روس یوکرین جنگ کے مشرق وسطیٰ پر اثرات

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب امریکہ سے اس بات پر نالاں ہیں کہ واشنگٹن نے ان کے علاقوں پر حوثی حملے رکوانے کے لیے اپنا رسوخ استعمال نہیں کیا۔

یوکرینی دفاعی فورسز کا ایک اہلکار شمالی یوکرین میں 23 مارچ 2022 کو ایک تباہ شدہ سکول کے سامنے کھرا ہے (تصویر: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں۔

 

ان دنوں یوکرین پر روسی حملے کی بازگشت مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں زور وشور سے سنی جا رہی ہے۔ خطے کی قیادت 10 برس سے امریکہ اور روس دونوں کو خوش کرنے میں مصروف تھی لیکن اب انہیں کسی ایک کا ساتھ دینے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، تاہم وہ اس دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اعلانیہ طور پر مشرق وسطیٰ کی قیادت روسی حملے کی مذمت کرتی دکھائی دے گی، لیکن یوکرین پر جارحیت کی پاداش میں وہ ماسکو کو کوئی سزا دینے سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

جنگ کے جلو میں دنیا کو مختلف النوع معاشی حقائق کا سامنا ہے۔ جن ملکوں کو توانائی اور گندم جیسی ضروریات درآمد کرنا پڑتی ہیں وہ اس جنگ سے خود کو زیادہ متاثر خیال کرتے ہیں، تاہم تیل پیدا کرنے والے مشرق وسطیٰ کے ملکوں کو اپنی دولت میں اضافے کی امید ہے کیوں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔

جچی تلی غیر جانبداری

نومبر 2020 کو صدر بائیڈن کی امریکی وائٹ ہاؤس آمد کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے رہنماؤں نے واشنگٹن سے دوستی جو امیدیں باندھیں، وہ بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ اس کے بعد ان ملکوں نے اپنی جچی تلی سفارتی پالیسی کے ذریعے عالمی سیاست میں اپنا مقام پیدا کیا۔

ترکی نے مصر، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل سے رابطے بحال کر لیے۔ دوسری جانب قطر، مصر، سعودی عرب اور ایران کے درمیان بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے۔ ان ملکوں کی حکومتیں نہیں چاہتیں کہ روس کے یوکرین پر حملے سے مذاکرات کا سلسلہ کھٹائی کا شکار ہو اور انہیں پولرائزیشن کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے۔

وہ روس کو کسی بڑی ہزیمت سے دوچار ہوتا بھی نہیں دیکھنا چاہتے کیوں کہ ایسی صورت میں امریکہ کی طاقت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور انہیں پھر سے نئے اتحاد بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ عرب حکمرانوں کی خود انحصاری کی مظہر سفارتی ترجیحات کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتی ہے۔

امریکہ ان دنوں روس کو تنہا کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایران کے مغربی دنیا کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے کوشاں ہے جس سے ایران پر عاید معاشی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ اس کے مقابلے میں عرب حکمران، روس کو زیادہ مضبوط دیکھنے کے خواہش مند ہیں تاکہ ماسکو، ایران کو خطے میں اپنا نفوذ بڑھانے سے روک سکے۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے بائیڈن انتظامیہ سے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں کیوں کہ ان اہم خلیجی ملکوں کو اس بات کا رنج ہے کہ واشنگٹن نے ان کے علاقوں پر حوثی حملے رکوانے کے لیے اپنا رسوخ استعمال نہیں کیا۔

یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں ان ملکوں نے یقیناً مختلف ردعمل ظاہر کیا جس کی شاید دنیا کو توقع نہیں تھی۔ متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں امسال 25 فروری کو قرارداد کے اس مسودے کے حق میں ووٹ دینے سے احتراز کیا جس میں یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کی گئی تھی۔

سعودی عرب اور یو اے ای نے حالیہ دنوں میں اپنی پوزیشن تبدیل کی ہے۔ دو مارچ کو امارات نے یو این جنرل اسمبلی میں یوکرین پر روسی حملے سے متعلق مذمتی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد ابوظبی نے روس اور یوکرین کی قیادت سے دوبارہ بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے انہیں باہمی تناؤ کی حدت کم کرنے کا مشورہ دیا۔

سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکی صدر ولی عہد شہزادہ محمد سلمان سے صرف تیل کی پیداوار بڑھانے کے مطالبے سے بڑھ سنجیدہ بات چیت کا آغاز کریں۔ تاہم قرآئن بتاتے ہیں کہ واشنگٹن، ریاض کی یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

جب سے امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے حریف قطر کی جانب دوستی کا بڑھایا ہے، اس وقت سے ابوظبی کی خارجہ پالیسی میں واشنگٹن بیزاری کا عنصر نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی کیمپ میں جانے سے پہلے امارات کی بھی یہی خواہش ہے کہ واشنگٹن بھرپور سیاسی شراکت داری کے عزم کا اظہار کرے۔

یوکرین پر روسی حملے نے ایران اور ترکی کے ساتھ روس کے اتحاد کی مضبوطی کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔ روس اپنی معاشی تنہائی کے حالیہ دور میں ترکی اور ایران پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں پر ماسکو کے انحصار میں اضافہ ہوا ہے اور روس ان پر اپنا رسوخ کھوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روس اگر یوکرین کی ساحلی پٹی کو اپنے زیر نگیں کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ایسے میں بحیرہ اسود پر ماسکو کا کنٹرول مضبوط ہو جائے گا۔ یہ پیش رفت آگے چل کر ترکی کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان، جنہوں نے ایک مدت تک روس اور واشنگٹن کے درمیان کشیدہ تعلقات سے فائدہ اٹھایا، سمجھتے ہیں کہ نئے تنازع کو وہ انقرہ کے حق میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اردوغان اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کو بھی اشتعال نہیں دلانا چاہتے کیوں کہ کسی بھی قسم کی پابندیوں سے ترکی کی کمزور معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اعلانیہ طور پر ترکی کیئف کی حمایت کرتے ہوئے اسے بغیر پائیلٹ کے ڈورن طیارے فروخت کر رہا ہے جہیں یوکرین حملہ آور روسی فوج کے خلاف  استعمال کر رہا ہے۔ اس کے باوجود انقرہ، روس کے خلاف کسی قسم کی پابندیاں نہیں لگانا چاہتا۔

یوکرین سے متعلق ترکی کی متوازن سفارت کاری پر صدر پوتن کی یقیناً نظر ہو گی جس کا حساب وہ موقع ملنے پر ضرور چکتا کریں گے۔ فی الحال تو پوتن نے بحیرہ اسود کے راستے ترکی پر روس اور یوکرین سے سورج مکھی تیل خریدنے کی پابندی عاید کر رکھی ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے ترک مارکیٹ میں اس اہم جنس کی قلت پیدا ہونا فطری امر ہے۔

ماضی کے مقابلے میں پوتن کو اس وقت اردوغان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیوں کہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ترکی روسی سیاحوں اور سرمایے کے لیے سب سے زیادہ مفید جگہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایسے میں یوکرین پر روس کا حملہ ماسکو اور انقرہ کے درمیان تعلقات میں خرابی کا باعث نہیں بن سکتا۔ ترکی کو ان حالات میں مغرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔

ماسکو ۔ کیئف بحران کے آغاز سے ہی ایران نے بھی کسی ایک فریق کا ساتھ دینے سے متعلق اپنی پالیسی واضح کر دی تھی۔ تین وجوہات کی بنا پر ایران ’نیوٹرل‘ رہنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اولا: ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل سے محاذ آرائی کے وقت ماسکو نے ایران کی حمایت سے احتراز کیا، دوئم: ایران جوہری معاہدے کا احیا چاہتا ہے اسی لیے وہ واشنگٹن کی مخاصمت مول نہیں لینا چاہتا، سوئم: ایرانی رائے عامہ بھی روس ۔ یوکرین جنگ کے حوالے منقسم ہے۔

بعض ایرانی حلقے امریکہ پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب یوکرین سے ہمدردی رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں جو پر زور انداز میں روس سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

روس نے ایران کے جوہری معاہدے کے حوالے سے آسٹریا کے شہر ویانا میں جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہا، جس سے دونوں فریقوں کے متضاد مفادات اور ترجیحات ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان تزویراتی شراکت کے باوجود یہ اختلاف باہمی بد اعتمادی کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایران اور مغربی دنیا کے درمیان جوہری معاہدے کے احیا کی صورت میں تہران اور ماسکو کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔ معاہدے میں ناکامی کی صورت میں ایران، روس سے فاصلے پر رہنا پسند کرے گا۔ ایسے میں یوکرین پر روس کا حملہ صدر بائیڈن کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو جلد بحال کرائے۔

امریکہ اور روس کے حوالے سے یوکرین کے معاملے پر اسرائیل بھی توازن سے عبارت پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ روسی حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے ’یوکرین کے علاقائی استحکام اور خود مختاری‘ کے حق میں بیان کے بعد روس نے جواباً گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کی۔

اسرائیل نے ترکی کی طرح یوکرین کو اسلحہ نہیں بھیجا بلکہ کیئف کی جانب سے اسلحہ اور فوجی ساز وسامان بھیجنے کی یوکرینی درخواست مسترد کر دی۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی اسرائیلی تشویش کے مطابق اگر تل ابیب یوکرین میں جاری جنگ میں عسکری طور پر شریک ہوا، تو خدشہ ہے کہ ماسکو، شامی فضائی حدود میں ایران اور اتحادیوں کو دھمکانے کے لئے اسرائیلی طیاروں کی پروازوں پر روک لگا دے۔

توانائی پالیسی اور فوڈ سکیورٹی

یوکرین پر روسی حملے کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ [مینا] ریجن میں فوڈ سکیورٹی اور تزویراتی آبی گذرگاہوں تک رسائی اور توانائی کی پالیسیوں پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

علاقے کی سیاسی قیادت کی مروجہ غیر جانبداری کی وجہ سے باسفورس اور نہر سوئز سمیت تمام دوسری اہم آبی گذرگاہیں تا دم تحریر روسی بحری جہازوں کے لیے کھلی ہیں، تاہم دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قمیتں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

اوپیک منصوبے کے تحت سعودی عرب تیل کی پیداوار بڑھانے پر مصر ہے۔ ابوظبی نے بھی اس معاملے پر قدرے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ دریں اثنا بائیڈن انتظامیہ روسی تیل کا متبادل تلاش کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے واشنگٹن، وینزویلا سے بھی معاہدے کرنے کے لیے آمادہ وتیار ہے۔

ترکی، روس اور یوکرین کے معاملے پر سفارتی غیر جانبداری دکھا کر ثابت کرنا چاہتا ہے کہ یورپ کے لیے گیس کی فراہمی یونان کے بجائے ترکی کے راستے بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ انقرہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اگر نورڈ سٹریم 2 منصوبہ دوبارہ شروع نہیں ہو پاتا تو ایسے میں روس اور ترکی کے درمیان ترک سٹریم کو یورپ سے ملا دیا جائے۔

یوکرین پر روسی حملے کے عرب دنیا پر گیس کے علاوہ ملے جلے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مصر، تونس، شام اور لبنان میں اس جنگ کے فوڈ سکیورٹی پر منفی اثرات پڑنے کا اندیشہ ہے، لیکن عراق جیسے خلیج تعاون کونسل کے رکن کے لئے یہ جنگ معاشی آسودگی کی نوید ثابت ہو رہی ہے۔

روسی حملے سے تیل اور گندم کی سپلائز متاثر ہونے کی وجہ سے تیل اور مصر میں روٹی کی قیمت میں اضافہ ہونا فطری بات ہے، جس کی وجہ سے کچھ عرب ملکوں میں بدامنی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں روس سے گندم درآمد کرنے والے عرب ملکوں کو فوری متبادل تلاش کرنا ہوں گے۔

روس ۔ یوکرین جنگ کی وجہ سے عراق کو دیگر خلیجی ملکوں اور سعودی عرب سمیت تیل کی قیمتیں بڑھنے کا فائدہ ہوگا۔ ترکی اور ایران بھی اس جنگ سے فائدہ حاصل کرنے والے ملکوں میں نمایاں ہیں کیوں کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ان کے درمیان باہمی تجارت کے حجم میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات روسی سرمایہ کاروں کے لیے کمرشل سینٹر بن کر روس ۔ یوکرین جنگ کے فوائد سمیت سکتا ہے۔

یوکرین پر روسی حملے نے مشرق وسطیٰ میں ماسکو اور واشگٹن کے نفوذ کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے۔ خطے کی قیادت نے متوازن پالیسی اختیار کرتے ہوئے اہم موقع پر اپنی غیر جانبداری برقرار رکھی۔

عرب دنیا امریکہ کی افغانستان سے واپسی اور ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کے احیاء کی کوششوں کو واشنگٹن کی شکست سمجھتی ہے، تاہم اس کے باوجود امریکہ آج بھی خطے کے لیے اہم ملک ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ