مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی کی طرف جھکاؤ ’فطری‘ ہے: ریحام خان

سیاست میں انٹری  کے عندیے اور پنجابی فلم کے ہیرو کی تلاش کے ساتھ ساتھ انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ریحام خان نے یہ بھی بتایا کہ وہ ’رشتے کروانے‘ کا کام بھی کررہی ہیں۔

پاکستانیوں کی اکثریت ریحام خان کو وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ کی حیثیت سے جانتی ہے اور تاحال انہیں اسی حیثیت میں پرکھا جاتا ہے مگر ریحام خان سے دو بدو ملاقات کا اتفاق ہو تو ان کی شخصیت میں بے باکی، ہمہ گیریت اور لگن کے پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ریحام خان نے پاکستان واپسی کے بعد روزمرہ مصروفیات، شاپنگ اور عزیز و اقارب سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ایک مصروفیت ’رشتے کروانا‘ بھی گنوا ڈالی۔

سیاسیت کے فرنٹ پر جہاں وہ مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی کی طرف اپنے جھکاؤ کو ’فطری‘ قرار دیتی ہیں، وہیں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اپنا شمولیت برقرار رکھتے ہوئے پنجابی فلم بنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ایک طرف ریحام موسیقی کے میدان میں اترنے والی ہیں، وہیں وہ اداکاری کو بھی ’ناں‘ کہنے کو تیار نہیں۔

تو ریحام خان ہیں کون؟

اس کا جواب انہوں نے کچھ یوں دیا: ’کسی بھی شخص کو ایک ڈبے میں بند نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے بہت چھوٹی عمر میں بہت سے کردار نبھائے ہیں۔ جس عمر میں لوگ سکول جاتے ہیں، اس عمر میں، میں ماں بن گئی۔ جس عمر میں لوگ یونیورسٹی چھوڑ کر شادی کرتے ہیں، اس عمر میں، میں نے دوبارہ یونیورسٹی جوائن کی۔ جس عمر میں لوگ سیٹل ہو جاتے ہیں، اس عمر میں، میں نے دوبارہ کام کرنا شروع کیا۔ میں روایتی مجبوریوں کو نہیں مانتی۔‘

روایات میں ریحام خان پنجابی روایات سے خاصی متاثر دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں ایک پنجابی روح ہے، جب بھی میں بھنگڑا یا ڈھول کی آواز سنتی ہوں یا صوفیانہ کلام سنتی ہوں۔ میں آلو کے پراٹھے کی تلاش میں نکلتی ہوں۔ مجھ میں تھوڑا سا پنجابی پن ہے۔ میری والدہ کہتی تھیں کہ تم تھوڑی سی سردارنی بھی ہو۔‘

لیکن انہیں تشویش ہے کہ ’ہمارا ایک شہری طبقہ بن گیا ہے، جو پنجابی بولتے ہوئے شرماتا ہے۔‘

یہ تشویش ریحام کو اس وقت لاحق ہوئی جب وہ ایک پنجابی فلم بنانے کے لیے ہیرو کی تلاش میں نکلیں۔ زندگی کا بڑا حصہ برطانیہ میں گزارنے والی ریحام خان نے بظاہر وہاں اور کینیڈا میں بولی جانے والی پنجابی کو اپنا پیمانہ بنایا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’ہمارے ایک بھائی صاحب ہیں سردار برادری سے، ان کا پلاٹ ہے۔ اسی کہانی کو میں نے تھوڑا سا وسیع کیا ہے۔ اس کا پیغام بہت روحانی ہے اور عشق کے بارے میں ہے کہ کس طرح لوگ اپنا عشق تلاش کرتے ہیں۔ میں پنجابی ثقافت اور شناخت کو پذیرائی دینے کے لیے فلم بنا رہی ہوں۔‘

اس فلم کا سکرپٹ تیار ہے مگر کاسٹنگ شروع نہیں ہو پا رہی کیونکہ انہیں ’ایک ایسے ہیرو کی تلاش ہے اور دِقّت ہو رہی ہے ایک ایسا ایکٹر (ملنے میں) جو گبھرو جوان بھی ہو اور بڑی ٹھیٹ قسم کی، گاؤں والی، دیہاتی پنجابی بولے۔ مزے لے کر پنجابی بولے۔ ہم اس قسم کا دلچسپ کردار ڈھونڈ رہے ہیں اور کاسٹنگ رکی ہوئی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس فلم پر کام شروع کرنے کے لیے انہوں نے 2016 کے بعد تین سال تک پنجابی ثقافت اور زبان پر تحقیق شروع کی، خاص طور پر اس وقت جب ان کی پہلی فیچر فلم ’جانان‘ کے بعد لوگوں نے شکایت کی کہ وہ ہمیشہ پشتونوں کی بات کرتی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستانی سیاست پر فلم بنانے کا کیوں نہیں سوچا؟ تو ریحام نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا: ’پاکستانی سیاست تو خود ایک بہت بڑی فلم ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستانی سیاستدان تو خود ایک بہت بڑی فلم ہیں۔ ان پر کیا فلم بنے گی۔ میرا خیال ہے کہ ریلیف ہی دینا چاہیے پاکستانیوں کو۔‘

ریحام کو فلم بنانے کا تو شوق ہے لیکن انہیں خود اداکاری کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ انہوں نے بتایا: ’اداکاری کی آفرز پہلے بھی بہت آتی تھیں، اب بھی آتی ہیں۔ اداکاری کرکے مجھے لگے گا لیکن لوگ پتہ نہیں اس پر کیسا ردعمل دیں گے۔ ان کو میری ٹویٹس برداشت نہیں ہیں اور ریحام خان اداکاری شروع کر دے تو پتہ نہیں کتنا بڑا زلزلہ آ جائے گا۔‘

بقول ریحام انہیں گلوکاری کا زیادہ شوق رہا ہے اور اب بیٹے کی خواہش پر وہ موسیقی کی دنیا میں اسی سال قدم رکھنے والی ہیں۔

’پارلیمانی نظام کی حامی‘

ریحام خان باضابطہ طور پر سیاسی منظرنامے پر بھی ابھرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں ان کی مصروفیات میں سیاسی ملاقاتیں بھی شامل ہیں، تاہم وہ الیکشن کہاں سے اور کس پارٹی کی طرف سے لڑیں گی، اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر پائیں۔ وہ خود پارلیمانی نظام کی حامی ہیں۔

ان کا تعلق مانسہرہ سے ہے، جہاں جمیعت علمائے اسلام (ف) کو مقبولیت حاصل ہے، اسی لیے مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی کی جانب اپنے جھکاؤ کو ’فطری‘ کہتی ہیں۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پشاور میں اسی پارٹی کے حاجی زبیر علی کے میئر کی نشست پر انتخاب کے بارے میں انہوں نے کہا: ’پشاور کے لیے ان سے بہتر کوئی انتخاب ہو نہیں سکتا تھا۔‘

ریحام کے مطابق جو موقف پچھلے تین سالوں میں مولانا فضل الرحمٰن یا نواز شریف کا رہا ہے، وہ چیزیں ایسی ہیں  کہجنہیں وہ سپورٹ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’دیکھیں گے کہ کون تھوڑا بہت دکھائی دیتا ہے کہ نظریات پر کھڑے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ یہ میرے لیے بہت اہم ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ خیبرپختونخوا ہی سے اپنی سیاست کا آغاز کرنا چاہیں گی لیکن کسی بھی پارٹی میں شمولیت سے پہلے اپنے حلقۂ احباب کے مشورے کے بعد فیصلہ کریں گی۔

’سیلفیاں اور رشتہ آنٹی‘

سیاسی ملاقاتوں، مشوروں اور پنجابی فلم کے ہیرو کی تلاش کے علاوہ ریحام خان سیلفیوں کی فرمائشوں سے بھی نمٹ رہی ہیں۔

ان کے بقول: ’اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ سیلفی لینی ہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ سیلفی سے کیا کرو گے؟ وہ کہتے جی میرے سسر نہیں مان رہے۔ ساس نہیں مان رہیں۔ آپ کے ساتھ سیلفی آئے گی تو میرے رشتے کے لیے ہاں ہو جائے گی۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس میں کس حد تک حقیقت ہے اور کیا وہ رشتے پکے بھی ہو جاتے ہیں لیکن میں نے ہمیشہ لوگوں کی مدد کرنے کی خواہش رکھی ہے۔ رشتہ کروانے کا کام میرا خیال ہے ہر ذمہ دار آنٹی کو کرنا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین