بلیک سٹون اور کمانڈر: ’پاکستان کے سب سے تیز رفتار کتے‘

فیصل آباد میں ہونے والی گرے ہاؤنڈز ڈربی چیمپیئن شپ کے دوران جب ڈمی خرگوش کو ٹریک پر چھوڑا گیا تو گویا دیوقامت کتوں کے جسموں میں بجلی بھر گئی اور باکس کھلتے ہی انہوں نے اپنے شکار کا پیچھا کرتے ہوئے 275 میٹر کا فاصلہ چند سیکنڈز میں طے کرلیا۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہونے والی تین روزہ رانا منظور خاں/ رانا رستم خاں میموریل گرے ہاؤنڈز ڈربی چیمپیئن شپ میں ملک بھر سے 108 گرے ہاؤنڈز نے حصہ لیا۔ ان میں سے 54 کتے امپورٹڈ بریڈ کے تھے جب کہ کنٹری بریڈ کی کیٹیگری میں بھی 54 کتے شامل تھے۔

گرے ہاؤنڈز ڈربی ریس دیکھنے کے لیے تماشائیوں کی بڑی تعداد فائنل مقابلے شروع ہونے سے پہلے ہی میدان میں موجود تھی، جب کہ مقابلے میں حصہ لینے والے کتوں کے مالکان کی جانب سے بھی ریس کے آغاز تک اپنے اپنے کتوں کی خاطر تواضع کا سلسلہ جاری رہا۔

مقابلے کے آغاز میں جب ڈمی خرگوش کو ٹریک پر چھوڑا گیا تو گویا دیوقامت کتوں کے جسموں میں بجلی بھر گئی اور باکس کھلتے ہی انہوں نے اپنے شکار کا پیچھا کرتے ہوئے 275 میٹر کا فاصلہ چند سیکنڈز میں طے کرلیا۔  

امپورٹڈ اور کنٹری بریڈ کی الگ الگ کیٹیگری میں جیتنے والے کتوں کے فنش لائن کراس کرتے ہی ان کے مالکان نے خوشی میں بھنگڑے ڈالنے شروع کر دیے جب کہ شائقین نے بھی دل کھول کر داد دی۔

بعد ازاں دونوں کیٹیگریز میں اول، دوم اور سوم آنے والے کتوں کے مالکان میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے۔

اس ٹورنامنٹ کے آرگنائزر رانا عبدل خاں کا کہنا تھا کہ گرے ہاؤنڈ ڈربی ریس پنجاب کی دیہی ثقافت کا حصہ ہے اور اس کے انعقاد کا مقصد اس ثقافتی کھیل کو زندہ رکھنا ہے۔

’بنیادی طور پر یہ زمینداروں اور کسانوں کا بہت پرانا شوق ہے۔ پہلے لوگ کھیتوں میں شکار کرتے تھے کھلی جگہ پر، پھر کلب آ گئے۔ اس کے بعد ہم ڈمی والی ریس کرواتے ہیں، یہ باکس ڈربی ریس کہلاتی ہے۔‘

زرعی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فارمز ڈاکٹر ہارون زمان خان کہتے ہیں کہ زرعی یونیورسٹی زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ پنجاب کے ثقافتی کھیلوں گرے ہاؤنڈز ڈربی ریس، نیزہ بازی، ہارس اینڈ کیٹل شو اور کبڈی وغیرہ کے فروغ کے لیے بھی مستقل بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں گرے ہاؤنڈز ریس کا آغاز چھ سے سات سال پہلے کیا گیا تھا۔ اس ریس میں بیک وقت چھ گرے ہاؤنڈز حصہ لیتے ہیں جب کہ ریس کے لیے بنائے جانے والے ٹریک کی مجموعی لمبائی 275 میٹر ہوتی ہے۔

بقول ہارون زمان خان: ’اس وقت دنیا میں جانوروں کی جتنی بھی بریڈز ہیں ان میں گرے ہاؤنڈز کو سب سے تیز ترین بریڈ مانا جاتا ہے جو 275 میٹر کا فاصلہ تقریباً 13 سے 14 سیکنڈز میں طے کر لیتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امپورٹڈ گرے ہاؤنڈز کی کیٹیگری میں اول آنے والے کتے بلیک سٹون مائلو کے مالک چوہدری اسماعیل ظفر نے بتایا کہ پاکستان میں زیادہ تر امپورٹڈ گرے ہاؤنڈ کتے آئرلینڈ، برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا سے منگوائے جاتے ہیں۔

’اس سے پہلے جو سارے ایونٹ ہوئے ہیں ان میں سنٹورس آگے تھا اور آج الحمداللہ یہ بلیک سٹون مائلو اس سے جیتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ امپورٹڈ بریڈ کے گرے ہاؤنڈز کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ’اس تین مہینے کے سیزن میں ہم صرف کتوں کی دیکھ بھال ہی کرتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈربی ریس کی تیاری کے لیے اپنے کتوں کو خوراک میں بیف زیادہ دیتے ہیں۔ ’ڈاگ فیڈ بھی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ملٹی وٹامنز دیئے جاتے ہیں۔ ان کا وزن برقرار رکھنا پڑتا ہے، ورزش کے لیے انہیں واک کرواتے ہیں، رننگ کرواتے ہیں، سوئمنگ کرواتے ہیں، یہ کافی مشکل کام ہے۔‘

چوہدری اسماعیل کے مطابق یہ ایک مہنگا شوق ہے جس پر لاکھوں روپے اخراجات آتے ہیں لیکن وہ اپنے شوق اور بزرگوں کا نام زندہ رکھنے کی خاطر یہ اخراجات برداشت کرتے ہیں۔

کنٹری بریڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کتے کمانڈر کے مالک جاوید سرور خان نے بتایا کہ ان کا کتا پہلے بھلوال ریس بھی جیت چکا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’اس کی ماں ہم نے آئرلینڈ سے منگوائی تھی 3500 پاؤنڈز میں، اس کے دو بھائی ادھر بہت بڑی ڈربیز میں دوڑتے رہے ہیں۔‘

جاوید سرور کے مطابق ان کے ایک دوست مبشر بھٹی نے اس کتے کو 20 دن کا لے کر پالا ہے۔ ’یہ کنٹری بریڈ ہے اور یہیں پلا ہے۔ اس کو گوشت، وٹامنز، دودھ، دہی، مکھن اور گھی دیتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا