالم بن عبید ابولان (عرف ابو عمیر الحضرمی) کی موت کی تصدیق تو کر دی ہے لیکن اس حوالے سے کسی تاریخ یا مقام کا ذکر نہیں کیا۔

 صالح بن سالم القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

ریٹا نے ٹوئٹر پر امریکی فضائی حملے کی رپورٹس کا حوالہ دیا، جب گذشتہ سال 14 نومبر کو اے کیو اے پی کے تین عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صالح یمن میں القاعدہ کے ہلاک ہونے والے پہلے اہم رہنما نہیں ہیں۔ اس سے قبل 2020 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن میں القاعدہ کے رہنما قاسم الریمی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

قاسم الریمی کو شدت پسندوں کی جانب سے امریکی بحری اڈے پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کرنے کے چند دن بعد ہلاک کیا گیا تھا۔ وہ یمن میں القاعدہ کے بانی رہنما تھے۔

یمن میں ہی القاعدہ نے چھ دسمبر کو امریکی ریاست فلوریڈا میں پینساکولا نیول ایئر سٹیشن میں فائرنگ کے واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی، جس میں تین امریکی سپاہی مارے گئے تھے۔

امریکہ یمن میں سرگرم القاعدہ کو شدت پسندوں کے عالمی نیٹ ورک میں سب سے زیادہ خطرناک تصور کرتا ہے۔ ملک میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے اس تنظیم کو یہاں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع ملا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا