جنگ کی تباہ کاریوں میں سفارتی عیاریاں

پس پردہ رہتے ہوئے امریکہ جس طرح کیئف اور ماسکو کی جنگ میں ایندھن جھونک رہا ہے وہ یوکرین کو روس کے لیے دوسرا افغانستان بنا سکتا ہے۔

نو مارچ 2022 کی اس تصویر میں یوکرین کا ایک فوجی دارالحکومت کیئف کے مشرق میں واقع شہر برووری کے باہر پوزیشن سنبھالے بیٹھا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

یوکرین پر روسی حملے میں شدت کے ساتھ امریکہ، فرانس، اسرائیل اور ترکی نے تنازعے کے سفارتی حل کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

روسی قیادت اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر چکی ہے کہ ’کیئف اگر کسی بھی لمحے ماسکو کے مطالبات تسلیم کر لے تو یوکرین پر روسی حملہ روکا جا سکتا ہے۔‘

سفارت کاری کا آغاز کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے مالڈووا سمیت نیٹو کے اتحادی ملکوں پولینڈ، لتھونیا اور لیٹویا کا دورہ کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ روس اگر یوکرین کے خلاف جارحیت سے باز نہ آیا تو ماسکو پر مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ امریکہ، روس سے تیل خریدنے پر پابندی پہلے ہی لگا چکا ہے۔

ادھر ترکی کا یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ رواں ہفتے کے اواخر میں روس اور یوکرین کے وزرائے خارجہ ترک شہر انطالیہ میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ فرانس اور اسرائیل کی قیادت بھی روسی صدر سے بات چیت کر رہی ہے۔

دریں اثنا فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے اتوار کے روز دو گھنٹے فون پر بات کی۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد پوتن سے میکروں کا یہ چوتھا رابطہ تھا۔

میکروں نے بین الاقوامی قانون جنگ کا احترام کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر فوجی کارروائی روکنے کے مطالبے کے ساتھ یوکرین میں ایٹمی تنصیبات کی حفاظت پر زور دیا۔

فرانس کے پاس روس کو مائل کرنے کے لیے اگرچہ کوئی تیر بہ ہدف گیدڑ سنگھی نہیں، تاہم مغربی دنیا کی اہم فوجی طاقت ہونے کے باعث ماسکو سے برابری کی سطح پر بات کر رہا ہے۔

روسی صدر کی نفسیات کو سمجھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ پوتن صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ میکروں روسی صدر سے رابطہ فرانسیسی صدر کی حیثیت میں کرتے ہیں، وہ یورپ کے نمائندہ بن کر روس سے بات نہیں کرتے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی روس یوکرین تنازع حل کے لیے جاری سفارت کاری مہم کے سلسلے میں ہفتے کے روز ماسکو کا خفیہ دورہ کیا۔

کریملن میں تین گھنٹوں پر محیط نفتالی ۔ پوتن ملاقات روس اور اسرائیل کے درمیان اچھے تعلقات کی غمازی کرتی ہے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی خود بھی یہودی ہیں، تاہم ان کے متعدد مقربین خاص کی اسرائیلی شہریت انہیں صہیونی ریاست کی آنکھوں کا تارا بنانے کے لیے کافی ہے۔

اسرائیل کو یوکرین میں بسنے والے دو لاکھ سے زائد یہودیوں کا تحفظ بھی عزیز ہے، جسے وہ ثالثی کے شوق میں قربان کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ادھر ماسکو اور تل ابیب کو شام میں ایرانی رسوخ کے خلاف مشترکہ اقدام کی خاطر ایک دوسرے کا تعاون درکار ہے۔ کئی معاملات میں اسرائیل کا روس پر انحصار ہے۔

شام میں سکیورٹی رابطہ کاری ہو یا ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات، اسرائیل اس حوالے سے روس کے ساتھ میز پر بیٹھا نظر آتا ہے۔ جنگ کے دوران ایک ثالث کے طور پر سامنے آنا، خود اسرائیل کے لیے بھی بارودی سرنگ ثابت ہو سکتا ہے۔

یوکرین اور روس تنازعے کے حل کی خاطر جاری سفارتی کوششوں کا تیسرا اہم پڑاؤ انقرہ ہے۔ ترکی کے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انقرہ نے حال ہی میں یوکرین کو ڈرون فروخت کیے، جس پر ماسکو نے ناک بھوں چڑھائی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سفارتی کوششوں کے ضمن میں جس فون کال کے ذریعے صدر پوتن کے ذہن میں پکنے والی کھچڑی سے متعلق آگاہی ملتی ہے، وہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے اپنے روسی ہم منصب کو کی گئی تھی۔

صدر اردوغان نے ولادی میر پوتن پر زور دیا کہ وہ ترک میزبانی میں انسانی راہداری کھولنے کے لیے امن معاہدے پر دستخط اور فائر بندی کا اعلان کریں۔

کریملن نے صدر پوتن کے جواب سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا: ’اس جنگ سے باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یوکرین ہتھیار پھینک کر سپر ڈال دے۔ کریملن کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کی ضمانت دی جائے۔ یوکرین نیوٹرل رہنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اعلان کرے کہ وہ نیٹو کا ممبر کبھی نہیں بنے گا۔‘

پوتن چاہتے ہیں کہ کرائمیا کے 2014 میں روس میں انضمام کے بعد سے اسے روس کا حصہ تسلیم کیا جائے۔

ترکی کو شام میں روس کے ساتھ بھی اپنی تال میل برقرار رکھنا ہے تاکہ وہاں شامی کردوں کے حوالے سے کسی متوقع صورت حال سے نمٹا جا سکے۔

مزید برآں ترکی یوکرین پر روسی تسلط اس لیے بھی نہیں دیکھنا چاہتا کیوں کہ اس طرح ماسکو کو بحیرہ اسود تک رسائی ملنے سے انقرہ کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ادھر لیبیا اور کاکیشیا میں بھی روس اور ترکی کے مفادات کا ٹکراؤ ایک لٹکتی تلوار ہے۔ گذشتہ برس انقرہ اور ماسکو کے درمیان تجارتی توازن 30 ارب ڈالر تک جا پہنچا تھا اور رواں برس اس میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

یوکرین کو نیٹو کا رکن بنانے سے متعلق روسی خدشات میں یہ نقطہ اہمیت کا حامل ہے کہ کیا امریکہ، میکسیکو کو روس یا چین کے فوجی یا سکیورٹی اتحاد میں شمولیت کی اجازت دے گا؟ یقیناً نہیں دے گا۔

ایسے میں یورپ یوکرین کو نیٹو کی رکنیت دلوانے کی جو کوششیں کر رہا ہے، وہ ماسکو کی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور رضاکارانہ سفارت کاری میں مصروف تمام ملک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔

روس اور یوکرین حالیہ تنازع کے ضمن میں سفارتی کوششوں سے باخبر سیاسی پنڈت سمجھتے ہیں کہ سفارتی مذاکرات سے جنگ کی حدت کم کرنے میں مدد سکتی ہے لیکن جہاں تک یوکرین کے حوالے سے سیاسی نوعیت کے روسی مطالبات کا تعلق ہے، انہیں سفارت کاری کا ڈول ڈال کر شاید حل کرانا ممکن نہیں۔

قرائن بتاتے ہیں کہ یورپ خود بھی یوکرین کی مدد میں ایک خاص حد سے آگے جانے میں دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ نو فلائی زون جیسے اقدامات کو ماسکو اعلان جنگ تصور کرتے ہوئے کہیں شورش کو یورپ کے دوسرے ملکوں تک نہ پھیلا دے۔

سفارت کاری کے میدان میں فرانس، اسرائیل اور ترکی کی طرف سے دوڑائے جانے والے گھوڑے ہر ملک کے مخصوص مفادات کی وجہ سے سرخ ریچھ کی یوکرین میں بڑھتی پیش قدمی روکنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں کیا روسی اور یوکرینی صدر کے درمیان براہ راست ملاقات کوئی معجزہ دکھا سکتی ہے؟ ہر گز نہیں!

بعض سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ صرف ولادی میر پوتن اور جو بائیڈن کے درمیان براہ راست ملاقات ہی یوکرین میں جنگ کی تباہ کاریاں رکوا سکتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت امریکہ پس پردہ رہتے ہوئے جس نوعیت کی چال چل رہا ہے اس کے نتیجے میں یوکرین روس کے لیے دوسرا افغانستان بن سکتا ہے۔


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر