لندن: الطاف حسین کے خلاف مقدمے کا فیصلہ اگلے ہفتے متوقع

بانی ایم کیو ایم پر عائد کی جانے والی فرد جرم کو دو علیحدہ حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا لیکن دونوں کا تعلق ’دہشت گردی کی حوصلہ افزائی‘ سے متعلق جرائم سے تھا، جو مقدمے کی بنیاد تھے۔

خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کنگسٹن کراؤن کورٹ میں 31 جنوری 2022 کو اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر عدالت جا رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کے خلاف گذشتہ دو ہفتوں سے لندن کی عدالت میں زیر سماعت ’دہشت گردی کی حوصلہ افزائی‘ کے مقدمے میں دلائل جمعے کے روز مکمل ہوگئے اور اس کا فیصلہ اگلے ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان کے انگریزی روزنامے ڈان کے مطابق لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ کی جیوری یہ فیصلہ سنائے گی کہ آیا ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو دہشت گردی کے الزام میں مجرم قرار دیا جائے یا بری کردیا جائے۔

الطاف حسین پر عائد کی جانے والی فرد جرم کو دو علیحدہ حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا لیکن دونوں کا تعلق ’دہشت گردی کی حوصلہ افزائی‘ سے متعلق جرائم سے تھا، جو مقدمے کی بنیاد تھے۔

جسٹس مے کی طرف سے ججوں کو دی گئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ فرد جرم کے دونوں حصے میں فیصلے ایک جیسے ہو سکتے ہیں لیکن ایسا ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگرچہ ابتدائی طور پر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ الطاف حسین فرد جرم کو تقسیم کرنے کے خلاف موقف اختیار کریں گے لیکن ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جسٹس مے نے کہا کہ الطاف حسین کا فیصلہ ان کا حق ہے اور جیوری اس نتیجے پر پہنچ سکتی ہے کہ انہوں نے مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی تقاریر میں تضاد سے متعلق شواہد نہیں دیے۔

انہوں نے کہا: ’آپ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ الطاف حسین کے پاس استغاثہ کے کیس کا کوئی جواب نہیں تھا لیکن آپ انہیں خاموش رہنے پر مجرم قرار نہیں دے سکتے کیوں کہ استغاثہ کو اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے جرم ثابت کرنا ہوگا۔‘

استغاثہ نے موقع غنیمت جان کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ الطاف حسین نے اپنی بے گناہی کا ’جواب نہیں دیا، معافی نہیں مانگی اور وضاحت نہیں کی‘ اور نہ ہی واضح سوالات کے جوابات دیے۔

اس کی ایک وجہ ہے: ’ان (الطاف حسین) کے پاس کوئی جواب نہیں ہے یا کم از کم ایک ایسا جواب نہیں ہے جسے وہ دے سکیں، لیکن انہیں جواز تو پیش کرنا پڑے گا۔‘

تاہم وکیل دفاع نے کہا کہ حسین کے پاس مزید اضافہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

وکیل دفاع نے کہا کہ تقاریر کے بعد الطاف حسین کی ٹوئٹر پر معافی سے جو کچھ ہوا اس پر ان کا افسوس ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہر طرح کی وجوہات کی بنا پر معافی مانگتے ہیں لیکن اسے غلطی کا اعتراف نہ سمجھا جائے۔

جسٹس مے کی طرف سے جیوری کو دی گئی ہدایات کے مطابق الطاف حسین کو مجرم قرار دینے کے لیے جیوری کو اس بات کا اطمینان کرنا ہوگا کہ انہوں نے ایک تقریر شائع کی تھی اور ان کے بیانات کو سننے والا معقول شخص یہ سمجھے گا کہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور الطاف حسین نے یا تو اس بات کا ارادہ کیا تھا یا پھر وہ لاپرواہ تھے کہ ان کی نشر کی جانے والی تقاریر کو سننے کے بعد عوام کو تشدد کی کارروائیوں کی ترغیب ملے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جج نے کہا کہ استغاثہ کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئیں حالانکہ یہ ان کا مدعا ہے۔

ججوں کو بتایا گیا کہ انہیں نیت اور لاپرواہی کے معنی کا تعین کرنا ہے۔ ایک جج نے کہا کہ ’الطاف حسین لاپرواہ تھے، اگرچہ وہ تشدد کے خطرے سے واقف تھے لیکن غیر معقول طور پر اسی پر ڈٹے رہے۔‘

دہشت گردی کے عمل پر غور کرتے ہوئے جج نے کہا کہ جیوری کو کارروائیوں کی قسم، اس کی اشکال اور مقاصد پر غور کرنا چاہیے۔

مجرم قرار دینے کے لیے جیوری کو اس بات پر قائل ہونا چاہیے کہ قطع نظر اس کے کہ وجہ جائز تھی، کیا یہ عمل مذہبی، سیاسی، نظریاتی یا نسلی مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا؟

ججوں کے سامنے اپنے حتمی بیان میں، استغاثہ نے کہا کہ ’دہشت گردی‘ کا لفظ اگرچہ عام آدمی کے لیے اخلاقیات پر بحث کے لیے ہو سکتا ہے لیکن اس عدالت کو انگریزی قانون کے ذریعے پارلیمنٹ کے طے کردہ ’یارڈ سٹک‘ کے خلاف دیکھا جانا چاہیے۔

استغاثہ نے اس بات پر زور دیا کہ الطاف حسین نے اپنے پیروکاروں سے جو کچھ کہا اور جس کا حکم دیا وہ دہشت گردی کی کارروائیاں تھیں جو حکومت پر اثر انداز ہونے کے لیے سیاسی مقاصد کے لیے کی گئی تھیں۔

استغاثہ کے مطابق الطاف حسین نے تشدد کی حوصلہ افزائی کے لیے اس بہترین نقطے کا استعمال کیا اور یہ کہ ’پورا لہجہ، مواد اور طریقہ استعمال کیا گیا تھا تاکہ ہجوم کو کچھ کرنے پر اکسایا جا سکے۔‘

انہوں نے جرح کے دوران کہا کہ اس سب کا مقصد ہجوم کو ٹی وی سٹیشنز پر ’توڑ پھوڑ‘ کے لیے ایک زبردست قوت کے ساتھ تعینات کرنا تھا اور اس میں موت اور زخموں پر بھی غور کیا گیا۔

’وہ اپنے پیروکاروں کی عقیدت اور وفاداری کو جانتے تھے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے انہیں کسی الاسٹک سے پکڑ کر کھینچا جائے اور دور پھینک دیا جائے اور بعد میں وہ واپس اپنی جگہ آجائیں۔

دفاع نے اپنے کیس کو مختلف یارڈ سٹکس کی بنیاد پر پیش کیا، جس کے ذریعے جیوری کو شواہد کا جائزہ لینا چاہیے۔ دفاعی وکیل نے ’انگلینڈ اور ویلز اور پاکستان میں حقائق کے درمیان فرق‘ پر زور دیا۔

آخر میں، دفاع نے عدالت کے سامنے عرض کیا کہ الطاف حسین اپنی تقریروں سے کسی سنگین تشدد کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور یہ کہ وہ ان لوگوں کے لیے اہم کردار بننا چاہتے تھے جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔

22 اگست 2016 کو کیا ہوا تھا؟

الطاف حسین نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 22 اگست 2016 کو کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود پارٹی کے کارکنان سے لندن سے ٹیلیفون کے ذریعے کیے جانے والے اپنے خطاب میں ’پاکستان مخالف تقریر‘ کی تھی جس کے بعد پاکستان میں ان کی تقاریر پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

ان کی تقریر کے بعد مشتعل ہجوم نے ٹی وی چینلز کا رخ کیا تھا اور وہاں داخل ہوکر توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔

اس واقعے کے بعد ان کی اپنی جماعت ایم کیو ایم پاکستان نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا