پوتن کو امریکی سہولت کاری کا سہارا

روس اور چین انکل سام کو ’اٹلانٹک پاور ہاؤس‘ کے طور پر محدود کرنا چاہتے ہیں، تاکہ واشنگٹن کی سازشوں کے تانے بانے یوکرین اور تائیوان سے پرے دوسرے علاقوں تک نہ پھیل سکیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن   (بائیں) اور روسی صدر ولادی میر پوتن  (دائیں)۔  یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ روسی صدر پوتن امریکی ورلڈ آرڈر تبدیلی کا بھاری فریضہ واشنگٹن کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر انجام دے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایران میں 2009 کے دوران اعتدال پسند حکومت کے قیام کی کوشش میں بپا ہونے والے ’سبز انقلاب‘ کے دوران سینکڑوں افراد تہہ تیغ ہوئے تو براک اوباما کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے ’ولی الفقیہ‘ کے ایما پر ہونے والے صریح مظالم پر خاموشی اختیار کرنے میں عافیت جانی۔

سیاسی گونگے پن کا بھونڈا جواز پیش کرتے ہوئے اوباما کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکی صدر اعتدال پسند (ایرانی) مظاہرین کی حمایت میں بیان دیتے تو سبز انقلاب کی اپنے خون سے آبیاری کرنے والوں کو دنیا کٹھ پتلی قرار دیتی۔ اس کے بعد تہران حکومت مظاہرین پر بغاوت اور بے وفائی کا الزام لگا کر انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے میں ذرا دیر نہ لگاتی۔‘

تہران کے سیاسی افق پر چھائے مایوسی کے بادل چھٹتے ہی دنیا کو امریکی انتظامیہ کی ’منطق‘ سمجھ آنے لگی۔ اوباما کی قیادت میں امریکی انتظامیہ تہران سے ایک بڑا ’سودا‘ کرنے جا رہے تھی، جس کی وجہ سے ایران میں خون کی ہولی پر واشنگٹن میں خاموشی کا راج تھا۔

امریکہ کی طویل خاموشی اور ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کے درمیان جو کچھ ہوا، وہ اب سربستہ راز نہیں رہا۔

ایران سمیت دنیا بھر کی عفریت نما عوام دشمن حکومتوں کو انعام واکرام سے نواز کر واشنگٹن نے دنیا کے سامنے اپنی ساکھ اور اعتباریت کھو دی، جس سے امریکی ’ورلڈ آرڈر‘ کا وہ بت پاش پاش ہوگیا جسے امریکہ نے 1950 سے کامیابی کے ساتھ دنیا پر حکومت اور اپنے اتحادیوں کو قائل اور مائل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

انکل سام  نے عراق سے انخلا کی صورت میں اپنے ہی تخیلق کردہ ورلڈ آرڈر کو دوسری طلاق دی۔ امریکی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈیوڈ پیٹرس براک اوباما اور اپنے درمیان ہونے والے ایک مکالمے کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈیموکریٹ پارٹی کے نمائندے کے طور پر اوباما صدارتی امیدوار تھے۔‘

ڈیوڈ پیٹرس کے بقول: ’میں نے باراک اوباما کو خبردار کیا کہ عراق سے امریکی انخلا کا مطلب ایران کا غلبہ ہو گا،‘ تو جواباً سابق امریکی صدر گویا ہوئے: ’میں وہ نقشہ دیوار پر دیکھ رہا ہوں۔‘

اوباما اپنے ڈپلومیٹک بیان کے ذریعے یہ باور کرانا چاہ رہے تھے کہ وہ عراق کے اندر ایرانی مفادات سے آگاہ ہیں، اسی لیے وہ اپنے پیش رو صدر جارج بش کے عراق میں فوجی ماڈل کو سفارتی کوششوں سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ عراق سے امریکہ کا مکمل انخلا اس حقیقت کا غماز بنا کہ امریکہ یک قطبی دنیا کے نظریے کو خیرباد کہتے ہوئے کثیر قطبی دنیا کی سمت قدم بڑھانا چاہتا ہے۔

امریکہ کی سہولت کاری کی تاریخ کا تیسرا پڑاؤ شام ٹھہرا، جہاں اپوزیشن کی جدوجہد کو دبانے کی غرض سے بشار الاسد نے ظلم کے وہ پہاڑ توڑے کہ الحفیظ الامان۔ براک اوباما، بشار الاسد کو خبردار کرتے ہوئے ’سخت کارروائی‘ کی دھمکی دیتے ہیں۔

اس بیان کے ذریعے امریکہ بشار الاسد کو پیغام دیتا چاہتا تھا کہ بین الاقوامی توازن کو خراب کرنے والی کوششیں قابل قبول نہیں ہیں، تاہم یہ دھمکی بشار الاسد کو مسند اقتدار سے ہٹانے پر منتج نہ ہو سکی۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی لفظی گولہ باری کے بعد شام میں آگ اور خون کا جو بازار گرم ہوا، اس کی حدت آج بھی شام کے سرد ترین موسم میں محسوس کی جا رہی ہے۔

رپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امریکی سیاست دانوں کی کثیر تعداد نے امریکی انخلا سے متعلق اوباما کی پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ساری دنیا کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ نظریہ اور سوچ گوشہ عافیت میں بیٹھے سی این این کی سکرینوں کے اسیر امریکی عوام میں انتہائی مقبول ہوا۔

امریکی خارجہ پالیسی کے مضمرات جاننے کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین کے بعد شام میں دور رس نتائج کے حامل اقدامات کے لیے پیش قدمی شروع کی۔ پوتن ایک عرصے سے بین الاقوامی سیاست کو اپنے من پسند نئے ضوابط سے تبدیل کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔

لبرل ورلڈ آرڈر کی ’فاتحہ‘ کے بعد سے وہ کئی مرتبہ ایسے بیانات دے چکے تھے، جن میں ان کی اس خواہش کا اظہار ملتا تھا۔

واشنگٹن انخلا کے جواز تلاش کرنے کی خو میں صرف بلند وبانگ بیانات کے ذریعے امریکی رائے عامہ کو ہم آواز بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں اور روسی، شام کے دلدلی علاقے میں اپنی موت آپ مر جائیں گے، جیسے بیانات اور بد دعاؤں کی قبولیت کی امید لیے ہزاروں بے گناہ شامی منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکی خارجہ پالیسی کا کینوس کنفیوژن سے ہی عبارت رہا، جس میں مفادات، پالیسیوں پر حاوی رہے۔ یورپی اتحادی ہمیشہ سے امریکی ورلڈ آرڈر کا اہم ستون رہے، لیکن زود رنج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے سینگ پھنسا لیے۔

چین کو قابو کرنے کی لگن میں انہوں نے روس کے ساتھ پینگیں بڑھائیں کیونکہ امریکہ چین کو اپنا اہم سٹریٹیجک دشمن خیال کرتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کی گردن مڑور کر شمالی کوریا سے راہ ورسم بڑھائی اور ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں سے کشیدہ تعلقات بحال کیے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں شامل حکومتی کارپرداز خود صدر سے زیادہ ورلڈ آرڈر کی اہمیت سے آگاہ تھے، بالخصوص ان کے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو ایران کو پکا دشمن جانتے تھے، اسی طرح ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن نے طالبان سے ہاتھ ملانے سے انکار کرکے اس گروپ سے متعلق امریکیوں کی ناپسندیدگی کا عملی ثبوت پیش کیا۔

دوسری مرتبہ امریکی صدر بننے کی خواہش میں ڈونلڈ ٹرمپ ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے نعرے کے اسیر ہو کر بیرونی دنیا کی اہمیت اور تعلقات سے بے نیاز ہو چکے تھے۔ انہیں بیرونی دنیا کے معاملات سے صرف اس حد تک دلچپسی رہی کہ جن سے امریکہ کو مالی منفعت پہنچ سکے اور ایسے تعلقات امریکی عوام اور کمپنیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کے حصول میں مددگار ہو سکیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے معاونین ان سے زیادہ زیرک ثابت ہوئے کیونکہ وہ اس ورلڈ آرڈر کو من وعن برقرار رکھنے کے خواہش مند تھے کہ جس نے ایک وقت میں دنیا کو تبدیل کرکے رکھ دیا تھا۔

موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کا دور حکومت بھی ماضی سے زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی خارجہ پالیسی آج بھی مشکلات کا شکار ہے۔ نظریاتی طور پر بائیڈن لبرل ازم کے حامی دکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ یورپ سے تعلقات کے قیام میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ افغانستان سے انخلا امریکہ کی داخلی سیاست کی ضرورت تھی لیکن جس بھونڈے انداز میں اسے عملی جامہ پہنایا گیا اس سے سارا کھیل تلپٹ ہوگیا۔

جو بائیڈن سیاستدان ہیں اور دوسری مرتبہ صدر بننے کی خُو میں وہ امریکہ کے تاریخی کردار کو فراموش کرتے ہوئے کچھ بھی ماننے اور کر گزرنے کو تیار ہوسکتے ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ اس اعلان کی صورت میں دیکھنے کو مل سکتا ہے کہ اگر صدر بائیڈن دوسری مرتبہ امریکی قیادت کے منصب پر فائز ہوتے ہیں تو ایسے میں امریکہ دنیا پر حکمرانی کا خواب ترک کرسکتا ہے۔

ہر نئے امریکی صدر کی وائٹ ہاؤس آمد پر سر اٹھانے والے متضاد خیالات اور نظریات اور خود واشنگٹن کے اندر پیدا ہونے والی افراتفری کو دیکھتے ہوئے چین اور روس کے اقدامات کے جائزے سے کئی سربستہ رازوں سے پردہ ہٹا جا رہا ہے۔ چین اپنے منصوبوں سے متعلق کارڈز کو سینے سے لگا کر کھیلنے کا عادی ہے۔

یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ دونوں صدور 70 سالہ امریکی غلبے کو ختم کرتے ہوئے اسے ’اٹلانٹک پاور ہاؤس‘ کے طور پر محدود کرنا چاہتے ہیں، تاکہ واشنگٹن اپنی سازشوں کے تانے بانے یوکرین اور تائیوان سے پرے دوسرے علاقوں تک پھیلانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

طاقت کی لڑائی کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس کا جواب ملنا ابھی باقی ہے، تاہم یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ روسی صدر پوتن امریکی ورلڈ آرڈر تبدیلی کا بھاری فریضہ واشنگٹن کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر انجام دے رہے ہیں۔ امریکی سہولت کاری کا شکریہ!

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ