جوہری مذاکرات ’حتمی مرحلے‘ میں ہیں: امریکہ اور ایران

ایران نے امریکی کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ ’سیاسی بیان‘ جاری کرے جس سے اندازہ ہو کہ واشنگٹن ڈیل کی بحالی کے لیے ویانا مذاکرات میں ممکنہ معاہدے کے لیے پرعزم ہے۔

ایرانی صدر کے دفتر سے 10 اپریل 2021 کو جاری کی جانے والی تصویر میں ایک انجینئر نتنز یورینیم انرچمنٹ پلانٹ میں ایک ویڈیو کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ (ایرانی صدارتی دفتر / اے ایف پی)

امریکہ اور ایران نے کہا ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے بالواسطہ بات چیت ’حتمی مراحل‘ میں داخل ہو چکی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’یہ حقیقتاً وہ فیصلہ کن گھڑی ہے، جس کے دوران ہم یہ تعین کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ آیا جوائنٹ کمپری ہینسیو پلین آف ایکشن (جے سی پی او اے) کی تعمیل میں باہمی واپسی کا آغاز ہو رہا ہے یا ایسا نہیں ہے۔‘

دوسری جانب ایران کے سرکردہ جوہری مذاکرات کار علی باقری کنی نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’ہفتوں سے جاری سنجیدہ بات چیت کے بعد ہم ایک معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ جب تک ہر چیز پر اتفاق نہیں ہو جاتا تب تک کسی چیز پر اتفاق نہیں ہوتا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے مغربی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ ’وہ حقیقت پسند بنیں، ہٹ دھرمی سے گریز کریں اور گذشتہ چار سال سے حاصل ہونے والے سبق سے سیکھنے کی کوشش کریں۔ یہ ان کے سنجیدہ فیصلوں کا وقت ہے۔‘

عالمی طاقتیں ویانا میں ایران کے ساتھ بات چیت کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں، جس کا مقصد 2015 کے معاہدے کو بحال کرنا ہے جس سے 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے یک طرفہ طور پر امریکہ کو نکال کر ایران کے خلاف دوبارہ سخت ترین پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اس سے قبل بدھ ہی کو فرانس نے کہا ہے کہ تہران کے پاس معاہدے کو قبول کرنے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں۔ ساتھ ہی اس نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایک بڑا بحران جنم لے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ جین ییوس لی ڈرین نے سینیٹ کو بتایا کہ ’یہ ہفتوں کی نہیں بلکہ دنوں کی بات ہے اور یہ کہ مذاکراتی عمل میں اب ’سچائی کا لمحہ‘ آن پہنچا ہے۔ ایرانیوں کو سیاسی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے پاس بہت واضح انتخاب ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’یا تو وہ (ایرانی) آنے والے دنوں میں ایک سنگین بحران کو جنم دیں گے یا وہ ایک ایسا معاہدہ قبول کر لیں گے جو تمام فریقین خصوصاً تہران کے مفادات کا تحفظ کرے۔‘

لیکن انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے کیونکہ ایران 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی جوہری سرگرمیاں تیز کر رہا ہے، جس کا مقصد یہ تحفظ فراہم کرنا تھا کہ تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ جتنی زیادہ تاخیر ہوتی جا رہی ہے اتنا ہی ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو تیز کرتا جا رہا ہے۔

مذاکرات میں چین کے نمائندے نے کہا کہ ’ایران امریکی نقطہ نظر کے جواب میں تمام آپشنز میز پر رکھ کر تعمیری کام کر رہا ہے۔‘

چینی مذاکرات کار نے روئٹرز کو بتایا کہ ’انہوں (ایران) نے نہ صرف یہ سیدھا طریقہ اپنایا ہے بلکہ ’کچھ دو اور کچھ لو‘ کی بنیاد پر سیاسی فیصلہ بھی کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دریں اثنا ایران نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ ’سیاسی بیان‘ جاری کرے جس سے اندازہ ہو کہ واشنگٹن ڈیل کی بحالی کے لیے ویانا مذاکرات میں ممکنہ معاہدے کے لیے پرعزم ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنی وزارت کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے فنانشل ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں جے سی پی او اے پر امریکہ کی جانب سے ضمانت فراہم کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اصولی طور پر ایران میں رائے عامہ کسی سربراہ مملکت کے خالی الفاظ کو ضمانت کے طور پر قبول نہیں کر سکتی۔‘

ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں سے کہا ہے کہ وہ مغربی فریقین کو یہ تجویز پیش کریں کہ ’کم از کم ان کی پارلیمنٹ یا پارلیمنٹ کے سپیکر، بشمول امریکی کانگریس، سیاسی بیان کی صورت میں معاہدے سے اپنی وابستگی کا اعلان کر سکتے ہیں اور جوہری معاہدے پر عمل درآمد کی طرف واپس آ سکتے ہیں۔ ایران کا مطالبہ ریاضی کے فارمولے کی طرح واضح ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ بالکل واضح ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور ان اقدامات کی تصدیق کیسے کی جائے گی، لیکن ہم بنیادی طور پر امریکی طرف سے ضمانتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اس عرصے کے دوران مسائل کا سامنا ہے کیونکہ دوسرے فریق کے پاس سنجیدہ اقدام کا فقدان ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر واشنگٹن کے ارادے ’حقیقی‘ ہیں تو انہیں براہ راست بات چیت اور رابطے ہونے سے پہلے کچھ ’عملی اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا