بھارت: امریکی خاتون کے جسم سے تین ’زندہ مکھیاں‘ برآمد

نئی دہلی کے فورٹس ہسپتال کے مطابق 32 سالہ خاتون کے جسم سے تقریباً دو سینٹی میٹر سائز کی تین زندہ بوٹ فلائیز  (جانوروں کی جلد میں رہنے والی مکھی کے لاروے)کو نکال لیا گیا۔

امریکی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن  کے مطابق یہ مرض انسانی ٹشوز میں ایک مکھی کے لارووں  کا انفیکشن ہے (فوٹو:  وائرڈ/ یوٹیوب)

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے ایک ہسپتال نے حال ہی میں ایمازون کے جنگلات کا دورہ کرنے والی ایک امریکی خاتون کی آنکھ سے تین زندہ بوٹ فلائیز (جانوروں کی جلد میں رہنے والی مکھی کا لاروا) نکالنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ہسپتال کے حکام نے پیر کو میڈیا کو بتایا کہ ’32 سالہ خاتون کے جسم سے تقریباً دو سینٹی میٹر سائز کی تین زندہ بوٹ فلائیز کو نکال دیا گیا۔‘

جنوبی دہلی کے علاقے وسنت کنج میں واقع فورٹس ہسپتال نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی خاتون میں میاسس نامی مرض کی تشخیص ہوئی تھی، جو بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے۔

امریکی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی) کے مطابق یہ مرض انسانی ٹشوز میں ایک مکھی کے لاروؤں کا انفیکشن ہے۔

سی ڈی سی کے مطابق یہ مرض گرم مرطوب اور ان جیسے ذیلی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

سینٹر کے مطابق: ’لوگوں کو عام طور پر انفیکشن اس وقت ہوتا ہے جب وہ افریقہ اور جنوبی امریکہ کے گرم اور مرطوب علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو کھلے زخموں اور اس کے علاج کے بغیر سفر کرتے ہیں، ان میں یہ انفیکشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر علاج نہ کیا جائے تو مکھی کا یہ لاروا ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور غیر معمولی صورتوں میں اس سے گردن توڑ بخار اور موت بھی ہوسکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق 32 سالہ امریکی خاتون اپنی دائیں آنکھ کے اوپر درد اور سوجن کی شکایت لے کر ہسپتال پہنچی تھیں۔

ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ خاتون گذشتہ چند ہفتوں سے اپنی دائیں آنکھ کے اندر کچھ حرکت محسوس کر رہی تھیں۔

ہسپتال کی طرف سے جاری کی گئی سرکاری پریس ریلیز میں خاتون، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا: ’میں ایمازون کے جنگل میں گئی تھی اور جب واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ میری دائیں آنکھ کے اوپری حصے پر کسی کیڑے نے کاٹا ہوا تھا۔ یہ زخم بڑھنے لگا اور اس سے خون بہنے لگا۔ میں نے سوچا کہ شایہد کسی زہریلی مکڑی نے کاٹا ہوگا۔ کاٹنے والی جگہ کے درمیان ایک چھوٹا سا سوراخ تھا، جہاں سے میں نے کچھ نکلتا ہوا دیکھا۔ امریکہ میں ڈاکٹر اسے باہر نہیں نکال سکے اور میں اس کے علاج کے لیے دہلی کے فورٹس ہسپتال آئی۔ یہاں کے ڈاکٹرز بے ہوش کیے بغیر مکھیوں کو باہر نکال سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہسپتال کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ خاتون نے پہلے امریکہ میں ڈاکٹروں سے مشورہ کیا تھا لیکن وہاں بوٹ فلائی کو نہیں نکالا جاسکا اور اس لیے انہیں بغیر کسی علاج کے فارغ کردیا گیا، تاہم انہیں سکون آور دوا دی گئی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت پہنچنے پر خاتون نے فورٹس ہسپتال وسنت کنج کا دورہ کیا، جہاں ان کے مرض کی تشخیص اور علاج کنسلٹنٹ اور فورٹس ہسپتال کے ایمرجنسی کے سربراہ ڈاکٹر محمد ندیم، ای آر فزیشن ڈاکٹر دھیرج اور سرجری کے شعبے کے ڈاکٹر نارولا ینگر نے کیا۔

ڈاکٹر ندیم نے کہا: ’یہ میاسس کا ایک بہت ہی غیرمعمولی کیس تھا۔ اس لیے ان معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔‘

ڈاکٹر ندیم نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم نے ’تین زندہ بوٹ فلائی کو نکالا جن کا سائز تقریباً ایک سینٹی میٹر ہے، ان میں سے ایک کو دائیں آنکھ کے اوپر، دوسرے کو ان کی گردن کے پچھلے حصے سے اور تیسرے کو ان کے دائیں بازو سے نکالا گیا۔‘

محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ یہ غیر معمولی سرجری 10 سے 15 منٹ میں مکمل ہو گئی تھی۔

خاتون کو بعد میں ای آر سے تجویز کردہ ادویات فراہم کرکے ڈسچارج  کر دیا گیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت