سندھ کی پہلی خاتون قبائلی سردار ہیر سوہو کون ہیں؟

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی کے مطابق: ’مجھے قبیلے کے بزرگ پگڑی باندھ کر باضابطہ طور پر سردار بنائیں گے اور یہ رسم رمضان المبارک کے بعد ہوگی، جس میں سندھ بھر سے سوہو برادری کے لوگ شریک ہوں گے۔‘

ہیر سوہو   نے ایگریکلچر میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے (فوٹو: ہیر سوہو ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن سندھ اسمبلی ہیر سوہو کو سوہو قبیلے کا سردار نامزد کردیا گیا ہے۔ ہیر سوہو کے مطابق وہ سندھ میں کسی بھی قبیلے کی پہلی خاتون سردار ہوں گی۔ 

ہیر سوہو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ان کے والد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما محمد اسماعیل سوہو کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد سوہو برادری نے انہیں گذشتہ روز قبیلے کی سردار کے طور پر نامزد کیا۔

 بقول ہیر سوہو: ’میرے والد محمد اسماعیل سوہو قبیلے کے سردار تھے۔ انہوں نے قبیلے کے بزرگوں کو ہدایت کی تھی کہ ان کے انتقال کے بعد ہیر کو سردار نامزد کیا جائے۔ گذشتہ روز قبیلے کے بزرگ حافظ غلام محمد سوہو اور دیگر نے مجھے باضابطہ طور پر قبیلے کا سردار نامزد کیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’مجھے قبیلے کے بزرگ پگڑی باندھ کر باضابطہ طور پر سردار بنائیں گے اور یہ رسم رمضان المبارک کے بعد ہوگی، جس میں سندھ بھر سے سوہو برادری کے لوگ شریک ہوں گے۔‘

سندھ میں کسی قبیلے کی پہلی خاتون سردار کے طور پر نامزدگی پر بات کرتے ہوئے ہیر سوہو نے کہا: ’ہمارے روایتی معاشرے میں جہاں بچیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہے، وہاں ایک خاتون کو قبیلے کا سردار بنانا، جو اپنے قبیلے کے مردوں کے فیصلے کرے گی، ایک نئی تاریخ ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’مجھے سردار بننے پر خوشی سے زیادہ ذمہ داری کا احساس ہورہا ہے۔ میرے لیے یہ ایک چیلنج سے کم نہیں کہ میں منصفانہ فیصلے کروں اور مرد وہ فیصلے مان بھی جائیں۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ میں اس منصب کو خوش اسلوبی سے نباہ سکوں۔‘

ہیر سوہو کے مطابق ویسے تو سندھ کے مختلف اضلاع میں سوہو برادری کی 10 ہزار آبادی ہے، مگر ان کے والد کی سرداری کے زیر انتظام تین ہزار لوگ تھے، جن کی اکثریت ضلع سجاول میں واقع میرپور بٹھورو کی یونین کونسل دریا خان اور یو سی کامارو کے ساتھ زیریں سندھ کے مختلف اضلاع میں ہے۔ 

انہوں نے بتایا: ’میری پوری کوشش ہوگی کہ میں سرداری میں ملنے والے تین ہزار افراد کی تعداد بڑھا کر اس میں برادری کے تمام 10 ہزار لوگوں کو شامل کرسکوں، اس لیے میں جلد ہی اپنی تمام برادری سے ملوں گی اور کوشش کروں گی کہ سب لوگ پگڑی باندھنے کی رسم میں شریک ہوں۔‘

ہیر سوہو کون ہیں؟

ہیر سوہو کا تعلق سندھ کے ضلع سجاول کی تحصیل میرپور بٹھورو سے ہے اور انہوں نے ایگریکلچر میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

46 سالہ ہیر سوہو نے سیاست کا آغاز 2000 میں پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر بلدیاتی الیکشن میں کونسلر بنیں، جس کے بعد انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) میں شمولیت اختیار کرلی۔ 

ہیر سوہو ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر تین بار رکن سندھ اسمبلی رہیں اور 2018 کے الیکشن سے قبل انہوں نے ایم کیو ایم کو چھوڑ کر دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی جوائن کرلی۔ اس وقت وہ پی پی پی کی رکن سندھ اسمبلی ہیں۔ 

ہیر سوہو، سندھ کے معروف ہاری رہنما شہید فاضل راہو کے قریبی ساتھی محمد اسماعیل سوہو کی بیٹی ہیں۔

1980 کی دہائی میں اُس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی، جس کے خلاف پاکستان میں تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کا آغاز ہوا۔ اس دوران کئی سیاسی کارکن روپوش ہوگئے، جن میں ہیر سوہو کے والد محمد اسماعیل سوہو بھی شامل تھے۔ ایک دن محمد اسماعیل سوہو برقعہ پہن کر میرپور بٹھورو آئے اور گرفتاری پیش کردی۔ ہیر سوہو کے مطابق ان کے والد محمد اسماعیل سوہو نے ایم آر ڈی تحریک اور اس کے بعد مختلف اوقات میں 15 سال جیل کاٹی اور ان کے والد کو فوجی حکومت نے 15 کوڑے بھی مارے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے 1970 میں قیام پاکستان کے بعد منعقد ہونے والی پہلے الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے پر کارکنان کی رائے جاننے کے لیے سندھ کے شہر ہالا میں ایک عوامی اجتماع بلوالا، جسے بعد میں ’ہالا کانفرنس‘ کا نام دیا گیا۔ ہیر سوہو کے مطابق اس کانفرنس میں صرف چار مقرر تھے، جن میں محمد اسماعیل سوہو بھی شامل تھے۔

سرداری نظام کیا ہے؟ 

جنوبی ایشیا کے اس خطے میں سرداری نظام کا آغاز بلوچستان سے ہوا، جہاں ایک مخصوص خطے یا مخصوص قبیلے کا سربراہ ایک سردار کو بنایا جاتا تھا۔

سرداری نظام کے زیر انتظام خطے یا قبیلے میں ریاست کے قانون کے بجائے سردار کے فیصلوں کو اہمیت دی جاتی تھی اور کسی بھی معاملے پر جرگہ بلاکر سردار فیصلہ کرتا تھا اور فیصلہ نہ ماننے والے کو سخت سزا دی جاتی تھی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلوچستان میں سرداری نظام ویسے تو صدیوں سے رائج ہے، مگر انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے ان طاقتور سرداروں کو سپورٹ کیا۔

قیام پاکستان کے بعد کئی سالوں تک آمریت کے بعد جب 1970 میں پہلے الیکشن کا انعقاد ہوا تو آہستہ آہستہ یہ طاقتور قبائلی سردار اسمبلی پہنچنے لگے اور انہیں ریاستی طاقت بھی مل گئی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ عوام نے اپنی مرضی سے ووٹ دینا شروع کیے تو سردار کمزور ہونا شروع ہوئے۔ سوشل میڈیا آنے کے بعد سرداری نظام مکمل طور پر کمزور ہوتا جارہا ہے۔ 

دوسری جانب بلوچستان سے سندھ اور جنوبی پنجاب میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ بھی صدیوں سے جاری ہے۔ اس وقت سندھ میں رہنے والے سندھیوں کی اکثریت بلوچوں کی ہے جو اب مکمل طور پر سندھی بن گئے ہیں، مگر ان میں آج بھی بلوچ روایات اور قبائلی رواج موجود ہیں۔ ان بلوچ نژاد سندھیوں کی اکثریت شمالی سندھ میں بستی ہے۔

سندھ کے اصل باشندے ’سماٹ‘ ہیں، جن کی اکثریت جنوبی سندھ یا ذیلی سندھ کے اضلاع میں مقیم ہے۔ سماٹوں میں تاریخی طور پر سرداری نظام کا تصور نہیں، مگر بلوچ نژاد سندھیوں میں آج بھی سرداری نظام موجود ہے، جنہیں دیکھ کر سماٹوں کے کچھ قبائل نے بھی سرداری نظام اپنایا۔ اس کی مثال گھوٹکی کے مہر سردار ہیں، جو اصل میں سماٹ ہیں، مگر قبیلے میں سرداری نظام رائج ہے۔ 

ہیر سوہو کا سوہو قبیلہ بھی سماٹ ہے، مگر ان میں بھی سرداری نظام رائج ہے اور اب ہیر سوہو کو قبیلے کی پہلی خاتون سردار نامزد کرکے ایک نئی تاریخ لکھی جارہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین