نایاب بیماری میں مبتلا لاہور کا نوجوان علاج نہ ہونے پر مایوس

شاہدرہ کے رہائشی نوجوان کے پیدائشی طور پر دو مثانے اور دو نفس ہیں، جن کے والد کو میو ہسپتال کے ڈاکٹرز نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کراچی سے علاج کرانےکامشورہ دیتے ہوئےایک خط لکھ ڈالا لیکن 27 اگست کولکھے گئےخط پر کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شاہدرہ کے رہائشی ایک 24 سالہ نوجوان نایاب بیماری ’ڈائی فیلیا‘ (Diphallia) کے شکار ہیں اور ان کے پیدائشی طور پر دو مثانے اور دو عضوِ تناسل ہیں۔

ان کے والدین کے مطابق وہ اپنے بچے کی پیدائش کے وقت سے ہی ہسپتالوں میں علاج کے لیے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔

رواں برس جون میں انڈپینڈنٹ اردو پر اس حوالے سے خبر شائع ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس لے کر نوجوان کا علاج کروانے کے لیے میو ہسپتال کے سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔

واضح رہے کہ لاہور کے ماہرینِ یورولوجی اس مرض کو قابل علاج قرار دے چکے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل نوجوان کا علاج شروع ہوا تو ان کے والد غلام رسول کافی خوش دکھائی دیے کیونکہ انہوں نے اپنے بیٹے کے علاج کے لیے نہ صرف جمع پونجی بلکہ جائیداد اور زیورات تک فروخت کر دیے تھے۔

ماہرینِ طب کے مطابق یہ مرض دنیا کے 60 سے 70 لاکھ انسانوں میں سے کسی ایک میں پایا جاتا ہے۔ اسے ڈائیفیلیا (Diphallia)  کہتے ہیں اور اس کا علاج پاکستان میں اگر کیا بھی جائے تو بڑے پیمانے پر بطور ٹیسٹ کیس مکمل طبی سہولیات اور ماہرین کی ضرورت ہے، کیونکہ ممکنہ طور پر یہ پاکستان کا پہلا ایسا کیس ہے۔

نوجوان کی شناخت ادارے کی پالیسی کے مطابق ظاہر نہیں کی جا رہی۔ ان کے والد غلام رسول کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایک نمائندے نے ان سے رابطہ کیا، جس کے بعد علاج کے لیے انہیں میڈیکل بورڈ نے بلوایا۔

مگر وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے ان سے اتنے ٹیسٹ کروائے کہ مختلف لیبارٹریوں کی فیسیں اور میڈیکل سٹورز سے مہنگی ادویات خریدنے پر بھی 50 ہزار روپے خرچ ہوگئے۔

غلام رسول نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں شدید مایوسی ہوئی ’جب ایک ماہ خوار کرنے کے بعد ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے کہا کہ وہ صرف اس صورت میں ان کا علاج کرسکتے ہیں کہ جس میں پیشاب کی تھیلی ایک طرف اور پاخانے کی تھیلی دوسری طرف نکال دی جائے گی اور پوری عمر ایسے ہی گزرے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’یہ علاج نہ کرنے کا بہانہ تھا کیونکہ دنیا بھر میں اس مرض کا علاج ہو رہا ہے تو یہاں کیوں نہیں اور اگر علاج ممکن نہیں تھا تو پہلے ہی بتا دیا جاتا۔‘

غلام رسول نے بتایا کہ میو ہسپتال کے ڈاکٹرز نے انہیں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کراچی سے علاج کروانے کا مشورہ دیا اور خط بھی لکھ دیا، لیکن 27 اگست کو لکھے گئے اس خط پر بھی کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا: ’جب وزیراعلیٰ پنجاب کے نمائندے سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی حکومت کچھ نہیں کرسکتی، صرف خط لکھ سکتی ہے اور وہ لکھ دیا گیا ہے۔‘

غلام رسول نے کہا کہ وہ اور ان کا بیٹا بالکل ہی مایوس ہوچکے ہیں اور امید ہار گئے ہیں کہ شاید اب ان کے بیٹے کا علاج نہیں ہوسکتا اور وہ بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ’اتنے پیسے نہیں کہ کراچی یا کسی دوسرے ملک جاکر علاج کروا سکیں۔‘

انہوں نے سوال کیا: ’کیا صرف معروف لوگوں کو ہی بیرون ملک علاج کا حق ہے؟ عام آدمی کو حکومت علاج کی ایسی سہولت کیوں فراہم نہیں کر سکتی؟‘

دوسری جانب حکومتی نمائندے ذوالفقار شاہ سے جب اس معاملے پر بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے جو میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا علاج انہوں نے کرنا تھا اب اگر ٹیسٹوں کے بعد انہوں نے علاج سے معذرت کرلی تو سندھ ہسپتال سے علاج کے لیے خط لکھا گیا، جس کا جواب نہیں آیا۔

بقول ذوالفقار شاہ: ’وزیراعلیٰ پنجاب نے تو میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا، اب ڈاکٹرز علاج نہیں کر پائے تو کیا کہا جاسکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت