’جو میں کر رہی ہوں وہ کئی مرد نہیں کرسکتے‘: پشاور کی خاتون موچی

افغانستان سے تعلق رکھنے والی گل بشرہ کے مطابق وہ چھوٹی سی تھیں جب انہوں نے پشاور شہر کے ایک موچی سے یہ ہنر سیکھنا شروع کیا تھا، تاہم تب انہیں یہ علم نہیں تھا کہ کسی دن اسی ہنر کی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا جلتا رہے گا۔

گل بشرہ کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندھار سے ہے، جہاں سے انہوں نے دیگر ہزاروں افغان باشندوں کی طرح ملکی حالات کی وجہ سے پاکستان نقل مکانی کی (فوٹو: انیلا خالد)

پشاور کے علاقے چوک یادگار کی ایک مصروف شاہراہ پر بیٹھی برقع پوش خاتون موچی گل بشرہ کی کہانی سن کر مشہور ضرب المثل کو تبدیل کرکے کچھ یوں کہا جاسکتا ہے کہ ’ہمت انساں، مدد خدا‘۔

 ساتھ ہی اس بات پر بھی یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ اگر انسان ہمت کرے تو کم از کم اسے بھیک مانگنے اور کوئی غلط راہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

گل بشرہ کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندھار سے ہے، جہاں سے انہوں نے دیگر ہزاروں افغان باشندوں کی طرح ملکی حالات کی وجہ سے پاکستان نقل مکانی کی۔

گل بشرہ کے مطابق وہ چھوٹی سی تھیں جب انہوں نے پشاور شہر کے ایک موچی سے یہ ہنر سیکھنا شروع کیا تھا، تاہم تب انہیں یہ علم نہیں تھا کہ کسی دن اسی ہنر کی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا جلتا رہے گا اور انہیں کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔

پھٹے پرانے پیوند شدہ نیلے برقعے میں ملبوس گل بشرہ پچھلے کچھ سالوں سے روزانہ سڑک کنارے بیٹھ کر نہ صرف جوتے پالش کرتی ہیں، بلکہ ان کی مرمت بھی کرتی ہیں، تاہم دیگر موچیوں کی طرح ان کے پاس زیادہ اوزار اور سامان نہیں ہے۔

گل بشرہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ بیوہ ہیں اور ان کا اور ان کے بچوں کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول گل بشرہ: ’لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے پہلے کسی خاتون موچی کو نہیں دیکھا، میں کہتی ہوں جو میں کر رہی ہوں وہ کئی مرد نہیں کرسکتے۔‘

گل بشرہ نے بتایا کہ وہ کرائے کے ایک مکان میں رہتی ہیں اور مزدوری کرکے نہ صرف گھر کا کرایہ بلکہ اپنے بچوں کی ضروریات بھی پوری کرلیتی ہیں۔

’میرے بچے مدرسے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جب میرے شوہر فوت ہوئے تب ہی میں نے موچی گری شروع کی، لیکن وہ جہاں بھی بیٹھتیں، انہیں وہاں سے اٹھا دیا جاتا۔ بالآخر ایک درویش صفت آدمی نے خدا کی رضا کے لیے مجھے اپنی دکان کے سامنے بیٹھنے کی اجازت دی۔‘

گل بشرہ نے کہا کہ باہر کی دنیا میں جہاں برے لوگ ہیں، وہاں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا: ’کئی لوگوں کا دل نرم پڑ جاتا ہے اور وہ صرف اس لیے جوتے پالش کروانے آجاتے ہیں تاکہ میرا روزگار چلتا رہے اور ایک دو پیسے کما سکوں۔‘

ایک قدامت پسند علاقے میں خاتون کا گھر سے باہر نکلنا اور مزدوری کرنا بہت مشکل کام ہے اور ایسی عورت کو بہت سے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن گل بشرہ کی ہمت ہے کہ وہ کسی کی پروا کیے بغیر روزانہ سینکڑوں مردوں کے بیچ بیٹھ کر اپنی اور اولاد کی ضروریات زندگی پوری کرنےکے لیے کمر بستہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین