پاکستانی ہسپتال جو جنگی زخمیوں اور عام شہریوں، دونوں کے لیے ہے

آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن میڈیسن اپنی نوعیت کا واحد ہسپتال ہے جہاں جنگ کے زخمیوں کے ساتھ ساتھ قدرتی معذور یا دیگر حادثات کے متاثرین کی بھی مدد کی جاتی ہے۔

دو دہائیوں سے ملک کو متاثر کرنے والے مختلف تنازعات میں زخمی ہونے کے بعد پاکستانی افواج اور دیگر اداروں کے معذور افراد  آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن میڈیسن (اے ایف آئی آر ایم) کے ایک بڑے ہال میں اوپر نیچے چلتے ہوئے اپنے نئے مصنوعی اعضا استعمال کرنا سیکھ رہے ہیں۔

ان میں سپاہی رئیس خان بھی شامل ہیں جو گزشتہ سال مئی میں کشمیر کے متنازعہ ہمالیہ علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے زخمی ہوئے تھے۔

جب کچھ دن بعد ریئس خان کو فوجی طبی کیمپ میں ہوش آیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کی دونوں ٹانگیں کاٹنی پڑیں گی۔

جولائی میں انہیں اے ایف آئی آر ایم میں منتقل کر دیا گیا، انہیں مصنوعی اعضا لگائے گئے، ان کی انتہائی نگہداشت اور تھراپی کی گئی۔

ایف آئی آر ایم اپنی نوعیت کی واحد جگہ ہے جہاں جنگ کے زخمیوں کے ساتھ ساتھ قدرتی معذور،  سڑک اور دیگر حادثات کے متاثرین کی مدد کی جاتی ہے۔

ریئس خان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’خدا کا شکر ہے، مصنوعی ٹانگوں کی پہلی جوڑی کے ساتھ میں نے چلنا شروع کردیا تھا لیکن پھر زخم بن گئے، لہذا انہوں نے مجھے نیا جوڑا لگا دیا، اب میں بغیر کسی سہارے کے، ان کے ذریعے چلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

پاکستان میں 2001 سے اب تک 10 ہزار سے زائد فوجی مختلف پیشہ ورانہ کارروائیوں کے دوران زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر دھماکہ خیز مواد اور اہلکاروں کے خلاف بارودی سرنگوں کے دھماکوں، سرحد پار فائرنگ اور عسکریت پسندوں کے حملوں کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔

 زیادہ لڑائی لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرحد سے متصل ملک کے شمال مغربی علاقوں میں ہوئی، جہاں القاعدہ، طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں نے پاکستانی ریاست کا تختہ الٹنے کے لیے جنگ شروع کر رکھی ہے۔

حکومت پاکستان کے مطابق 2006 سے 2015 کے درمیان 50 کے قریب عسکریت پسند گروہوں نے پاکستانی ریاست کے خلاف اعلان جنگ کیا اور 16 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے کیے جن میں 80 ہزار ہلاکتیں ہوئیں جن میں ملک بھر میں تعینات فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔

زمینی بارودی سرنگوں اور جنگ کی دھماکہ خیز باقیات کی وجہ سے پاکستان میں ہلاکتوں کی شرح بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

2017 میں135 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں جو دنیا میں سب سے زیادہ  اور عالمی مجموعی تعداد کا 28 فیصد تھیں۔

 اے ایف آئی آر ایم 1985 میں صدارتی حکم نامے کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اس کا

مقصد پاکستان کی بہت سی جنگوں کے ان معذور متاثرین کی مدد کرنا ہے۔

2001 میں ایک آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ کا اضافہ کیا گیا تھا اور اس جگہ  قدرتی معذور، ریڑھ کی ہڈی، سٹروک اور دیگر عوارض  سے متاثرہ فوجی اور سویلین دونوں طرح کے مریضوں کا علاج ہوتا ہے۔

یہاں معذور افراد کے لیے40بستروں کی سہولت موجود ہے اور باہر سے آئے مریضوں کے لیے اضافی 30-40 بستر ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں میں یہاں تقریبا ایک ہزار مصنوعی اعضا لگائے گئے  ہیں جب کہ اس کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ میں  ایک سال میں کم از کم 70 ہزار مریض چیک ہوتے ہیں۔

یہاں2007 میں مصنوعی اعضا تیار کرنے کے لیے ایک مرکز بنایا گیا تھا۔ جہاں مصنوعی اعضا کے پرزے غیر ملکی تیار کردہ پانچ ہزارڈالرز کے مقابلے میں 10,000 روپے (42 ڈالر) تک میں تیار کیے جا سکتے ہیں۔

اے ایف آئی آر ایم کے کمانڈنٹ میجر جنرل ظفر علی نے عرب نیوز کو بتایا کہ اس ادارے کی اچھی بات یہ ہے کہ پورے پاکستان میں ری ہیبلی ٹیشن کے کل تقریبا 60 ماہرین موجود ہیں جن میں سے 46 کو ہم نے یہاں تربیت دی۔

انہوں نے کہا کہ:’ جیسے جیسے مریض بڑھ رہے ہیں ویسے ہی ادارے کو بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔‘

’بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلح افواج کے افراد اور شہریوں کے لیے ایک ہسپتال ہونا، تاکہ انہیں ایک چھت کے نیچے مکمل علاج میسر ہو۔ بنیادی طور پر ہم فوجیوں کا علاج کرتے ہیں لیکن اگر عام شہری آتے ہیں تو یہاں ان کی بھی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔‘

2014 میں یہاں پیشہ ورانہ تربیت کے محکمے کا افتتاح کیا گیا تھا جہاں فوجی کمپیوٹر، ہوزری اور موبائل فون کی مرمت کی مہارت سیکھتے ہیں۔

میجر جنرل ظفر علی نے کہا کہ ’ایک بار جب کوئی شخص معذور ہو جاتا ہے تو معاشرے میں اسے تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہم کیا کرتے ہیں کہ ہم اہلخانہ کو فون کرتے ہیں، انہیں علاج کے منصوبوں میں شامل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم یہاں اس ہسپتال میں انہیں موبائل، ہوزری، کمپیوٹر ٹریننگ پروگراموں میں تربیت دیتے ہیں اور یہ معاشرے ایک مفید رکن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اہلخانہ اور فوج ان کے ساتھ ہیں۔‘

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے لانس نائیک آصف علی 2020 میں کشمیر کی سرحد پر کراس فائر میں زخمی ہوئے تھے اور ان کی ٹانگ ضائع ہوگئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج، ان کی ایک ٹانگ مصنوعی ہے اور وہ اے ایف آئی آ ایم کے پیشہ ورانہ تربیتی مرکز میں موبائل فون کی مرمت کرنا سیکھ رہے ہیں۔

 آصف نے عرب نیوز کو بتایا کہ’ ہم نے اے ایف آئی ایم پی کی مدد کی وجہ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ خدا نے چاہا تو جلد ہی میں اپنے گاؤں واپس جاؤں گا اور وہاں یہ کام کروں گا اور اپنے دوستوں کو بھی سکھادوں گا۔‘

لانس حولدار میر عالم کو2019 میں راکٹ فائر لگنے سے زخمی ہوگئے تھے اور ان ٹانگ کاٹنی پڑی تھی۔ انہیں ممصنوعی ٹانگ لگائی گئی ہے۔

زخمی ہونے سے قبل 13 سال تک فوج میں خدمات انجام دینے والے عالم نے کہا کہ’اب میں یہاں اپنا علاج کرا رہا ہوں، میری ایک مصنوعی ٹانگ ہے، یہ ایڈجسٹ ہو رہی ہے، میں اسے استعمال کرنے کی مشق کر رہا ہوں۔‘

 جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مستقبل میں دوبارہ پاکستان فوج کی خدمت کریں گے تو انہوں نے کہا ’اسی وجہ سے میں نے فوج میں شمولیت اختیار کی: ملک اور قوم کا دفاع کرنے کے لیے۔ میں اپنی مصنوعی ٹانگ کے ساتھ بھی ڈیوٹی کے لیے تیار ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت