کتے مارنے کا مقدمہ:’وجہ بغض نہیں موج مستی میں ہلاک کیا‘

پولیس سٹیشن میں درج مقدمے میں مدعی نے لکھا ہے کہ وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ اپنے پالتو جانور سے کھیتوں میں کھیل رہے تھے کہ ملزمان میں سے ایک نے اپنی پستول سے ان کے پالتو کتے پر بہ ارادہ قتل فائر کیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔

کتے کے پوسٹ مارٹم کے لیے نمونے  ویٹرنری ہسپتال بجھوائے گئے ہیں جس کی رپورٹ آنے کا انتظار ہے۔  (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

خیبرپختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں پولیس نےایک مقامی شخص کے پالتو کتے کو مارنے کے الزام میں دو افراد پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔

 یہ واقعہ  پشاور کے متنی پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا ہے۔ 

متنی پولیس سٹیشن کے اہلکار کلیم اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مدعی شاہ رحمٰن کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے۔

’ملزمان اور مدعی کے مابین راضی نامہ ہوچکا ہے لیکن ملزمان کو کل (منگل) کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور عدالت اس حوالے سے فیصلہ کرے گی۔’

کلیم نے مزید بتایا کہ اس واقعے میں کسی کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور ملزمان نےضمانت قبل ازگرفتاری کے لیے درخواست دی ہے ۔

ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 429 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 429 جانوروں کو مارنے، زہر دینے یا اس پر تشدد کرنے کے حوالے سے ہے اس دفعہ کے تحت وہ جانور جس کی قیمت 500 روپے یا اس سے زیادہ ہو تو ملزم کو 2 سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا ہوسکتی ہے اور دفعہ 34 اس جرم کے حوالے سے ہے جو مختلف ملزمان نے ایک ہی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کیے ہوں۔ 

یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟

پولیس سٹیشن میں درج مقدمے (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس ہے) میں مدعی نے لکھا ہے کہ وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ اپنے پالتو جانور سے کھیتوں میں کھیل رہے تھے کہ ملزمان میں سے ایک نے اپنی پستول سے ان کے پالتو کتے پر بہ ارادہ قتل فائر کیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقدمے میں لکھا گیا: ’وجہ عناد کوئی نہیں صرف موج مستی کی وجہ سے ملزم نے میرے پالتو کتے پر فائرنگ کی ہے اور میں پولیس سے درخواست کرتا ہوں کہ ملزمان کے خلاف کاروائی کی جائے۔‘ 

مقدمے کے مطابق کتے کے پوسٹ مارٹم کے لیے نمونے  ویٹرنری ہسپتال بجھوائے گئے ہیں جس کی رپورٹ آنے کا انتظار ہے۔

اس نوعیت کا ایک مقدمہ 2018 میں ضلع بنوں میں پولیس کی جانب سے درج کیا گیا تھا جس میں کچھ افراد نے مبینہ طور پر سیاسی انتقام لینے کے لیے ایک کتے کو ہلاک کیا تھا۔ کتے کو ہلاک کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی پھیل گئی تھی جس میں پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے میں لپٹے کتے پر تشدد ہوتے دیکھا جا سکتا تھا ۔

اسی طرح 4 جنوری 2021 کو لاہور میں علاقہ مکینوں نے ایک بیریسٹر پر کتا مارنے کے الزام پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان