بلوچستان کو جذباتی عناصر سے دور رکھنے کی ضرورت

بلوچستان کو جذباتی، جوشیلے اور معاملات کو بگاڑنے والے عناصر کے ہاتھوں سے چھیننے کی ضرورت ہے تاکہ مزید خون خرابہ روکا جا سکے اور اس مسئلے کا ایک پر امن حل تلاش کیا جا سکے۔

تین فروری، 2022 کو نوشکی میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے کے بعد سکیورٹی اہلکار تباہ حال چیک پوسٹ کے قریب کھڑے ہیں (اے ایف پی)

بلوچستان کے اضلاع نوشکی اور پنجگور میں پچھلے دنوں ایف سی کے دفاتر پر حملے اس لیے توجہ طلب ہیں کہ صوبے میں جاری شورش کی 20 سالہ  تاریخ میں اتنی شدید اور کئی دنوں پر محیط حملوں کی مثال نہیں ملتی۔

چار روز تک کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پنجگور میں ایف سی کیمپ پر حملہ جاری رکھا۔ قومی ذرائع ابلاغ ایک مرتبہ پھر بلوچستان سے متعلق ایک بڑی خبر کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار رہا۔

عوام کو صرف اتنا پتہ چلا کہ بلوچستان میں کچھ گڑھ بڑھ چل رہی ہے لیکن لوگوں کو اس سے زیادہ ان واقعات کی حقیقت اور شدت کے بارے میں اس طرح اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا جس طرح باقی بریکنگ نیوز کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔

ایک سوال جو سب کے ذہنوں میں گردش کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ بی ایل اے اتنی طاقت ور کیسے بن گئی؟ کیا ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ممکنہ حملوں سے متعلق قبل از وقت معلومات اکھٹا کرنے کے ذمہ دار خفیہ ادارے اتنے کمزور ہو گئے ہیں یا اپنے مخالفین کو اتنا کمزور سمجھ رہے تھے کہ اتنا بڑا حملہ ان کے وہم و گمان میں نہیں تھا؟

لیکن ایک سوال جو کسی نے نہیں پوچھا وہ یہ تھا کہ بی ایل اے پنجگور کیسے پہنچی کیوں کہ پاکستان ۔ ایران سرحد پر واقع اس ضلعے اور باقی ماندہ مکران ڈویژن میں تو صرف بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے) ماضی قریب میں متحرک رہی ہیں۔

اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہے کہ بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں مسلسل خود کو ری سٹرکچر کر رہی ہیں۔ یہ بلوچ تحریک کا پہلا موقع ہے کہ ناصرف بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے کے قائدین کے نام لوگوں کو پتہ ہیں بلکہ متوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ان رہنماؤں کا تعلق بھی بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) یا دیگر قوم پرست جماعتوں کے طلبہ ونگ (مثلاً بلوچ ری پبلکن سٹوڈنٹس آرگنائزیشن) سے رہا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ ان کا پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں سے جتنا واسطہ اور رابطہ ہے اتنا ماضی میں کسی بلوچ سردار یا نواب کا بھی نہیں رہا۔

ماضی میں صرف یہ قیاس آرائیاں کی جاتی تھیں کہ لندن میں مقیم حیربیار مری مبینہ طور پر بی ایل اے کی قیادت کر رہے ہیں یا براہم داغ بگٹی بی آر اے کے سربراہ ہیں۔

جہاں بلوچ قبائلی گھرانوں کے یہ چشم و چراغ بار بار ان ’الزامات‘ کی تردید کرتے تھے کہ ان کا ان تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں، وہاں متوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے والی نئی قیادت عادتاً بھی مختلف لگتی ہے۔

انہیں بظاہر پبلسٹی یا دکھاوے کا بڑا شوق ہے۔ وہ ان تنظیموں سے وابستگی کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں۔ میڈیا کو انٹریو دیتے ہیں، سوشل میڈیا پر اپنا پیغام پوسٹ کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بی ایل اے اور دیگر مسلح تنظیموں کی کارروائیوں میں بڑا کلچرل اور سٹراٹیجک شفٹ آیا ہے۔

ماضی میں بی ایل اے انڈر گراؤنڈ رہی ہے اور اس کا موقف صرف ایک ترجمان کے ذریعے سامنے آتا تھا جو ایک فرضی نام استعمال کر کے میڈیا سے رابطہ کرتا تھا۔

بلوچ سیاسی معاشرے میں بی ایس او کے چیئرمین کا بہت بڑا اور بااثر کردار ہوتا ہے۔ وہ تحریک کا علمی و نظریاتی پاور ہاؤس ہوتا ہے، سٹڈی سرکل منعقد کرتا ہے، نوجوانوں کو انقلابی کتابیں تجویز کرتا ہے۔

مرحوم سینیٹر حبیب جالب ہوں یا شعلہ بیان ثنا اللہ بلوچ سب بی ایس او کی پیداوار ہیں لیکن بی ایس او کے دو سابق چیئرمین ڈاکٹر اللہ نظر اور بشیر زیب کے مسلح تحریک میں شامل ہونے سے بلوچستان کی سیاست کے ایک ایسے نئے باب کا آغاز ہوا جس میں اب بلوچ نوجوانوں کو پرتشدد کارروائیوں کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔

حالیہ واقعات کے بعد بشیر زیب نے، جو اب بی ایل اے کے کمانڈر ہیں، ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ دشمن کو بلوچستان سے گھسیٹ کر نکل دیں۔

چند سال قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بی ایس او کا ایک سابق چیئرمین تشدد کی اس حد تک غیر معذرت خواہانہ انداز میں حمایت اور وکالت کرسکتا ہے۔

تاہم بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے اور اس کے حل سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آج کا جو بلوچ میدان میں ہے وہ غوث بخش بزنجو یا عطااللہ مینگل کی پرامن سیاست سے کوسوں دور ہے اور یہ نیک شگون نہیں۔

بلوچستان میں شورش نے اپنا رنگ ایک بار پھر بدل دیا ہے۔ مستقبل قریب میں دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں حملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بی ایل اے نے مجید بریگیڈ کے نام سے جو خودکش مشن کا آغاز کیا ہے وہ بلوچ نوجوانوں کے لیے ایک تباہ کن راستہ ہے اور قیادت کی تنگ وژن کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے بدستور ان غلط طریقوں پر عمل پیرا ہو رہے ہیں جو تحریک طالبان نے اپنائے تھے۔

بلوچ قوم پرستوں کا یہ حلقہ خود کش حملوں کے تو کافی عرصے سے حق میں رہا لیکن انہیں ڈر صرف اس بات کا تھا کہ کہیں انہیں مغرب میں مذہبی شدت پسند کے طور پر نہ پہچانا جائے یا پاکستان میں انہیں تحریک طالبان کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

کافی سوچ بچار کے بعد بلوچ تنظیمیں اس بات پر قائل نظر آئیں کہ فدائی حملوں سے وہ اپنے مقاصد بہتر طریقے سے حاصل کرسکتی ہیں اور جہاں تک ان کے بارے میں دنیا کی رائے کا تعلق ہے تو وہ یہ کہہ کر اپنے اوپر مذہبی ہونے کا لیبل ہٹا سکتے ہیں کہ سری لنکا میں تمل ٹائیگرز بھی سیکولر ہونے کے باوجود خود کش حملے کرتے تھے۔ 

پچھلے ہفتے ہونے والے واقعات میں فوجی اور بلوچ جنگجو نوجوانوں کی لاشوں کی تصاویر دیکھ کر دل خاصا رنجیدہ ہوا کیونکہ ہم اپنی نئی نسل کو تشدد سے دور رکھنے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔

ان نوجوانوں کو ملکی اور غیرملکی جامعات میں ہونا چاہیے تھا۔ یہ ان کے پڑھنے کے دن تھے، لیکن یقیناً بڑوں کی عاقبت نااندیش وژن کی وجہ سے ہمارے نوجوان قوم پرستی یا حب الوطنی کے نام پر خودکش مشن پر روانہ ہو رہے ہیں۔

ایسا نہیں کہ بلوچستان میں کئی پڑھے لکھے لوگ اس سوچ کے حق میں نہیں لیکن بدقسمتی سے جہاں بندوق کا راج ہو وہاں معاشرے کے پڑھے لکھے لوگ خاموشی اختیار کرنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ خودکش کارروائیوں کی حمایت یا ان کے لیے جواز ڈھونڈنے کا نقصان یہ ہے کہ اس سے بلوچ نوجوان مزید شدت پسند بنیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی عمر، تجربہ اور وژن اتنا نہیں کہ وہ قوم پرستانہ پروپیگینڈے سے بچ سکیں۔ معتدل موقف رکھنے والے سیاست دانوں، صحافیوں، دانش وروں اور علما کرام کو چاہیے کہ وہ خوش کش یا فدائی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

اگر اس سلسلے کو اسی وقت روکا نہیں گیا تو یہ پالیسی خودبخود بلوچ معاشرے کو کھا جائے گی۔ 

علاوہ ازیں، حیرت ہے کہ ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر تشدد اور لاشوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ایک عجیب لذت محسوس کرتے ہیں۔

ہم اتنا بے حس کب تھے؟ ہم ایسا کیسے بن گئے؟ کچھ لوگوں کے لیے ہلاکتیں، ہلاک شدگان کی تصاویر محض ایک ٹویٹ یا سوشل میڈیا پوسٹ ہیں جو وہ واہ واہ، ’شہادت مبارک‘ یا ’تمہارا لہو رائیگان نہیں جائے گا‘ کہہ کر لگاتے ہیں لیکن ان نوجوانوں کی ماؤں کے لیے یہ کسی قیامت سے کم تر نہیں۔

ملک کے جو ’بڑے‘ (سیاست دان، وکلا، صحافی، انسانی حقوق کے علم بردار) ہیں، جو جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کے حق میں ہیں، وہ آگے بڑھیں، بلوچستان میں بڑھتی ہوئے درجہ حرارت کو کم کرنے میں فوری طور پر اپنا کردار ادا کریں۔

فوجی نوجوان ہوں یا وہ بلوچ جنہوں نے اپنی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے یا سرزمین کی دفاع کے لیے مسلح ہونے کا فیصلہ کیا، سب کی زندگیوں کو بچانا ملک کے بڑے اور ذمہ دار لوگوں کا فرض ہے۔

اس معاملے کو جذباتی، جوشیلے اور معاملات کو بگاڑنے والے عناصر کے ہاتھوں سے چھیننے کی ضرورت ہے تاکہ مزید خون خرابہ روکا جا سکے اور بلوچستان کے مسئلے کا ایک پر امن حل تلاش کیا جاسکے۔


نوٹ: یہ مضمون لکھاری کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ